خواتینصفحہ اول

پیسوں کی ماں کو ضرورت ہے

تحریر: صبا احمد، کراچی

کراچی میں ہر زبان نسل رنگ مذہب اور خطے کے لوگ بستے ہیں۔ ہماری آنٹی شیبا آغاخانی ہماری پڑوسن ہے۔ بہت نرم مزاج سب کے ساتھ مل جل کر رہنے والی دوبیٹے امریکا میں سیٹ ہیں۔ ان کے پاس ایک سال رہ کر آئی بہوئوں نے کہا انہیں ہم اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے۔ اولڈ ہوم میں بھیج دیں، وہ واپس پاکستان آگئیں کہ اگر اولڈ ہوم میں ہی رہنا ہے تو یہاں اپنوں کے ساتھ رہوں گی۔ اپنی تنہائی دور کرنے کے لیے اپنے گھر کا پورشن کرائے پر دے دیا تاکہ تنہا نہ رہے۔

بچوں کے ہوسٹل میں جاتی ان کے ساتھ تفریح کرتی ان کو فوڈ پانڈا سے ان کی پسند کے کھانے کھلاتی بچے جو پیسے بھیجتے غریب لوگوں میں تقسیم کردیتی کے مجھے بیٹوں کے پیسے کی ضرورت نہیں ان کی ہے مدر ڈے پر ہی ملنے آجائیں سال میں ایک مرتبہ دو ہفتوں کے لیے میرے لیے شوہر کا گھر اور پینشن ہی کافی ہے۔ کبھی کبھی سبزی کے ٹھیلے پر ملاقات ہوجاتی تو خوب باتیں کرتی اور میں بھی سن لیتی کے تنہا ہے۔

اکثر فوڈ پانڈا سے ایک لڑکا جمشید آتا ڈلیوری کے لیے اسے پیار کرتی۔معمول کی طرح وہ مدر ڈے پر ان کے بچوں کی طرف سے ڈلیوری لے کر آیا جو انہوں نے امریکہ سے آڈر کی ۔وہ باہر لینے آئیں تو پرس اندر بھول گئی دوبارہ لیے کر آنے میں دیر ہوگئی تو جمشید بے چین ہو رہا تھا آنٹی بہت دیر لگادی میری امی اسپتال میں ہیے۔ ان کا آپریشن ہے آفس سے تنخواہ لے کر فیس جمع کرانی ہے۔ اس کی آنکھیں بھر آئیں ورنہ میری امی کا پتے کا اپریشن نہیں ہو گا اگر میں وقت پر نہ پہنچا ۔آنٹی سن کر پریشان ہوگی آنٹی نے کہا 20 ہزار میں تمہاری امی کا آپریش کیسے ہوگا۔

آنٹی پہلے ایڈوانس دے دوں باقی میری بہن لون لے گی۔ آنٹی نے پرس سے 50 ہزار نکال کر جمشید کو دیے کے بچوں نے مجھے بھیجے ہیں مگر یہ میرے کس کام کے بیٹوں کے بغیر جاؤ تمہاری ماں کو اس کی ضرورت ہے کیونکہ تمہیں اپنی ماں کی ضرورت ہے آنٹی بھیگی آنکھوں سے اندر چلی گئی اور جمشید کی آنکھیں بھی اشک بار تھی مہربانی کے آنسوؤں سے وہ موٹر سائکل اسٹارٹ کر کے ہوا کی طرح اسپتال بھاگا۔ میں باہر کھڑے سب سن رہی تھی انسانیت کمیونٹی نہیں دیکھتی صرف محبت وخلوص۔

میں انہیں اکثر قرآن پاک کی تلاوت کی آڈیو میں بھیج دیتی وہ سنتی ترجمعہ وتشریح اور کہتی مجھے سکون ملتا ہے انہوں نے نماز سیکھی اور مسلمان ہوگئی۔

Back to top button

New Report

Close