تبصرہصفحہ اول

جیو ڈرامہ “تیرے بن” بیوی کا تھوکنا، ازدواجی ریپ

جیو انٹرٹینمنٹ سے نشر ہونے والا ڈرامہ سیریل بے پناہ مقبول

تبصرہ: سائرہ حسن

حالیہ دنوں جیو انٹرٹینمنٹ سے نشر ہونے والا ڈرامہ سیریل ” تیرے بن ” عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل کر رہا ہے ۔ اس کی بڑی وجہ اس ڈرامے کے دو مرکزی کردار ہیں ، وہاج علی جو اس ڈرامے میں “مرتسم خان” کا کردار نبھا رہے ہیں جو ایک نڈر ، اصولوں کا پکا اور انصاف پسند وڈیرا ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مخلص اور محبت کرنے والا شوہر بھی ہے ، جو اپنی بیوی کی ہر زیادتی ہر بدتمیزی اور بدمزاجی یہ سوچ کر برداشت کرتا ہے کہ بیوی کو اس کی مرضی کے بغیر زبردستی شادی کرکے اس رشتے میں باندھ دیا گیا۔ دوسرا مرکزی کردار بیوی یعنی ” میرب ” کا جو یمنی زیدی کر رہی ہیں ، ایک ایسی لڑکی دکھائ جس کو اس کے باپ نے نہیں بلکہ باپ یا تایا کے دوست نے پالا اور جوان ہونے پر پتہ چلتا ہے اسے کہ یہ اصلی ماں باپ نہیں ، پھر زبردستی اس کے کزن مرتسم خان سے شادی کر دی جاتی ہے ۔ شادی کے بعد کی جتنی کہانی اب تک کی اقساط میں دکھائ گئ ہے اس میں جس قسم کا رویہ بیوی کا اپنے شوہر کے ساتھ دکھایا گیا ، شروع میں کہیں نہ کہیں وہ ٹھیک لگا کہ ایسے میں لڑکی حقیقتاً بھی ذہنی اور جسمانی طور پہ بکھر کے رہ جاتی ہے۔

لیکن !!!!! مصنفہ سے ایک سوال یہ ہے کہ جب اس سارے عرصے میں ایک اس کا شوہر ہی تھا جس کو دکھایا گیا کہ وہ اپنی بیوی کی ہر زیادتی ہر بدتمیزی ہر ضد کو نہ صرف صبر سے جھیلتا ہے بلکہ ساری دنیا خصوصاً اپنی ماں سے بھی اس کے لیے لڑ کے اسے سپورٹ کرتا ہے ، اس کے باوجود ، پچھلی چھیالیس قسطوں میں بیوی نہ اپنے اس شوہر کی عزت یا قدر کر رہی ہے نہ اس کے سامنے اپنے کسی عمل پہ شرمندہ ہوتی ہے بلکہ الٹا یہ دکھایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے عاشق سے ملنے کو بھی اپنے میاں کے سامنے ڈھٹائ سے جسٹفائ کر رہی ہے !!!! اور ناراض ہو رہی ہے کہ شوہر نے اس پہ بات کرنے کی جرات بھی کیسے کی !!!!؟؟؟؟؟ یہ کیا رویہ ہے ؟؟؟ کیا بیوی ایسی ہونی چاہیے ؟؟
اور گزشتہ قسط میں تو ساری حدیں ہی پار کر دی گئ ہیں ، کہ وہی شوہر جس نے بیوی کی ڈھال بننے میں کوئ کسر اٹھا نہیں رکھی ، میرب اپنے شوہر کو تھپڑ بھی مارتی ہے !!!! اور اس کے منہ پہ تھوکتی بھی ہے !!!!
حد پہ حد یہ ہے کہ شوہر کے ساتھ ہر قسم کی زیادتی کرنے کے بعد بھی بیوی معصوم ہے ، وہ کسی لحاظ سے غلط نہیں ہے!

سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا دین ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بیوی کو ایسا ہونا چاہیے ؟
پہلی بات ، بیوی کو ہر حال میں شوہر کی عزت اور اطاعت کرنی ہے ، دوسرے یہ کہ جب لڑکی شادی کے وقت رضامندی ظاہر کرتی ہے تو اس کا فطری مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ اس لڑکے یعنی اپنے شوہر سے ہر قسم کا تعلق بنانے پہ راضی ہے ۔ پھر marital rape جیسی ہندوؤانہ رسم کو اسلامی معاشرے میں دکھا کر اس پہ ذہن سازی کیوں کی جا رہی ہے ؟

شوہر کی تعظیم ہر حال میں لازم ہے ، کہاں کہ جب شوہر ہی ںیوی کا واحد مضبوط سپورٹ سسٹم ہو تب بیوی کا اتنا تزلیل آمیز رویہ سمجھ سے باہر اور مصنفہ + پروڈکشن ہاؤس کی سوچ پہ سوالیہ نشان ہے ؟؟
مزید یہ کہ اس طرح کی کہانیوں کے منظر نامے کے بعد معاشرہ اگر بگاڑ کی سمت بڑھے تو کیا یہی لوگ اس بگاڑ کی ذمہ داری اپنے سر لیں گے ؟؟
سوچیے ضرور اس بارے میں ۔۔

Back to top button

New Report

Close