خواتینصفحہ اول

مساوات مرد و زن (طیبہ علی)

انسان کی تکمیل میں عورت کو اول روز سے ہی بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ عورت کے بغیر تخلیق ادھوری ہے، ناممکن ہے. اس دنیا میں تخلیق کا وصف اللہ نے اپنے علاوہ صرف عورت کو عطاء کیا ہے۔اسلام میں بھی عورت کے حقوق اور فرائض پر خاصی فوقیت دی گئی ہے ۔ اس کی الگ حیثیت اور رتبہ مقرر کیا گیا ہے۔ اور ہر رتبہ کی اپنی اہمیت ہے ۔ نہ مرد کو عورت پر کوئی زور زبردستی کا اختیار ہے نہ عورت کو مرد پر حاکمیت کا کوئی تصور ہے۔ دونوں کا اپنا ایک مقام ہے لیکن گناہوں کے نتیجے میں سزا دونوں کی سخت ہے۔ موجودہ دور میں میڈیا اس حد تک ترقی کر چکا ہے کہ اب لوگ میڈیا کے زیر اثر ہی زندگی گزار رہے ہیں۔ گو کہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے خاصی تباہی پھیلائی ہے۔ اس جدت پسندی کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ اب بائیں بازو کی لبرل جماعتیں ہر سال عورت کے حقوق کے حوالے سے کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑتی رہتی ہیں . کبھی آٹھ مارچ کو ڈی چوک پر واہیات نعرے اور کبھی ان جلوسوں، مظاہروں کی آڑ میں ازواج مطہرات کی شان میں گستاخی جسے عرف عام میں عورت مارچ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو سارا سال پس پردہ کاروائیاں کرتا ہے اور آٹھ مارچ کو عالمی یوم خواتین پر یہ طبقہ اسلام آباد کی سڑکوں پر اپنے بے بنیاد حقوق کے لئے صدائیں لگاتا نظر آتا ہے۔ان کے پوسٹر پر لکھے واہیات کلمات ، بے ہودہ لباس ، عامیانہ گفتگو اور لبرل کا ایجنڈا اور اس پر مستزاد پاکستان میں عورت کی حالت کا رونا ،جھوٹا پروپیگنڈا کرنا ۔ مرد کی برابری اور اسے نیچا دکھانے کے عزائم اس سارے کام کی سرپرستی یہودی این جی اوز کرتی ہیں۔ جنہیں یورپ سے فنڈنگ ہوتی ہے اور اس کے ماسٹر مائنڈ بھی وہیں سے نیٹ ورک چلا رہے ہیں ۔ ان لوگوں کے بقول پاکستان میں عورت کے حقوق غصب کیے جاتے ہیں ۔ اسے ترقی کے وہ مواقع ویسے میسر نہیں جیسے مرد کو ہیں ۔ گھریلو عورت پر مرد حاکم ہے وغیرہ وغیرہ ۔ سچ تو یہ ہے کہ سارا طبقہ مذہب بیزار ہے۔ اسلام میں عورت کے حوالے سے جو احکامات ہیں یہ اسے چیلنج کرتا ہے اور ان کا زور چلے تو یہ خدانخواستہ اس میں بھی ردوبدل کریں ، حقیقت یہ ہے کہ “میرا جسم میری مرضی” کا سلوگن لانے والی جماعت نہیں جانتی کہ اسلام میں عورتوں کو کیا اہمیت حاصل ہے؟؟ اسلام نے سارے مواقع اور حقوق دیے ہیں اب اگر معاشرہ دینے میں ناکام ہے تو یہ لوگوں کی سوچ کا نتیجہ ہے۔ یہ طبقہ اس ڈگر پر نکل پڑا ہے جسے یورپ میں ترقی کہا جاتا ہے. لیکن یہ ترقی نہیں تباہی ہے نسلوں کی اور معاشرون کی .عورت اور مرد کی برابری کے چکر میں مغرب اتنا آگے چلا گیا کہ وہاں پر عورت اب اس برابری کی کرچیاں سمیٹنے میں مصروف ہے ۔ عورت کو شو پیس بنا کر رکھ دیا گیا ہے ۔ اسے مار کیٹ میں برانڈ سیلر بنا دیا ۔ جبکہ اسلام میں عورت کو گھر کی زینت قرار دیا ہے۔ اس برابری کی دوڑ میں عورت اتنا تیز بھاگی کہ اب بری طرح ہانپ رہی ہے۔سارا دن گھر سے باہر رہ کر کما رہی ہے مختلف جگہوں پر نوکری کرتی ہے کہ اپنے گھر والوں کے اخراجات اٹھا سکے ۔ گدھے کی طرح کام کرتی ہے۔ باہر مرد کی ہوس کا بھی شکار ہے۔یورپین ممالک میں جنسی ہراسانی، جنسی زیادتی اور غلط معاشرتی رویوں کی شرح یہاں سے کہیں زیادہ ہے۔ وہاں خاندانی نظام کی دھجیاں اڑا دی گئیں ہیں ۔ عورت کو جدید اور ترقی یافتہ بنانے کا یہ نتیجہ نکلا کہ بہت سے بچے یہ نہیں جانتے کہ ان کے ماں باپ کون ہیں ؟؟ اب بہت سے بچے اس سلسلے میں بھی مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں کہ انہیں ان کے اصل ماں باپ کا پتہ دیا جائے ۔یہ بھی اسی ترقی کا نتیجہ ہے جو ہمارے بے وقوف لوگوں کو طلسماتی کشش لیے نظر آتی ہے ۔ عورت جن لوگوں کے لئے کھلونا ہے ، دل بہلانے کا ذریعہ ہے وہ معاشرے لاکھ ترقی پسند اور جدید ہوں لیکن ہمیشہ اخلاقی پستی کا شکار ہی رہیں گے۔ مغرب اور بہت سے اخلاقی اور معاشرتی مسائل میں اچھی خاصی عزت کما رہا ہے ۔ اب اسی ڈگر پر مشرقی اور خاص طور سے پاکستانی معاشرے کو برباد کرنے کی ٹھان لی ہے. پاکستان یہود و ہنود کی آنکھوں میں اول روز سے ہی کھٹکتا ہے, کیونکہ یہ اسلام کے نام پر بننے والی ریاست ہے لہٰذا یہاں نقب لگانے کی ٹھان لی گئی ہے. عورت مارچ کے سرکردہ یورپ میں بیٹھے ہیں اور وہاں سے لبرل ازم کا یہ سفر جاری ہے۔ عورت کو مرد کی برابری اور اس پر برتری کا سبق پڑھانا ہے ۔اسلام ایک کامل دین ہے اس میں دونوں کے حوالے سے الگ اور جامع احکامات موجود ہیں مرد کو عورت کا سرپرست اور گھر کا سربراہ بنایا نان نفقہ دینے کی ذمہ داری اس کی ، کما کے لانا اس کے ذمے ،حلال ذرائع سے کمائے اور اپنے گھر والوں کو کھلائے۔ ہاں البتہ دونوں کو کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کی ترغیب دی گئی ہے ایک دوسرے کے مسائل سمجھنے کی اور مشکلات میں مدد کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ عورت کو اللہ نے مرد کا بہترین ساتھی اور وفادار دوست بنا کر بھیجا ہے۔عورت نسلوں کی معمار ہے ۔ بچوں کی بہترین تربیت اور گھر کی عزت کی حفاظت اس کے ذمہ ہے ۔ اس طرح دونوں مل کے بہترین خاندان اور معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں لہٰذا اسلام میں مساوات کا یہ تصور پیش کیا گیا ہے جو بہت سیدھا اور آسان ہے. اب آپ اس کا مغربی مساوات سے موازنہ کر لیجیے کہ کیا بہتر ہے؟مغرب نے مساوات کا جو تصور پیش پیش کیا اور جو آپ کا دین پیش کر رہا ہے خوبصورت کونسا ہے؟ حضرت خدیجۃ الکبرہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہترین ازدواجی زندگی گزاری وہ تجارت بھی کرتی تھیں۔ نبوت جیسے عظیم مشن میں ان کے شانہ بشانہ رہیں ، ان کا حوصلہ بڑھاتی رہیں، عورتوں میں سب سے پہلے ان پر ایمان لائیں ۔ حضرت خدیجہ نے تمام مسلم عورتوں کے لئے جو ماڈل پیش کیا وہ رہتی دنیا تک کوئی اور نہیں کر سکتا۔ مسلم عورتوں کو اپنا رول ماڈل امہات المومنین کو بنایا چاہیے نہ کہ مغرب کو جس کی مساوات نے مرد اور عورت دونوں کو تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو جو عزت، مقام دیا۔ جو رتبہ متعین کیا ۔ کوئی اور اس سے پہلے آج تک نہ کر سکا اسلام سے پہلے عورت ذلیل تھی۔ عرب میں بیٹی کی پیدائش پر اسے دفنانا معمول تھا۔ اسلام کے ذریعے عورت کو وقار ملا اور یہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عورتوں پر احسان ہے کہ انہوں نے عورت کو ان پرانی رسومات سے نجات دلائی جس کی وجہ سے عرب بد نام تھے۔

Back to top button

New Report

Close