شرم و حیا اور جدت پسندی (کرن فاطمہ)
جدت پسندی انسان کی فطری خواہش اور لائق تحسین جذبہ ہے۔ اگر دیکھا جائے تو آج انسانی ترقی کا سارا دارومدار اسی جذبہ کی بدولت ہے۔ انسان کی ساری کی ساری مادی ترقی کا راز ہی یہی ہے کہ وہ ”جدت پسندی“ اور ”خوب سے خوب تر“ کی تلاش میں رہتا ہے۔ پتھر کے دور سے نکل کر ایٹم بم کا دور، اونٹوں اور بیل گاڑیوں سے خلائی جہاز تک کاسفر، مواصلات کے جدید ترین وسائل ہوں یا نت نئی سائنٹفک ایجادات سب کے پیچھے یہی جذبہ کارفرما ہے۔
اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس نے کسی بھی ”جدت“ پر کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے بلکہ وقت اور زمانے کے لحاظ سے صحیح مقاصد کے لیے صحیح حدود میں رہ کر جدت پسندی کی ہمت افزائی کی ہے لیکن ہرجدید چیز صرف نئی ہونے کی وجہ سے قابل تحسین یا قابل تردید نہیں ہے بلکہ ایک معیار تو عقل کی کسوٹی ہے جس کی بنیاد پر ہرانسان اچھے اور برے ہونے کے معیار کو پہچان سکتا ہے لیکن چونکہ ہر انسان کی عقل دوسرے سے مختلف ہے تو جدت پسندی کی رو میں اچھے اور برے ہونے کا معیار عقل پر نہیں چھوڑا جا سکتا ورنہ متضاد آرا کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر صحیح غلط کا فیصلہ کرنا ہی دشوار ہو جائے۔ انسانیت کی نجات کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ ہر نئے طور طریقے کو ظاہری چمک دمک کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس پر جانچا جائے کہ وہ اللہ اوراس کے رسولﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہے یا نہیں؟ ہر وہ عمل جو شریعت کے خلاف ہے قابل مردود ہے۔ اس لیے کسی بھی نئی چیز کو اختیار کرنے میں وحی الٰہی کی روشن تعلیمات کا اتباع جوں کا توں کرنا ضروری ہے۔
شرم وحیا کی پاسداری اور بے حیاءسے اجتناب اسلام کے اولین اور اہم مقاصد میں داخل ہے۔ رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ: ”بے شک ہر دین کی کچھ امتیازی خصوصیات ہیں اور اسلام کی امتیازی خصوصیت حیا ہے۔“ (مشکوة المصابیح)
حیا اور پاکدامنی ایمان سے تعلق رکھتی ہیں ان سے دنیا میں کمی اور آخرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے شرم وحیا کے تصور کو تار تار کر کے فحاشی کو اختیار کیا ہے تو زوال اس کا مقدر بنا ہے۔ شرم وحیا ہی جس انسان میں نہیں ہو گی تو ہر بےہودگی اور فساد کرنے کو تیار رہے گا۔ حیاءاس کیفیت کا نام ہے جو بندے کو ہر اس کام سے روک دے، جس کو کرنے کے بعد بندے کو ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑے۔ معاشرے میں فساد کی جڑ بے حیاءاور بے راہ روی ہے۔ حیا ہی وہ صفت ہے جس کی وجہ سے انسان برائی سے اجتناب کرتا ہے اور پاکیزہ معاشرے پروان چڑھتا ہے۔ ہر نیکی، بھلائی اور اچھے کام کی بنیاد حیا پر ہے۔ اسی لیے رسول پاکﷺ نے فرمایا: ”جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو۔“ (صحیح بخاری)
جب انسانوں میں حیا نہیں رہے گی تو اس میں حیوانی جبلت غالب آ جائے گی اور حیوانوں جیسی زندگی گذارنا پسند کرے گا،کوئی برائی اس کے لیے برائی نہیں رہے گی۔
جدت پسندی نے انسان کو جہاں مادی ترقی کی دوڑ میں آگے کیا ہے، آرام اور آسائش کی بہتر سے بہتر سہولیات مہیا کی ہیں وہیں معاشرے کو جدیدیت کے نام پر شرم و حیا سے عاری کر کے اخلاقی پستی، تنزلی اور ذلت کی عمیق گہرائیوں میں جا پھینکا ہے۔ لوگوں نے جدت پسندی اور روشن خیالی کے نام پر معاشرے سے اخلاق و شرافت کے سارے اوصاف لوٹ کر حیوانیت اور درندگی کے ان راستے پر ڈال دیا ہے جن کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں، جدیدیت کے نام پر مغربی معاشرے میں ہم جنس پرستی، فحاشی، عریانی، بے راہ روی اور بے حیائی کی ساری شکلیں عام ہیں۔ اس کے برے اثرات نے صرف اہل مغرب کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو اپنے حصار میں لے لیا ہے جس کی وجہ سے انسانیت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ اخلاقی قدریں پامال ہو گئی ہیں۔
آج مسلمانوں میں جدیدیت کے نام پر جو بے حیائی در کر رہی ہے وہ دراصل دین اسلام سے ناواقفیت اور اس کے دورس نتائج سے لاعلمی ہے۔ جو لوگ بے حیائی کو فروغ دے رہے ہیں وہ خیر سے کتنے دورہیں۔ ان میں نور ایمان کا چراغ بجھا بجھا سا ہے۔ رسول اللہﷺ نے حیاءکو ایمان کی ایک (اہم) شاخ اور حصہ قرار دیا گیا ہے۔ (سنن نسائی) حیا تو ایک ایسا وصف ہے جو جتنا زیادہ ہو خیر ہی بڑھاتاہے۔ اسی لیے نبی کریمﷺ نے فرمایا: ”حیا صرف خیر ہی لاتی ہے“۔ (مسلم)
دور جدید کے باشعور مسلمان قرآن اور حدیث کے احکامات اور مغربی تمدن و معاشرت کے نظریات اور نتائج دیکھ کر خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ مسلم اقدار پر سمجھوتا کر کے جدت پسندی اور ترقی کے نام پرمغربی طرز زندگی اختیار کرنے میں سوائے خسارہ کے اور کچھ نہیں۔ جدت پسندی آج کے معاشرے کی اہم ضرورت ہے اور ہمیں آگے بڑھنے کے لیے اس کی ضرورت ہے لیکن ہماری ”جدت“ اسلامی روایات کے مطابق ہی ہونی چاہیے ناکہ ہم مغربی تہذیب کی چکاچوند سے متاثر ہو کر
بے راہ روی کا لبادہ پہن کر اسے جدیدیت کا نام دے دیں۔