شرم و حیاء

شرم و حیاء اور جدت پسندی (حمیرا شہزادی)

اسلام دین فطرت اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔ انسان کو ایسے طریقے اور اصول بتاتا ہے جن پر چل کر انسان کامیابی سے منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے۔ حیا بھی اسلام کے بنائے گئے بنیادی اخلاق میں سے ہے۔ دین میں اس کی اتنی اہمیت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسے ایمان کا جزو قرار دیا۔ فرمایا: ”حیا ایمان کا ایک حصہ ہے۔“ ( متفق علیہ)

حیا اور ایمان لازم و ملزوم ہیں۔ جس شخص میں ایمان ہوگا اس میں حیا بھی لازمی ہوگی۔ جس میں حیا نہیں اس میں ایمان کی بھی کمی ہوتی ہے۔ گویا حیا ایک مومن کی خاص صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نہ صرف اشرف المخلوقات بنایا بلکہ بہت ساری خوبیوں سے بھی مزین فرمایا۔ ان میں سے ایک خوبی شرم و حیا ہے۔ دین اسلام نے حیا کی اہمیت کو کافی اجاگر کیا ہے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے: ”حیا خیر ہی کا موجب ہوتی ہے۔“ (متفق علیہ)

انسان جس قدر باحیا ہوگا اس کی زندگی اتنی ہی خیر برکت اور سکون والی ہوگی۔ حیا کی وجہ سے انسان جنت کا حقدار بنے گا۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ ”حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں جانے کا سبب ہے۔ بے حیائی جفا ہے اور جفا جہنم میں جانے کا سبب ہے۔“

حیا کی وجہ سے انسان کے اعمال و افعال اور سیرت و کردار میں حسن و جمال پیدا ہوتا ہے۔ حیا جیسی نعمت سے محروم ہونا بہت بڑی نعمت سے محروم ہونا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرتے پھرو“ (رواہ البخاری)

حیا ہی وہ صفت ہے جس کے سبب انسان پاکیزگی اور پاکدامنی کی زندگی بسر کرتا ہے۔ دین اسلام کی امتیازی شان یہ ہے کہ اس نے مرد و عورت کے لیے کچھ حدود قائم کی ہیں۔ یہ حدودانسان کی عزت و عظمت، وجاہت، شان و شوکت اور پروقار شخصیت کی محافظ ہیں۔ پاکیزہ لوگوں سے ہی پاکیزہ معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی نظر کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ حیا ایسی کیفیت کا نام ہے جو بندے کو عیب والے کاموں سے دور رکھتی ہے۔ جس سے انسان برے اعمال چھوڑ دیتا ہے۔

بڑے ہی لطف کی بات ہے کہ حیا نہ صرف تمام انبیا کرام علیہم السلام بلکہ اللہ تعالیٰ کی بھی صفت ہے۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ ”بے شک تمہارا پروردگار بہت حیا والا اور کریم ہے۔“

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس چیز کے اندر فحاشی آجائے تو اس کے اندر عیب آ جاتا ہے اور حیا سے کسی بھی چیز کو خوبصورتی مل جاتی ہے۔“

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول کریم ﷺ اس دوشیزہ سے بھی زیادہ باحیا تھے جو اپنے پردے میں ہوتی ہے۔ “(صحیح بخاری)

رسول اللہ ﷺ یہ دعا کیا کرتے: ”یا اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، پاکدامنی اور لوگوں سے بے نیاز ہونے کا سوال کرتا ہوں۔“(صحیح مسلم 2721)

قرآن پاک میں بھی ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”تحقیق کامیاب ہو گئے وہ مومن جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔“(مومنون۔1)

آیت مبارکہ میں مومن کی زبردست صفت پاکدامنی کو فلاح و کامیابی کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ فلاح ایسی کامیابی کو کہتے ہیں جس کے بعد ناکامی نہ ہو اور ایسی خوشی جس کے بعد غم نہ ہو۔

حیا اور ایمان کا وہی تعلق ہے جو روح اور جسم کا ہے۔ قرآن مجید میں بھی حیا کا تذکرہ ملتا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے حضرت شعیب علیہ السلام کی بکریوں کو پانی پلایا۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیوں نے جا کر اپنے والد شعیب علیہ السلام کو سب کچھ بتایا۔ انہوں نے کہا اس آدمی کو میرے پاس لے آﺅ، چنانچہ ان کی ایک بیٹی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس انہیں بلانے کے لیے اتنے شرم وحیا سے آئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تعریف قرآن پاک میں ان الفاظ میں بیان کی ہے: ”وہ حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آرہی تھی۔“ (القصص۔25)

جو کوئی بندہ پاکدامن ہو تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ ”جو مرد اور عورت اپنی شرمگاہوں کی (زنا وغیرہ) سے حفاظت کرتے ہیں اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرتے ہیں تو اللہ ان کی بخشش فرماتا ہے، اور ان کو بہت بڑا اجر بھی عطا کرتا ہے۔“ (الاحزاب)

حضرت یوسف علیہ السلام کو جب گناہ کی دعوت دی گئی اور پھر آپ پہ الزام لگایا تو آپ نے جیل جانا منظور کرلیا لیکن اپنی عزت و عصمت کا سودہ کرنے پہ راضی نہ ہوئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کو باعزت بری کرنے کے ساتھ ساتھ مصر کا بادشاہ بھی بنا دیا۔ تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے سارے بدن کو حیا و پاکدامنی کا مسکن بنا لیں۔ ہر اس کام سے اپنے اعضا کو روکے رکھیں جن کی شریعت میں ممانعت آئی ہے۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اتنے با حیا تھے کہ فرشتے بھی ان سے حیا کرتے تھے۔ خاتون جنت سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا اس قدر شرم وحیا کا پیکر تھیں کہ انہوں نے اپنے جنازے کو بھی رات کو اٹھانے کی وصیت فرمائی تاکہ کسی جنازے پر بھی کسی غیر مرد کی نگاہ نہ پڑے۔ ہم ان کی محبت کا دم تو بھرتے ہیں لیکن ان کی سیرت پہ چلنا ہمارے لیے دشوار کیوں ہو رہا ہے؟ المیہ یہ ہے کہ جدت پسند اور ماڈرن کہلانے کے شوق نے ہماری بہنوں اور بیٹیوں کے سروں سے دوپٹہ چھین لیا ہے۔ ہمارے بھائی فیشن کی آڑ میں ٹخنے ڈھانپ کر سنت کی کھلی خلاف ورزی کررہے ہیں۔

مسلمان اپنی اقدار و روایات کو بھول چکے ہیں۔ وہ مغربی تہذیب کے دلدادہ ہو گئے ہیں۔ وہ مغربی تہذیب جہاں عریانی وفحاشی کا ایک سیلاب ہے، جس میں مغربی معاشرہ مکمل طور پہ ڈوب چکا ہے۔ اسلام نے کسی جدید اقدام پر جدید ہونے کی حیثیت سے کوئی اعتراض نہیں کیا؛ بلکہ صحیح حدود میں رہ کر صحیح مقاصد کے لیے جدت پسندی کی ہمت افزائی کی ہے۔ جدت پسندی دو دھاری تلوار کی طرح ہے جو نافع بھی ہوسکتی ہے اور مضر بھی۔ جدت کو پرکھنے کے لیے کہ وہ فائدہ مند ہے یا نقصان دہ۔ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ شریعت کے احکامات کے مطابق ہے تو قابل قبول ہے اور اگر شریعت کے احکامات کے خلاف ہے تو اسے چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔ بعض لوگ فحاشی و عریانی ، بے پردگی، مخلوط تعلیم اور بے حیائی کو ترقی کا زینہ سمجھتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کی کھل کرمخالفت کرنی چاہیے، تاکہ فحاشی و عریانی کو کنٹرول کیا جا سکے کیونکہ ہر مذہب کا ایک خاصہ ہوتا ہے اور اسلام کی خوبی حیا ہے۔ جدت پسندی سے جہاں انسان کو بہت ساری سہولیات ملی ہیں۔ وہاں اس نے بہت سارے نفسانی امراض میں بھی مبتلا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شرم وحیاءاور پاکدامنی والی زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین

Back to top button

New Report

Close