18برس ائر پورٹ پر رہنے والا شخص مرگیا

فرانس کے ائیرپورٹ پر 18 برس زندگی گزارنے والا ایرانی شہری 76 برس کی عمر میں انتقال کرگیا۔
بی بی سے کے مطابق مہران کریمی نصیری نے سفارتی معاملات میں الجھنے کے بعد 18 برس سے فرانس کے دارالحکومت پیرس کے چارلس ڈی گال ائیرپورٹ کے ایک چھوٹے سے حصے میں 1988 میں اپنا گھر بنالیا تھاجہاں وہ گزشتہ روز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔
1945 میں ایران کے صوبے خوزستان میں پیدا ہونے والے مہران کریمی نصیری نے پہلے اپنی والدہ کی تلاش میں یورپ کا سفر کیا تھا۔انہوں نے کچھ عرصہ بلیجیم میں گزارا، امیگریشن کی درست دستاویزات نہ ہونے کے سبب انہیں برطانیہ، نیدرلینڈرز اور جرمنی سے بے دخل کر دیا گیا، جس کے بعد وہ فرانس گئے اور ایئرپورٹ کے 2 ایف ٹرمینل کو اپنا مسکن بنا لیا۔
رپورٹ کے مطابق جس بینچ پر وہ لیٹتے تھے، اس کے ارد گرد ٹرالیاں اور دیگر ساز و سامان تھا جو انہوں نے جمع کیا تھا، انہوں نے اپنے دن اپنی زندگی کے بارے میں لکھنے، کتابیں اور اخبار پڑھ کر گزارے۔

کریمی نے برطانیہ اور یورپ کے کئی ممالک میں بطور سیاسی پناہ گزین درخواست دی لیکن انہیں ناکامی ہوئی تاہم بیلجیئم میں اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی نے ان کی درخواست قبول کرلی لیکن کریمی سے ان کا بریف کیس جس میں ان کا پناہ گزین سرٹیفکیٹ موجود تھا پیرس اسٹیشن پر چھین لیا گیا جس کے بعد فرانس کی پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا اور پھر مہران نصیر کریمی کو کاغذی دستاویز موجود نہ ہونے کے باعث کہیں بھی ڈی پورٹ نہ کیا جاسکا ۔
فرانس کے اخبار لبریشن نے رپورٹ کیا کہ 1999 میں فرانس کی جانب سے مہاجرین کا درجہ دینے کے باوجود وہ ایئر پورٹ پر 2006 تک مقیم رہے ۔
مہران کریمی کی کہانی سے متاثر ہو کر 2004 میں فلم ‘ٹرمینل’ بنائی گئی، جس میں مرکزی کردار ٹام ہانکس نے ادا کیا تھا۔ پناہ گزین دستاویز مل جانے کے باوجود مہران کریمی نے فرانس کا اسٹیشن چھوڑنے سے انکار کردیا اور بعد ازاں 2006 تک زندگی کے 18 برس ائیرپورٹ پر گزارے جس کے بعد بیمار ہونے پر انہیں پیرس کے ایک شیلٹر منتقل کردیا گیا تھا لیکن وہ گزشتہ روز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔