قانون توہین رسالت کا مذاق بنانے والے اسلام کے باغی ہیں، علماءمشائخ

کراچی: مختلف مکاتب فکر کے جید علماء مشائخ و اقلیتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قانون توہین رسالت کا مذاق بنانے والے اسلام کے باغی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انجمن حسینیہ گلگت ویلفیئر مسجد و عزاء خانہ ابوطالب سولجر بازار کے زیر اہتمام ”قانون توہین رسالت کا مذاق بنانے اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل جاوید قمر باجوہ پر من گھڑت خواب کی بنیاد پر توہین رسالت کا الزام لگانے کے خلاف مختلف مکاتب فکر کے جید علماء مشائخ و اقلیتی رہنماؤں کی مشترکہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاہے کہ باغیان ختم نبوت شاتمان رسالتؐ کے خلاف ہر سطح پر محاسبہ کیاجائے گا۔
محافظ ملک و ملت آرمی چیف کی کردار کشی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، امریکہ،اسرائیل، بھارت و استعماری دشمن قوتیں افواج پاکستان کو متنازعہ بنا کر درحقیقت ملکی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنا اور ملک کو کمزور و منتشر کرکے اپنا محکوم بنانا چاہتی ہیں۔جنرل جاوید قمر باجوہ سچے عاشق رسولؐ اور ایٹمی پاکستان و عوام کے محافظ و پاسدارہیں۔
تمام محب وطن مسالک و مکاتب اور اقلیتی مذاہب کے ماننے والے علماء و رہنما اور غیور عوام افواج پاکستان کے شانہ بشانہ اور سازشوں کے خلاف متحد و بیدار ہیں۔
ہنگامی مشترکہ پریس کانفرنس کرنے والوں میں میزبان علامہ ڈاکٹر فیصل مہدی شایاری،خطیب اہل بیت علامہ آغا محمد عباس شاکری، متحدہ علماء محاذ کے سرپرست مولانا جعفرالحسن تھانوی،آل سندھ علماء ذاکرین فیڈریشن کے سربراہ علامہ سید سجادشبیر رضوی،اہل سنت عالم دین علامہ ڈاکٹر شاہ فیروز الدین رحمانی،متحدہ علماء محاذ کے بانی سربراہ مولانا محمدامین انصاری،متحدہ علماء محاذ کے وائس چیئرمین پاکستان مسلم لیگ فنکشنل ضلع ساؤتھ کے صدر سید محمد خرم شاہ جیلانی و دیگر شاملت تھے۔
پریس کانفرنس میں دہشت گردی،فرقہ واریت، مذہبی منافرت، ہندوستان میں توہین رسالت،فلسطین و کشمیر پر اسرائیلی، بھارتی وحشیانہ مظالم کی شدید مذمت کی گئی اورچیف آف آرمی اسٹاف جنرل جاوید قمر باجوہ و افواج پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیاگیا ہے۔