
آپ میں سے اکثر لوگوں نے نو عمر، نوجوان، نو بیاہتا، نو دولتیے کے الفاظ تو سنے ہوں گے مگر “نو انگریزیے” کا لفظ شاید ہی کبھی سنا ہو، سن بھی کیسے سکتے ہیں کیونکہ یہ ہماری اپنی اصطلاح ہے۔
اس اصطلاح کو سمجھنا ہر گز مشکل نہیں ۔۔۔ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے یہ وہ لوگ ہیں جو کہیں سے ہماری طرح دوچار انگریزی کے الفاظ رٹ لیتے ہیں اور پھر ہر آئے گئے پر اپنی انگریزی کا رعب جھاڑتے رہتے ہیں۔۔۔۔ جیسا کہ ہم نے کسی پر اپنا پڑھا لکھا ھونے کا رعب جھاڑنے کے لئے اپنی بی اے کی ڈگری کا بتا دیا تو جواب ملا ارے آپ نے صرف انگریزی کے پہلے دو حرف پڑھے ہیں اور وہ بھی الٹے۔۔۔۔ اسے کہتے ہیں ایسے کو تیسا۔
اب ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ہماری اتنی شاندار انگریزی سن کر لوگوں کو۔ وٹ کیوں پڑ جاتے ہیں۔۔۔ یہ وٹ ھے تو پنجابی والا، مگر ھم پنجابی اسے انگلش میں بھی استعمال کر لیتے ہیں جیسا کہ کسی پنجابی طالب علم کو انگلش ٹیچر نے وٹ (What) پر جملہ بنانے کو کہا تو جملہ کچھ یوں بنایا۔۔۔۔ Today I feel وٹ (درد) in my… پیٹ
مگر اس کے باوجود ہم انگریزی بولنے کے بہت شوقین ہیں اور خاص طور پر جب کوئی ھمارے سامنے انگریزی بولے تو ھمارے دماغ میں کھجلی سی ھونے لگتی ھے۔۔۔ ( اس لئے کہ دماغ ہمیں آرڈر دیتا ھے جلدی سے جواب دو) جو چار الفاظ یاد ہیں وہ بھی کہیں اپنی شناخت نہ کھو دیں۔
اس کے باوجود ہمیں ان لوگوں سے چڑ ھے جو متکبرانہ انگلش بول کے اپنا رعب جھاڑنا چاھتے ہیں ہم پر۔۔۔۔ سو ایسے لوگوں کو ہم اپنی پنجابی سے مار دیتے ہیں کیونکہ ہماری پنجابی اتنی (ٹھیٹھ) ہے کہ اس کے سامنے باقی پنجابیاں بھی پانی بھرتی نظر آتی ہے۔ اب جس کو یہ ٹھیٹھ لفظ سمجھ نہ آیا ہو وہ اسے کسی نو انگریزیے کے لئے سنبھال کے رکھ لے۔۔
ایک مرتبہ، کسی دینی محفل میں ھمیں ایسی ھی نو انگریزی بہن سے واسطہ پڑگیا۔۔۔۔ اب محفل خالصتاً دینی ھو اور وھاں پر کوئی خوامخواہ ھی اپنی انگریزی کا رعب جھاڑنا شروع کر دیے تو بہت سے لوگ تو اسکی مسلمانی پر ھی شک کرنے لگتے ہیں۔۔۔
قصہ مختصر۔۔۔ دینی بیان کے بعد جیسے ھی کھانا پیش کیا گیا تو وہ صاحبہ اپنی دوست سے بولیں۔۔۔ مجھے ذرا سپون پکڑانا۔۔۔ مجھے رائس کھانے ہیں۔۔۔۔
اب ایسے میں قریب تھا کہ ھم اسکی انگریزی سے متاثر ھو کر اس کی شاگردی اختیار کر لیتے ۔۔۔۔کہ ھماری وہ باجی جو ابھی بیان کرکے فارغ ھوئی تھیں اپنے ساتھ بیٹھی بہن سے بولیں۔۔۔ زینب ذرا کاشَتْ نپائیں ناں۔۔۔ میں فِرنی کھا گھناں۔۔۔ ( زینب ذرا چمچ پکڑانا، میں کسٹرڈ کھا لوں) ۔۔۔
اب تو اس نو انگریزی بہن پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔۔۔۔۔ کہ ایک عالمہ باجی جو بہترین لہجے میں بات کرتی ہیں وہ ایسی ٹھیٹھ پنجابی بھی بول سکتی ہیں۔۔۔۔
بس اس کے بعد کسی اور کا ھمیں پتہ نہیں۔۔۔ مگر ھم نے کم ازکم اسے اپنے یا باجی کے سامنے انگریزی بولتے نہیں دیکھا۔۔۔۔
سو ھم تو یہی سمجھتے کہ ولایتی زبان کا توڑ ھمیشہ دیسی زبان ھی ھوا کرتی ھے۔۔۔۔
سو اس انگلش اینٹی زبان کو ترقی دیجئے تاکہ ھمیں انگریز اور انگریزی کی غلامی سے نجات ملے۔۔۔۔
مگر ایک ھماری آخری نصیحت سنتے جائیے، انگلش بولنا چھوڑ دیجئے مگر پڑھنا پڑھانا کبھی مت چھوڑیے گا،۔۔۔ کہ یہ جہاں ھمارے لئے ھے ھم نہیں، جہاں کے لئے۔۔۔۔
اور ھم تو خیر امةٍ ہیں ناں۔۔۔۔ تو سب دنیا کو پنجابی اردو میں دین کی تبلیغ کیسے کریں گے۔۔۔۔؟؟؟
نوٹ: رائٹرز کلب اور اس کی پالیسی کا اس تحریر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ writerscpk@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔