شاعریصفحہ اول

مجھے وہ ہمیشہ یاد آ جاتا ہے

عشاء مقبول

مجھے وہ ہمیشہ یاد آجاتا ہے

لکھتی ہوئی تحریروں میں

سنتے ہوئے کلاموں میں

بدلتے ہوئے موسموں میں

کِھلتے ہوئے پھولوں میں

ٹوٹے ہوئے پتوں میں

چلتی ہوئی ہواؤں میں

گَرجتے ہوئے بادلوں میں

بَرستی ہوئی بارشوں میں

ہسنتے ہوئے چہروں میں

روتی ہوئی آنکھوں میں

سوتے ہوئے خوابوں میں

کبھی فجر کی اذانوں میں

کبھی تہجد کی دعاؤں میں

کبھی بیٹھے ہوئے دوستوں میں

کبھی خلوت میں کبھی جلوت میں

کبھی دیکھتے ہوئے خوش لوگوں کو

کبھی دیکھتے ہوئے غریب لوگوں کو

کبھی روتے ہوئے بچوں میں

کبھی ہسنتے ہوئے لوگوں میں

کبھی بہار میں کبھی خزاں میں

کبھی اکتوبر میں کبھی نومبر میں

کبھی دسمبر کی خاموش راتوں میں

کبھی اُجرتے ہوئے دلوں میں

کبھی بڑھتے ہوئے زخموں میں

کبھی ملتے ہوئے لوگوں میں

کبھی بِچھڑتے ہوئے لوگوں میں

کبھی بدلتے ہوئے رنگوں میں

کبھی چلتے ہوئے دریاؤں میں

کبھی اپنی حالت کو دیکھ کر

کبھی اپنی بے بسی کو دیکھ کر

کبھی ہنستے ہوئے

کبھی روتے ہوئے

مجھے وہ ہمیشہ یاد آجاتا ہے

 

جواب دیں

Back to top button

New Report

Close