شرم و حیا اور جدت پسندی (فوزیہ تنویر)
شرم و حیا کا جذبہ انسان کے ظاہر و باطن کو حسین تر بنا دیتا ہے۔ پیدا کرنے والے خالق و مالک سے عشق کا تقاضا ہے کہ بندہ مومن ہر وہ کام کرنے میں شرم محسوس کرے جو رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔ یہی احساس حیا کے زمرے میں آتا ہے۔ آج کے دور میں یہ سوچ عام ہے کہ زمانے کے ساتھ چلنا ہے تو شرم و حیا کو ایک طرف رکھنا ہوگا حالانکہ شرم و حیا کے تقاضے قدیم اور جدید کی منطق سے ماورا ہوتے ہیں۔ اللہ کے بندے ہر دور میں اپنے آپ کو حیا کے لبادے میں قید رکھنے میں ہی اپنی عافیت جانتے ہیں۔
آج کے دور میں جب ہر چیز کھل کر سامنے آگئی ہے تو شرم و حیا کے تقاضے بدل گئے ہیں۔ انسان کے رویوں میں فرق آ گیا ہے۔ ہم والدین اور اساتذہ کے سامنے سر اٹھا کر بات نہیں کر سکتے تھے لیکن آج کے بچے آنکھوں میں آنکھیں ملا کر بات کرتے ہیں اور اس بے باکانہ رویہ کو آزادی اظہار سمجھتے ہیں۔ اب تو ہر چیز میں جدیدیت کی مہر لگا دی گئی ہے۔ باطنی حیا اور شرم کا تصور تو ماند ہی پڑ گیا ہے لیکن ظاہری اور جسمانی حیا بھی جدت پسندی کی آڑ میں تار تار کردی گئی ہے۔ عورت کو ہی خاص طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن دوسری طرف ہمارا دین ہر مرد و عورت کو سر تا پا حیا کے خول میں بند رکھنا چاہتا ہے۔ کیونکہ یہی فلاح و کامیابی کا راستہ ہے۔
دنیا بھر کے مسلمانوں کو دیکھ لیں ان کی اکثریت مغرب کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔ وہ مغربی قومیں جن کا کوئی مقصد زندگی نہیں ہے۔ جو بظاہر خوشبو میں بسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے باطن تعفن زدہ ہوتے ہیں۔ جو بے لباسی کو فیشن گردانتے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل فخریہ ان اقوام کی اصول پسندی کے گن گاتے نہیں تھکتی۔ ارے آپ بھی ان جیسا بن کے دکھا دو! وہ قومیں خود تو لباس سے عاری ہو ہی گئی ہیں، مسلمان نسلوں کو بھی بے لباسی کا عادی بنا دیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ایسی ایسی خرافات مسلم معاشروں میں پھیلائی گئیں کہ جن کے اثرات سے ہماری نئی نسلیں بے حیاءکی دلدل میں پھنستی چلی جارہی ہیں۔
قوموں کے زوال پذیر ہونے میں سب سے بڑا سبب بے حیائی اور فحاشی ہی ہوتا ہے۔ جب انسان ڈھٹائی کے ساتھ وہ کام کرنے لگ جائے جن سے خالقِ کائنات نے قطعاً منع فرما دیا ہو۔ ایک مسلم معاشرے میں تو عریانی اور فحاشی کا پھیلنا اتنا آسان نہیں ہونا چاہیے۔ اگر وہاں صحیح معنوں میں اسلامی اصولوں کی حکمرانی ہو، پھر چاہے کتنی ہی جدت پسندی ہو جائے۔ اسلامی معاشرے میں مرد و زن کو اپنی حدود و قیود کا ادراک ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو تو قرآن نے غور و فکر اور تدبر کرنے کا ایک ایسا گر بتا دیا ہے کہ اگر وہ اسے استعمال کریں تو ایک عالم کو اپنے پیچھے لگا سکتے تھے لیکن وہ آسان راستہ اپنا کر اپنی اپنی عبادتوں میں مصروف ہوگئے اور اپنی اولادوں کی طرف سے غفلت کے مرتکب ہوئے، تو نتیجتاً مغربی اثرات نے آہستہ آہستہ ان کے دل و دماغ کو اپنے حصار میں لے کر انہیں اپنے ہی دین سے غافل کر دیا۔ دین اسلام کے زریں اصول تو ہر دور میں ایک نئی جدت پیدا کر دیتے ہیں لیکن ان اصولوں کو ایک اسلامی معاشرے میں لاگو کرنے والے مردِ مومن بھی تو پیدا ہوں۔ دین اسلام تو کسی بھی انسان کو ترقی سے نہیں روکتا مسلمانوں کو تو قرآن پاک کی رہنمائی میں ستاروں پر کمندیں ڈالنی چاہیے تھیں۔ اس کی بجائے مغربی عریانیت کو ہی ترقی پسندی اور جدیدیت پسندی سمجھ لیا گیا۔
بقول اقبال:
اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خوب ہے لیکن!
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے، وہ نظر کیا!
مسلمانوں کا حوصلہ تو دیکھیں کہ خود تو جائے نماز اور تسبیح سنبھال لی اور اپنی نسلوں کو عریانیت و فحاشی کے گندے سمندر میں غوطہ زن ہونے کے لیے چھوڑ دیا۔ جہاں سے نکلنا اتنا آسان نہیں ہے۔ اس گندگی کی بدولت مغرب خود تو تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے لیکن ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلم ممالک میں جدت پسندی کے نام پر سوشل میڈیا کے ذریعے بے باکانہ افکار و نظریات کے ایسے ایسے خوشنما جال پھیلائے گئے ہیں کہ جن میں ہماری دین سے نابلد نوجوان نسل پھنستی چلی جارہی ہے۔ اس طرح سے شرم و حیا کو بالائے طاق رکھ کر ان کو دنیاوی خواہشات کا حصول آسان دکھائی دیتا ہے۔ ان کے نزدیک یہی نئے زمانے کے تقاضے ہیں۔ اگر شرم کرتے رہیں گے تو زمانے سے پیچھے رہ جائیں گے۔ ہمارے نوجوان بھی کیا کریں! انہیں ایسے حکمران ملے ہیں جو بظاہر تو مسلمان ہیں لیکن طاغوتی قوتوں کے زیر اثر انھیں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں کہ مسلمانوں میں دینی شعور نہ آنے پائے۔ ان کو ضروریات زندگی کے مسائل میں الجھا کر رکھا جائے تاکہ وہ اپنے مقصد زندگی کہ ”دنیا میں اللہ کی حکمرانی کو قائم کرنا ہے“ کی طرف سے غفلت کا شکار رہیں۔
اہلِ پاکستان کی لاپرواہی کی سزا تو اللہ دے ہی رہا ہے کہ ہم پر پے در پے ایسے ان پڑھ اور لالچی حکمران مسلط کئے جارہا ہے جو بے تحاشہ مال و دنیا سمیٹنے کے باوجود سیر نہیں ہوتے۔ اللہ معاف کرے ایسے خود غرض حکمران ہیں کہ اسلام کے نام پر حکومت حاصل کرتے ہیں لیکن انہیں کوئی غرض نہیں ہوتی کہ عوام جینے کے لئے کون سے ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کو جب مہنگی تعلیم کے حصول کے بعد نوکریاں نہیں ملتیں تو وہ لامحالہ ایسی این جی اوز کے لیے آلہ کار بنتے ہیں جن کو مغرب سے فنڈ مہیا کیے جاتے ہیں یا پھر الیکٹرانک میڈیا اور فیشن انڈسٹری کا رخ کرتے ہیں، جہاں پر عریانیت و فحاشی کا ایک طوفانِ بدتمیزی برپا ہے اور جو باقی بچ جاتے ہیں وہ جرائم کی دنیا میں اپنے آپ کو کھپا دیتے ہیں اور آخر کار بے موت مارے جاتے ہیں۔
مسلم معاشروں میں مغرب نے جدت پسندی کے نام پر ایسے ایسے فیشن اور نشے متعارف کروائے ہیں جن کے زیر اثر مسلمان نوجوان اپنے مستقبل کو داو ¿ پر لگا دیتے ہیں۔ کیا یہی جدت پسندی ہے کہ کہ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اخلاق باختہ اشتہار چلائے جاتے ہیں اور ڈرامے!؟ ان کو دیکھ کر تو ابکائی آنے لگتی ہے۔ بزرگوں اور والدین کا احترام تو دور کی بات ہے، والدین اور بھائی بہنوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔
تعلیمی اداروں میں چلے جائیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی فیشن شو میں آگئے ہیں۔ خدارا ! ہمارے حکمران تھوڑی سی ہی شرم کر لیں کہ اس ملک کے عوام کے خون پسینے کی کمائی سے یہ لوگ اور ان کی اولادیں زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ کم از کم ہماری نوجوان نسل کا اخلاق تو تباہ نہ کریں۔ ہر طرح اس ملک کو لوٹ لیا اب ہمارے بچوں کے دل و دماغ سے شرم و حیا کا عنصر تو نہ نکالیں۔ اس مسئلہ کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ ہماری مذہبی جماعتوں اور علما ءکرام کو یکجا ہو کر حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے آگے بند باندھنا پڑے گا اور معاشرے میں پھیلتی جدت پسندی کی آڑ میں فحاشی کے خلاف اعلانِ جہاد کرنا پڑے گا۔ نہیں تو غلاظت کا یہ سیلاب ہماری مستقبل کی نسلوں کو بہا لے جائے گا۔
وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے
تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں