شرم و حیاءمقابلہ جات

شرم و حیاء اور جدت پسندی (بنت رضا)

حمنہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی کوئی دوست کوءکزن ہی نہیں تھا جس سے وہ اپنی باتیں شیئر کرتی اور ویسے بھی کورونا کے دو سالوں میں بہت دوریاں ہوگئی تھیں صرف نہ ملنے کی وجہ سے اتنی قریب کے رشتہ دار بھی دور ہو گئے، بس ایک قریب آیا تو یہ موبائل انتہائی قریب آ گیا تھا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا تھا ۔حمنہ ابھی صرف چودہ سال کی ہی تو تھی آٹھویں کلاس کی اسٹوڈینٹ مگر حرکات نہ پوچھو گھنٹوں بے مقصد شیشے کے آگے کھڑے رہنا ، منھ بنا بنا کر بولنا ایکشن کرنا پھر اچانک اس کے پاس نئے نئے موبائل اور مہنگے مہنگے پرس اور جوتے اور دوسری استعمال کی چیزیں آنے لگی آخر کیا قارون کا خزانہ ہاتھ لگ گیا تھا سمجھ سے بالاتر تھا کلاس میں موجود ہر بچہ پریشان تھا کہ یہ سب آ کہاں سے رہا ہے ؟حمنہ کی خبر لینے رمیسہ اسکے قریب ہونے لگی پھر کیا تھا خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ بدلتا ہے رمیسہ کے بھی وہی رنگ ڈھنگ ہو گئے معلوم ہو کہ حمنہ جو کہ ٹک ٹوک پر ناچتی گاتی اداکاری کرتی تھی اسی میں انھوں نے رمیسہ کو بھی لگا دیا تھا ۔

میڈیا کے چنگل میں میرے وطن کی گھر میں رہنے والے معصوم بچے اور بچیاں کیسے آسانی سے آرہے ہیں کہاں ہیں دادا اور دادی چاچا یا سب سے بڑ کر والدین میری عقل تو کام ہی نہیں کر رہی تھی کہ کیسے پہلے ٹی وی لاونج کا نام دے کر اس نے ہمارے گھروں میں گھر بنایا اور پھر گھروں میں کورونا کے نام پر قید کر کے سب سے دور کر کے نقب لگاءآن لائن کلاس کے نام پر ہم سے خود اپنے بچوں کے ہاتھوں میں دلوایا گھنٹوں کی کلاس کے درمیان بچہ کہاں سے کہاں پہچا جارہا ہے ماں باپ کو کوئی فکر ہی نہیں۔۔۔اس مکرو فریب کے اس میڈیا نے دل کی دنیا تو کیا دنیا ہی بدل ڈالی!! ریٹنگ کے حصول نے کردار اور گفتار سب سے آزاد کر دیا بڑی عمر ہو یا چھوٹی کوئی فرق نہیں ہر شخص حرام حلال کی تمیز کے بغیر بس یوٹیوبر، والاگرز اور ٹک ٹوکر بننے میں لگا ہے۔شرم وحیا سے عاری ہی لوگ زمانے کے ساتھ چلنے والے جدت پسند ہوگئے باقی دقیانوس کہلانے لگے۔

بات یہاں ختم نہیں بلکہ شروع ہورہی ہے کہ اب ہمارے گھر ہماری محفلیں ہماری شادیاں سب ایک عجب طرح کی منظر کشی کررہے ہیں جدت پسندی کی دوڑ میں نہ شرم وحیائ

باقی رہیں نہ محبتیں ہیں نہ ادب ہے نا ہی ہمارے معاشرے اور مذہب کی عکاسی بس ریس لگی ہے رنگ اور روشنی کی کپڑوں کی دولت کی مصنوعی خوبصورتی کی اور بے حیاءکی کہیں سے بھی مسلمان تو کیا تہذیب یافتہ لوگوں کی تقریبات نہیں لگتی ہیں۔

دم گھٹنے لگتا ہے کہ یہ ہمارے بزرگوں کو کیا ہوگیا ؟؟ انھوں نے تو ایسے ماحول میں پرورش نہیں پاءپھر وہ خاموش کیو ں ہیں اس جدت پسندی کے نام ہمارے بچوں اور پورے معاشرے کو یرغمال بنا لیا ہے۔ نجات کی اک راہ ہے بس اپنے اقدار سے جوڑے کیونکہ وہ کہاوت ہے نا کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا۔

کیونکہ آج جو کچھ مغربی معاشرے میں اور انکے گھروں میں جو تباہی اور بربادی ہورہی ہے اسی کھولی چھوٹ کی وجہ سے وہ وہی بربادی کا کھیل ہمارے گھروں میں کھیلا جارہاہے بچے ہمارے پاس بیٹھنے کے باوجود ہمارے پاس نہیں احساس سے عاری !

حدیث کا مفہوم ہے نا کہ براءوہ جو تمھارے دل میں کھٹکے اور تم اسکو ظاہر کرتے ہوئے عار محسوس کرو جبکہ دنیا اس کے بالکل الٹ جارہی ہے ہر براءکو اتنا اچھلا جارہا ہے کہ معاشرے سے اس کی تمیز ہی ختم ہوگئی ہے۔

Back to top button

New Report

Close