شرم و حیاءمقابلہ جات

شرم و حیاء اور جدت پسندی (ایمن بختیار)

شرم و حیا کا مفہوم سمجھنے کے لیے ہمیں قرآن و سنت سے رجوع کرنا ہو گا۔کیونکہ شرم و حیا کی اصطلاح مشر ق یا مغرب کی نہیں، مومن ، کافر اور مشرک بھی نہیں بلکہ یہ دین اسلام کا نظریہ ا ور فکر ہے ۔قرآن مجید فرقان ِ حمیدمیں جا بجا شرم و حیا کے وصف کو اپنانے اوربے حیائی سے روکنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ لیکن جدت پسندی کے نام پر جو بے حیائی پھیلائی جا رہی ہے اسلام اس کی پُر زور مذمت کرتا ہے ۔ شرم و حیا عورت کا زیور ہے ۔ جس طرح زیور عورت کی خوب صورتی میں نکھار پیدا کرتا ہے اُسے زینت دیتا ہے ، اسی طرح شرم وحیا مومن مرد ہو یا عورت دونوں کے اخلاق و کردار کی زینت کا باعث بنتا ہے۔

یہی نہیں نبی مہربان ﷺ نے شرم و حیا کو ایمان کا ایک شعبہ قرار دے کر بے حےائی کے سامنے ایک ایسا بند باندھا ہے جس کے بعد ایک انسان تو مادر پدر آزاد سوچ کے ساتھ جیسے چاہو جیو اور جیسے چاہو زندگی گزاروں کے نعروں اور نظریات کے تحت زندگی گزار سکتا ہے لیکن ایک سچامسلمان اور مومن نہیں۔

افسوس کہ آج غیر مسلم اقوام کی اندھی تقلید میں شرم و حیا کا جو شیرازہ بکھر رہا ہے ۔ وہ مسلمانوں کے آج اور کل دونوں کے لیے خطرہ ہے۔جدت پسندی کا عَلَم بلند کر نے والوں نے لباس ، گفت گُو، فیشن ، رہن سہن ،معاشرتی میل جول کے لیے جو طریقے وضع کیے ہیں، وہ کسی لحاظ سے کسی مسلم کا پیرہن نہیں وہ ایک مومن کا تشخص ہر گز نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک جدت پسندی اور شرم و حیا دو الگ راہیں ہیں ۔ ان خود ساختہ نظریات کے بانیوں نے نہ جانے کیوں یہ تصور عام کر رکھا ہے کہ جو دیندار ہے وہ فیشن ایبل نہیں اور جو فیشن ایبل ہے وہ دیندار نہیں۔یہی منفی سوچ کے مارے افراد آج روشن خیالی اور جدت پسندی کا نعرہ لگا کر بے حےائی کا بازار گرم کرتے نظر آتے ہیں۔ کبھی عورت مارچ کے نام پر گھر کی ملکہ کو بیچ سڑکوں پر ننگے سر پھراتے اُن کی حےا کو تار تار کرتے ہیں تو کہیں حقوقِ نسواں بل کے نام پر عورت آزاد کا گھناﺅنا اور مکروہ کھیل کھیلتے نظر آتے ہیں۔

کیاکبھی ہم نے سوچا کہ یہ آزادی دلوانا چاہتے ہیں ان خواتین کو جو معاشرے میں مظلومیت کی تصویر نظر آتی ہیں ۔۔۔۔۔ آزادی مگر کس سے ؟؟؟؟ باپ سے جو آپ کے سر پر ایک شفیق سائبان کی طرح ہے، یا بھائی سے جو آپ کی عزت کا محافظ ہے جو اپنے ماتھے پر آپ کو عزت کے جھومر کی طرح سجاتا ہے ، یا پھر شوہر سے آزادی جو اللہ کو گواہ بناکر آپ کو معاشرے میں ایک مقام دیتا ہے ۔ جو آپ کو ماں جیسے رتبے کا با عزت حقدار بناتا ہے، جو ساری زندگی آپ کے لیے تپتی دھوپ میں ٹھنڈی چھاﺅں اور سکون کا باعث ہوتاہے، یا پھر آپ آزادی چاہتے ہیں دین اسلام کے طوق سے اُن حدود و قیود سے جو با حیثیت مسلمان آپ پر عائد ہوتی ہیں۔

اب فیصلہ آپ کو خود کرنا ہے کہ آپ نے آزادی اور جدت پسندی کی راہ کو اپناتے ہوئے اپنے رب کی ناراضی مول لینی ہے یا شرم و حیا کا اعلی وصف اپنا کر خدا کو راضی کرنا ہے؟؟؟۔ اگر مقصد خدا کی رضا ہے تو جان لیجیے کہ اسلام ہی دراصل وہ واحد مذہب ہے جو جدت پسند ہے۔ وہ زینت کے اظہار کو پسند کرتا ہے اس مذہب کا خالق خود صاحبِ جمال ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔

اس لیے اسلام نے عورت اور مرد دونوں کو شر م و حیا اختیار کر نے کی تاکید کی اور نیم عریاں جسم اور لباس اور غیر محرموں کے سامنے اپنی زینت کے اظہار سے روکا اور اس طریقے کے برخلا ف اقدام اُٹھانے والوں کوزمانہ جاہلیت کی روش سے تعبیر کیا ۔ تاکہ یہ تصور بالکل درست انداز سے عوام الناس تک پہنچ سکے کہ اسلام جدت پسندی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ وہ توخود اس کا حقیقی ماخذ اور عَلَمبردار ہے ، اسلام ہی نے تو انسانوں کو لباس کے ذریعے زینت دی ۔ جسے آج افسوس مغرب دلفریب نعروں کے ساتھ پہلے تار تار کرتا ہے اور پھر اس پر فیشن ایبل ہونے کا ٹھپہ لگاتا ہے جو کہ شیطان کے ایلچی اُسے میڈ اِن فرانس، میڈ اِن جاپان ، میڈ اِن ا نڈیا یا امریکہ یا انگلینڈ کہ کر مسلمانوں کو فروخت کرتے ہیں اور ہم اُن کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے نا صرف اپنی الماریوں کی زینت بناتے بلکہ جابجا نمود و نمائش کے ذریعے اللہ کے عذاب کو دعوت دیتے نظر آتے ہیں ۔ لہذا اگر ہم مسلمان ہیں اور دین اسلام کے سچے پیرو کار ہیں ؟؟؟ یہ ایک سوال بھی ہے اور لمحہ فکر بھی تو ہمیں اپنے رب کا فرماں بردار بننا ہوگا اور شرم و حیا کے ذریعے اسلام کی جدت پسندی اور روشن خیالی کا اظہار اپنے ہر عمل سے کرنا ہوگا۔

Back to top button

New Report

Close