شرم و حیا اور جدت پسندی (ماہین عرفان)
اپنے حجاب پر ناز کرو لڑکیوں کتابیں تو بہت ہیں
مگر غلاف صرف قرآن پر ہوتا ہے
دکھ ،خوشی اور غصے کے اظہار کے طریقے انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں میں بھی پائے جاتے ہیںجبکہ شرم وحیا ایسا وصف ہے جو انسانوںمیں پا یا جاتا ہے اور یہ انسانوں اور جانور کے درمیان وجہ امتیاز اور ان دونو ں میں فرق کی بنیادی علامت ہے ۔اگر لب و لہجے ،حرکات و سکنات اور عادات و اطوار سے شرم و حیا رخصت ہو جائے تو باقی تمام اچھایﺅں پر خود بخود پانی پھر جاتا ہے اور تمام نیک اوصاف کی موجودگی کے باوجود اپنی وقعت کھو دیتے ہیں ۔جب تک انسان شرم و حیا کے حصار (دائرے)میں رہتا ہے ذلت و رسوائی سے بچا رہتا ہے اور جب اس قلعے کو ڈھا دیتا ہے تو پھر گھٹیا و بد ترین کام بھی بڑی ڈھٹائی کے سا تھ کرتا چلا جاتا ہے۔ رسول پاک کا ار شاد ہے ” جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے وہ کر۔“اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کسی بھی برے کام سے روکنے کا سبب شرم و حیا ہے ،اور جب کسی میں شرم وحیا کا فقدان ہو جائے اور حیا باقی نہ رہے تو اب اس کا جو جی چاہے گا وہی کرے گا اور انسان اپنی مرضی کا غلام بن جائے گا۔ تو تباہی اس کا یقینی انجام بن جا ئے گی،اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے محسن انسانیت نے فرمایا”جب اللہ تعالی کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے شرم و حیا چھین لیتا ہے“۔
شرم وحیا کیا ہے؟وہ کام جو اللہ پاک اور اس کی مخلوق کے نزدیک ناپسند ہوں ان سے بچانے والے وصف کو شرم و حیا کہتے ہیں ۔ اسلام اور حیا کا آپس میں وہی تعلق ہے جو روح کا جسم سے ہے ۔پیارے نبیﷺ نے ارشاد فرمایا :بے شک حیا اور ایمان آپس میں ملے ہوئے ہیں،جب ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیاجا تا ہے۔ اس لیے اسلام کے دشمن مسلمانوں کی حیا پر وار کر تے نظر آتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مردوں کے اخلاق و عادات کے بگڑنے سے معاشرہ بگڑنے لگتا ہے اور عورتوں میں یہ بیماری پھیل جائے تو نسلیں تباہ ہو جا تی ہیںلہٰذا اسلام مرد و عورت دونوں کو حیا اپنانے کی تلقین کرتا ہے اور حیا کو تمام اخلا قیات کا سر چشمہ قرار دیتا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ جیسے جیسے ہم زمانہ رسالت سے دور ہوتے جا رہے ہیں شرم و حیا کی روشنیاں ماڈرن، اندھی اور تا ریک تہذیب کی وجہ سے بجھتی جا رہی ہیں ۔ اس منحوس تہذیب کے جراثیم مسلم معاشرہ میں بھی اپنے پنجے گاڑنے لگے ہیں۔ افسوس وہ شرم و حیا جسے اسلام مرد و زن کا جھومر قراردیتا ہے آج اس جھومر کو کلنک کا ٹیکا (بدنامی کا دھبا )بتایا جا رہا ہے ۔ محرم و نا محرم کا تصور اور شعور دے کر اسلام نے مرد وزن کے ا ختلاط پر جو بند باندھا تھا ۔ آج اس پر چھید نما یاں ہیں ۔ رسول خداﷺ نے فرمایا :”خبر دار کوئی شخص کسی (اجنبیہ)عورت کے ساتھ تنہائی میں نہیں ہوتا مگر ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔“
ہمارے معا شرہ میں جدت پسندی سے مراد یہ ہے کہ ہماری قوم کی بہن بیٹیاں ماڈرن ازم کے نام پر کچھ بھی پہن لیں وہ اپناجسم دکھا ئیںوہ ماڈرن ازم میں آتا ہے۔ لیکن عورت با پردہ اچھی لگتی ہے۔