شرم و حیاءمقابلہ جات

شرم و حیا اور جدت پسندی (طاہرہ فاروقی)

آج کل اکثر لوگوں کے دلوں میں یہ خیال جڑ پکڑ گیا ہے کہ جدت پسندی شرم و حیا کے لیے زہر قاتل ہے یا شرم و حیا کوئی قدیم رویہ تھا اور جدید زمانے میں اس کا زندہ رہنا ناممکن ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ کچھ الفاظ اپنے حقیقی معنوں کے بجائے رائج الوقت معانی کے حوالے سے مشہور ہو جاتے ہیں۔ جب ان الفاظ کو کسی خاص مقصد کے تحت مخصوص معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے تو وہ ایک اصطلاح بن جاتے ہیں جیسے ”شرم و حیا“ اس لفظ کو قدیم لباس برقع اور چاردیواری کے ساتھ کثرت استعمال سے مخصوص کر دیا گیا حالانکہ شرم و حیا تو ایک رویہ ہے ایک عبادت ہے جس کے لیے ہر مذہب میں ہی بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔
ہمیں تو ہمارے نبی محمدمصطفیﷺ نے بتایا کہ قدیم مذاہب میں بھی یہ بات موجود تھی کہ ”اگر تجھ میں حیا نہ ہو تو جو جی چاہے کر“ اور آپﷺ نے یہ بھی بتایا کہ ”اللہ سب سے زیادہ اس بات کا حقدار ہے کی اس سے شرم کی جاے“ اور مستند احادیث نے بتایا کہ ”حیا ایمان کی شاخ ہے۔“
اور ان تمام باتوں میں کوئی مفہوم بھی نیت اور اعمال صالحہ کے بغیر صرف لباس تک محدود نہیں مگر پھر اسی رائج الوقت ”اصطلاح “ کے فلسفے نے اس کوظاہری حلیے تک محدود کردیا۔ دوسری طرف جدت پسندی کو بھی لباس اور طرز زندگی کے مظاہر کے ساتھ مخصوص کردیاگیاہے جبکہ جدت پسندی بھی کاملیت کا سفر اور ایک رویہ ہے یعنی بہتری اور بھلائی کے طریقے اختیار کرنا جدت پسندی ہے جو کہ ایک مستحب رویہ ہے۔
جس طرح پرانے زمانے میں بھٹیوں میں بھالے، تلوار،زرہ بکتر ڈھالی جاتی تھیں، جدید زمانے میں ٹینک، توپ اور میزائل اسلحہ فیکٹریوں میں بنائے جاتے ہیں اور ان سے شرم و حیا کو فی نفسہ کوئی خطرہ نہیں البتہ نقصان تو بلا جواز واشتعال امن پسند ممالک کےخلاف ان کے استعمال کرنے سے ہوتا ہے اور یہی چیز بے شرمی و بے حیائی ہے۔۔۔۔ ثابت ہوا کہ شرم و حیا کے ساتھ جدت پسندی ایک صحت مند رویہ ہے جو دوسرے صحت مند رویوں اور ماحول کو جنم دیتا ہے۔
اس کی دوسری مثال لباس ہے جس طرح آج کل ساتر لباس اور برقع کو شرم و حیا کی علامت سمجھا جاتا ہے حالانکہ برقع اور حجاب کے اندر لپٹی ہوئی خواتین بھی اگر خدا کی شرم نہیں رکھتیں تو رویوں میں ضرورت سے زیادہ جری اور بے باک ہوجاتی ہیں حالانکہ جدید تعلیم سے وہ نابلد ہیں یہ چیز پسماندہ علاقوں میں یا تعلیم سے محروم دیہاتوں میں کثرت سے پائی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ جدیدیت کا علم بلند کرنے والے خواتین و حضرات بھی دو قسم کے ہیں ایک تو روایتی تعلیمی اور مذہبی طریقوں کے ساتھ ساتھ تحقیق و جستجو اور تلاش کے میدان کے شہسوار ہیں اور بحر علوم کے شناور بھی۔۔ وہ لوگ دین کی اصل شکل اور ترقی و تعلیم کے ذریعے اپنے معاشرے اور بنی نوع انسان کی زندگیوں کو جہالت اور اندھی تقلید کی تاریکیوں سے نکال کر دلیل اور تحقیق کی ضوفشاں کرنوں سے منور کرتے ہیں۔
دوسری قسم ان ترقی پسند مرد و زن کی ہے جو لباس اور انداز میں بے حیائی کو جدت پسندی کا نام دیتے ہیں اور تمام صحتمند روایات کی نفی کرتے ہیں اور جو اپنے مذموم مقاصد یعنی فیشن انڈسٹریز کے فروغ کے لئے اور اپنے سفلی جذبات کی تسکین کے لئے جدیدیت کے نام پر معاشرے میں بے چینی پیدا کرتے ہیں اور ہر رشتے کو ایک دوسرے سے متصادم کر دیتے ہیں یہ جدت پسندی نہیں ہے بلکہ ایک بہت بہت بڑی تباہ کن دوڑ کی منصوبہ بندی ہے یہ آگے بڑھنے کا سفر نہیں ہے بلکہ پتھروں کے دور سے بھی پیچھے کے غاروں میں دھکیلنے کے اقدامات ہیں یہ لوگ شرم و حیا کے دشمن ہیں یہ خاندان کا ادارہ تباہ کر کے فرد کو تنہا تنہا شکار کرنے کے جال بچھاتے ہیں جو شرم و حیا کا دشمن رویہ ہے۔
اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو آج شرم و حیا ہی اصل جدت پسندی ہے جس طرح ساتر لباس حجاب و برقع کی حمایت اور اختلاط مردوزن کے خلاف نوجوان طلبہ صف آرا ہو رہے ہیں اس نے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں کردی ہےکہ باحیا معاشرہ ہی اصل جدت پسند معاشرہ ہے اور خصوصاً کل ہونے والے کرناٹک کے اس تازہ واقعہ نے جس میں ایک برقع پوش لڑکی نے ہندو انتہا پسند غنڈوں کے سامنےدلیرانہ تکبیر کی صدا بلند کی ہے تو اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ ساتر لباس اور انداز میں کھل کر حق کا اظہار حیا اور بہترین جدت پسندی ہے۔
ہمیں بھی ان بے شرم احسان فراموش بیویوں،بیٹیوں کی نام نہاد آزادی کی کریہہ آوازوں سے پیچھا چھڑانا ہوگا اور زمانے کو انقلاب کی ندا دینے والی حیا اور وفا کی پتلیوں کی صدا پر لبیک کہنا ہوگا جو ایک جہان تازہ کی نوید سنا رہی ہیں یہ صدا مغربی اسکولوں سے اٹھ چکی۔۔۔۔ اور اب ہندوستان کی درسگاہوں سے نکل کر پورے زور و شور سے دنیا میں گونج رہی ہے۔

Back to top button

New Report

Close