
جی مس زویا، بتائیے کن مسائل کا شکار ہیں آپ آج کل؟ یہ ڈپریشن کا کیس تھا، جو سر اجمل نے مجھے سونپا۔
سر دیکھا جائے تو مسئلہ کوئی نہیں ہے، لیکن میرے اردگرد رہنے والے لوگ بہت عجیب سی باتیں کرتے ہیں. کس قسم کی باتیں؟ میں نے سوال کیا۔
وہ کہتے ہیں مجھے غصہ بہت زیادہ آتا ہے، میں خود پر اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتی۔ بہت چڑچڑی ہوگئی ہوں، ہر بات محسوس کر جاتی ہوں۔ پر ایسا تو کچھ نہیں ہے۔
اس کا انداز ایسا تھا جیسے وہ چاہتی تھی کہ میں اس کی ہاں میں ہاں ملاتا۔ ھمم۔۔۔۔ کن باتوں پر غصہ آتا ہے عموماً آپ کو؟ جن باتوں پر ایک نارمل انسان کو غصہ آنا چاہیے۔ اس کے دو بدو جواب پر میں نے لمحہ بھر رک کر اسے دیکھا۔
سادہ لباس، سلیقے سے سر پر اوڑھا دوپٹہ، سادہ ہی چہرہ لیے وہ میری جانب دیکھ رہی تھی۔ کیا کرتی ہیں آپ؟ میرا مطلب ہے کہ کیا مشاغل ہیں آپ کے؟ میں جاب کرتی ہوں۔ ٹیچر ہوں۔ او لیول کے بچوں کو پڑھاتی ہوں۔ آپ کا پسندیدہ مضمون؟ اردو، اور میں اردو ہی پڑھاتی ہوں۔ میں لکھتی بھی رہی ہوں۔
یہ کہتے ہوئے ایک افسردہ سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی تھی۔
ارے واہ، آج کل کیا لکھ رہی ہیں؟ آج کل؟ پھر نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔ سر عرصہ ہوا لکھنا چھوٹ گیا اور اب اگر چاہوں تو لکھا ہی نہیں جاتا جبکہ میرا دِل بہت چاہتا ہے کہ میں کچھ نیا تخلیق کروں۔
آپ کو پتا ہے، رات ہو یا دن مختلف کردار، مختلف کہانیاں میرے اردگرد منڈلاتی رہتی ہیں۔ لیکن ۔۔۔ لیکن جب میں انہیں صفحہ قرطاس پر بکھیرنا چاہوں تو وہ سب سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں مجھ سے روٹھ جاتے ہیں۔ اس سے پہلے میرے لفظوں نے کبھی مجھ سے بے وفائی نہیں کی تھی۔ جتنی چمک اس کی آنکھوں میں یہ بات شروع کرتے وقت تھی، اتنی ہی اداسی اور لڑکھڑاہٹ آخر میں تھی۔
آپ نے لکھنا کیوں چھوڑا؟ میں نے کچھ توقف کیا اور اس کے پسندیدہ موضوع کی طرف بڑھنے لگا۔ پتا ہی نہیں چلا، کب ایسا ہوا۔ حالات بدلے، کچھ ذاتی الجھنوں کا شکار ہوئی تو کب قلم سے دوری بڑھی خبر ہی نہیں ہوئی۔ میں اس دوران کوشش کرتی رہی لیکن ہر طرف سے مایوسی کا سامنا کر کرنا پڑا۔ کیا ہمیں ایسا ہونا چاہیے کہ جب ہمارے کسی ساتھی کو ہماری یا ہمارے سہارے کی ضرورت ہو تو اس سے دور ہو جائیں، پلٹ کر اس کی خبر ہی نہ لیں۔
پتا ہے مجھے اس سارے وقت نے یہ سکھایا کہ جو میرے ساتھ میرے برے وقت میں نہیں رہا وہ میرے ساتھ مخلص کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ سانس لینے کو رکی۔ میں مانتی ہوں، ہر عروج کو زوال ہے اور ہر زوال کو عروج۔ اور اب میری خواہش ہے کہ میں دوبارہ اپنی اسی زندگی کی طرف پلٹ جاؤں جو مجھے سکون دیتی ہے۔ تو لکھیے نا، واپس لوٹ جائیے۔ میرا خیال ہے کہ آپ کا کتھارسس ہی آپ کے غصے، آپ کی بے سکونی کا مداوا کرسکتا ہے۔ میں نے اسے سمجھایا۔
لیکن میں کیسے لکھوں؟ میں کیا لکھوں؟ کس پر لکھوں؟ کہاں بھیجوں، جہاں بھیجا تھا وہاں سے تو مسترد کر دی گئی ہیں میری تحریریں۔ تو اب آپ خود بتائیں کہ میں کیسے واپس اس طرف آ سکتی ہوں؟ اس کی بے چینی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ کیا مطلب مسترد کر دی گئی تھیں؟ میں نے حیرت سے پوچھا۔ ریجیکٹ۔۔۔ ریجیکشن کا مطلب تو پتا ہی ہوگا آپ کو۔ جب آپ کی کوئی تحریر مسترد ہو تو برا لگتا ہے، لیکن جب آپ خود کو سمیٹ کر دوبارہ کوشش کر کے کچھ ٹوٹے پھوٹے لفظ لکھیں اور بار بار اس کی نوک پلک سنوار کر اس امید پر بھیجیں کہ مثبت جواب آئے گا۔ لیکن ہو آپ کی سوچ کے بر خلاف تو بتائیے کیسا محسوس ہوگا اس انسان کو؟ یقیناً بہت تکلیف ہوگی۔ میں نے فوراً جواب دیا۔
نہیں صرف تکلیف نہیں، اس کا اعتماد ختم ہو جائے گا۔ تو سر بات اتنی سی ہے کہ مجھے کوئی بیماری نہیں ہے، بس میں تنہا ہو گئی ہوں لوگوں کے ہجوم میں بھی۔ اور ۔۔۔ اور یہ بات کوئی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کر رہا ہے۔ یہ کہتے ہوئے ایک آنسو اس کی پلکوں کی باڑ توڑتا اس کی ہتھیلی پر آگرا تھا۔ کچھ وقت کے لیے خاموشی چھائی رہی۔ پھر اس نے پاس پڑا اپنا شولڈر بیگ اٹھایا اور بھیگی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اپنی جگہ سے اٹھنے لگی۔ آپ ایسا کیجیے کل کچھ لکھ کر لائیے گا۔
میرے جلدی جلدی بولنے پر وہ حیران ہوئی پھر بولی. کیا لکھ کر لانا ہے؟ اس کی سوالیہ نظروں پر میں سوچنے لگا اگلے ہی لمحے ایک خیال میرے ذہن میں کوندا۔ یہ جو آج ہماری گفتگو ہوئی ہے آپ اس پر کچھ بھی لکھ کر لائیے گا۔ کل ہم اسی وقت پھر سے اسی موضوع پر گفتگو کریں گے۔
میری بات سن کر اس نے اقرار میں سر ہلایا اور بیرونی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔ اگلے دن ٹھیک تین بج کر پانچ منٹ پر وہ میرے سامنے بیٹھی تھی۔ اس نے اپنی سیاہ ڈائری کھول کر میرے سامنے رکھ دی۔ آپ کی لکھائی بہت عمدہ ہے۔ میں اس کی لکھائی دیکھ کر تعریف کیے بنا نہ رہ سکا۔ اس نے ایک پیراگراف لکھا تھا: ’’میں نہیں جانتی آج میں جو کچھ لکھوں گی کیا وہ سب درست ہوگا؟ میرا لکھا ہوا پسند آئے گا۔ لیکن اگر پسند نہ بھی آیا تو کیا ہوا میں ایک بار سے کوشش کروں گی کیوں کہ میرے لکھے لفظوں کو کسی نے پڑھنا ہے۔ تو پھر کوشش کرنے میں کیا برائی ہے زویا؟ لکھو اپنی خوشی کے لیے۔‘‘
میں نے ایک نظر مس زویا کو دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولا: آپ کے ان لفظوں سے سمجھ آگیا ہے کہ آپ تنہائی کا شکار کیوں ہوتی جا رہی ہیں۔ مس زویا، یاد رکھیں اس دنیا میں کوئی بھی ایسا انسان نہیں جو پرفیکٹ ہو۔ آپ لکھیے اور یہ سوچے بنا لکھیے کہ کیا کوئی اسے پڑھے گا؟ آپ لکھیے اور کم از کم تین بار اس لکھے ہوئے کو پڑھیے اور بتائیے کہ کیا وہ آپ کو پسند آیا ہے؟ اور اگر نہیں تو آپ دوبارہ کوشش کریں گی۔ کچھ دیر اور گفتگو رہی پھر وہ چلی گئی۔ اگلے دو دن وہ نہیں آئی تھی اور تیسرے دن وہ جب میرے سیشن میں بیٹھی تو بےحد مطمئن تھی۔ اس نے اپنی وہی سیاہ ڈائری میرے سامنے رکھی اور بتانے لگی کہ گزشتہ دو دن سے وہ اپنے فارغ وقت میں صرف لکھتی رہی ہے۔ اور آج بلآخر اس نے ایک چھوٹی سی تحریر مکمل کر لی تھی۔ میں نے وہ کہانی پڑھنے کے بعد اسے ڈائری واپس کی تو وہ بولی: سر ایسا نہیں تھا کہ میں لکھنا بھول گئی تھی۔
سر ایسا نہیں تھا کہ میں لکھنا بھول گئی تھی، بس میں تو تھوڑی سی توجہ کی منتظر رہی کہ کب میرے اپنے، دوست، ساتھی یا میرے ہمدرد میرے لیے کچھ وقت نکالتے ہیں۔ ان پچھلے دو دنوں میں مجھے غصہ نہیں آیا، میرا چڑچڑاپن بھی غائب ہوگیا ہے۔ میرا دِل مطمئن ہے، میں لوٹ آئی ہوں سر، میں اپنی زندگی کی طرف پلٹ آئی ہوں۔ یہ کہتے ہوئے اس کے لہجے میں بے پناہ خوشی تھی اور میں اس کے انداز پر مسکرا دیا۔ اس دِن کے بعد میں نے دوبارہ اسے کبھی نہیں دیکھا، ہاں ایک بات ضرور تھی کہ اس نے چند ماہ بعد مجھے رسائل بھیجے تھے جن میں زویا کا نام لکھا تھا۔ میں اپنی کامیابی پر خوش تھا، بلاشبہ یہ کوئی بہت پیچیدہ مسئلہ نہیں تھا لیکن کبھی کبھی ہم ذہنی طور پر اس قدر دباؤ میں ہوتے ہیں کہ ہمیں سمجھ ہی نہیں آتا کہ ہو کیا رہا ہے۔ اور اس وقت ہمیں صرف اپنے پیاروں کی ذرا سی توجہ، ذرا سی ہمت ہمیں اپنے مدار میں واپس کھینچ لاتی ہے جہاں زندگی پھر سے مسکراتی ہے۔