خواتینصفحہ اول

عورت کا مقام

تحریر: آدرش نواز

اے بنتِ حوا! تم تو بڑی معتبر ہو
جو تم کو رلائے گا وہ بہت پچھتائے گا

عورت کو اللہ تعالیٰ نے بہت بلند مقام و مرتبہ عطا کیا ہے۔ بہت عزت سے نوازا ہے اگر وہ مقام و مرتبہ وہ عزت عورت کو اس معاشرے میں مل جائے تو یقیناً ہر عورت قابلِ رشک ہو گی۔ عورت کی شراکت داری کے بغیر کسی بھی میدان میں ترقی کا حصول یقیناً ایک دشوار کام ہے۔ ہمارے معاشرے میں مردوں کی اکثریت ایسی ہے جو عورت کو حقیر سمجھتے ہیں ،جو عورت کو غلام سمجھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے مرد ایسے ہیں جو عورت کی کمزوری کو اپنی طاقت سمجھتے ہیں لیکن مرد یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ انکو اس دنیا میں لانے والی ہستی کوئی اور نہیں بلکہ وہ عورت ہے جس کو وہ حقیر سمجھتے ہیں ۔عورت کو اللہ تعالیٰ نے ایسے خوبصورت روپ عطا کیے ہیں کہ اگر وہ بیٹی کے روپ میں ہو تو خدا کی رحمت ،اگر وہ ماں کے روپ میں ہو تو جنت کی ضمانت ،اگر بہن ہے تو بھائیوں کی شان اور اگر بیوی کے روپ میں ہو تو بھی قابل رشک۔مگر مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ عورت پر تشدد ،عورتوں کی عزت کی نیلامی عورتوں کے حقوق کی پامالی کی خبریں اس بات کی ضامن ہیں کہ عورت کے مقام کو دبایا جارہاہے ۔عورت کی اہمیت کو جھٹلایا جا رہا ہے ۔ایک دن شام کو میں دفتر سے گھر واپس جا رہی تھی کہ میں نے چند لڑکوں کو دیکھا جو بھیڑیوں والی نظروں سے ایک راہ چلتی لڑکی کو گھور رہے تھے ۔وہ اس معصوم لڑکی کو ہراساں کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے تھے ۔ان میں سے ایک کے پاس پستول بھی تھا ۔جب انہیں یہ محسوس ہونے لگا کہ آرام سے ماننے والی نہیں ہے تو اس لڑکے نے پستول اس لڑکی کی کنپٹی پر رکھ لیا ۔اللہ کا ایسا کرم ہوا کہ پولیس گشت پر تھی اور انہوں نے اس معصوم لڑکی کی عزت بچا لی۔ یہ سارا واقعہ دیکھ کر میں ایسے ہو گئی تھی جیسے کوئی زندہ لاش ۔میں اس پریشانی میں کئی دن تک بیمار رہی اور اس واقعے کو ذہن سے نکال نہیں پا رہی تھی ۔کافی دنوں بعد میں دوبارہ دفتر گئی وہاں میری اور بھی دو، تین دوستیں نوکری کرتی تھیں ۔ان میں سے ایک دوست بہت زیادہ پردے کا خیال رکھتی تھی اور انکا ماحول بھی کافی سخت تھا ۔ایک دن اس نے ہم سب دوستوں کو کھانے پر دعوت دی ۔ہم سب نے جلدی سے دفتر کا کام سمیٹا اور اپنی دوست کے ہاں دعوت پر چلی گئی ۔ابھی ہم وہاں کھانے کی میز پر بیٹھی ہی تھیں کہ اچانک سے گھنٹی بجی۔نمرہ دروازے کی طرف یہ کہتے ہوئے بھاگی کہ لگتا ہے بھائی آگئے ہیں ۔اچانک ایک لڑکا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے،شرٹ کے بٹن کھلے تھے اور اسکی آنکھیں اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ شراب کا کچھ اثر ابھی بھی اس پر طاری ہے۔ہم سب اسکی طرف دیکھنے لگی کہ اچانک سے میرے ذہن میں اس رات والا واقعہ آگیا۔جب میں نے اپنے ذہن پر زور ڈالا تو مجھے یاد آیا کہ یہ لڑکا انہی غنڈوں میں سے ایک ہے جو اس لڑکی کو ہراساں کر رہے تھے ۔میرے پیروں تلے سے جیسے زمین نکل گئی ہو۔میں نے نمرہ سے پوچھا یہ کون لڑکا ہے اور یہاں کیا کر رہا ہے ؟ نمرہ نے کہا یہ میرا بھائی ہے تو اس وقت مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میرے اوپر کوئی عمارت گر گئی ہو اور میں اسکے ملبے تلے دبتی جا رہی تھی۔اس دن مجھے اندازہ ہوا کہ وہی مرد گھروں میں بلا ضرورت سختی کرتے ہیں جو خود عیاشیوں کے عادی ہوں ۔جو مرد گھر سے باہر کسی دوسری عورت کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا پھر چاہے اس کے گھر کی عورتیں کتنی ہی پاکدامن کیوں نہ ہوں وہ سب مکافات عمل کے ذریعے لوٹ کر انکی طرف ضرور آتا ہے کیونکہ مرد اپنی جوانی کے اعمال سے اپنی بیٹی کا نصیب لکھ رہا ہوتا ہے ۔اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اپنے گھر کی عورت کو وہ مقام ،وہ مرتبہ وہ عزت دینا چاہتے ہیں جسکی وہ حقدار ہے یا نہیں ؟ یا پھر آپ چاہتے ہیں کہ آپکی بہن،بیٹی ،ماں اور بیوی ان گناہوں کا کفارہ بنیں جو آپ نے کیئے ۔

مقامِ زن سے ابھی تم ناواقف ہو شاید
ورنہ یوں عورت کا سرِ عام تماشا نہ بناتے

Back to top button

New Report

Close