آسٹریلیا کے ساحل پر دنیا کا سب سے بڑا پودا دریافت سائنسدان حیران

آسٹریلیا کے ساحل پر دنیا کا سب سے بڑا پودا دریافت ہوا ہے جس کا پھیلاؤ امریکی شہر مین ہٹن کے رقب سے 3 گنا زیادہ ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق سائنسدانوں نے جینیٹک ٹیسٹنگ کے بعد مشرقی آسٹریلیا کے ساحل پر کو زیر آب ’سمندری گھاس‘کو دنیا میں موجود سب سے بڑا پودا قرار دیا۔
یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ آسٹریلیا کے ساحل پر پایا جانے والا پودا ایک ہی بیج سے تقریباً ساڑھے 4 ہزار سالوں سے پھل پھول رہا ہے۔یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کی سائنسداں ایلزبتھ سن کلیئر کہتی ہیں کہ یہ سمندری گھاس پوزائیڈن رِبن ویڈ کہلاتی ہے جس کا حیاتیاتی نام Posidonia australis ہے۔ انہوں 180 کلومیٹر پر پھیلے ہوئے سمندری گھاس کے دس نمونے لیے اور ان میں سے نو نمونے جینیاتی اور ظاہری طور پر بالکل یکساں تھے۔
خیال ہے کہ گھاس ایک کنارے سے کلون ہونا شروع ہوئی اور دوسری جگہ جا پہنچی اور یوں دنیا کا سب سے بڑا زندہ جسم کلوننگ سے وجود پذیر ہوا۔ خیال ہے کہ اس پودے کی عمر 4500 سال ہے اور انسانی مداخلت سے محفوظ ہونے کی بنا پر اس کی نشوونما بہت تیزی سے ہوئی ہے۔
ڈاکٹر ایلزبتھ نے کہا ہے کہ کلون ہونے والے پودے عموماً بہت سخت جان نہیں ہوتے اور وہ بدلتے حالات کے تحت خود کو تبدیل نہیں کرسکتے جبکہ جنسی طور پر دیگر انواع سے ملاپ کرکے اپنی نسل پڑھانے والے پودے ارتقائی طور پر بہت بہتر ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک پودا 180 کلو میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے جو دنیا کا سب سے بڑا پودا ہے۔ اس کے علاوہ پودا انتہائی سخت جان ہے کیونکہ یہ انتہائی مشکل موسم اور زمین ہونے کے باوجود پرورش پاتا رہا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سمندری پودے عموماً ایک سال میں 35 سینٹی میٹر تک بڑے ہوتے ہیں اور اسی بنیاد پر اندازہ لگایا گیا کہ یہ پودا 45 ہزار سال سے پرورش پا رہا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پودے کا پھیلاؤ امریکی ریاست نیو یارک کے شہر مین ہٹن، جس کا رقبہ 59 اعشاریہ ایک اسکوائر کلو میٹر ہے، سے 3 گنا بڑا ہے اور یہ رقبہ 20 ہزار فٹبال فیلڈز کے برابر بنتا ہے۔