شرم و حیاءمقابلہ جات

شرم و حیاء اور جدت پسندی (فریحہ سہاگ)

اسلام کا نور پھیلنے سے پہلے پوری دنیا بد اخلاقی بد تہزیبی معاشرتی ناہمواریوں ظلم و استبداد کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی انسانیت کا نام و نشان تک نہ تھا خاص طور پر خواتین کی کوئی بھی نہ عزت تھی نہ ہی اہمیت ، عورت کو ایک غلام سے بھی بدتر سمجھا جاتا تھا حتیٰ کہ عرب میں تو بچی کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔

عورت کو باپ کی وارثت کا حق دار نہیں سمجھا جاتا تھا۔مگر جب دین حق دین اسلام کی روشنی پھیلی سرور کونین ہم سب کے آقا نبی پاک ﷺ تشریف لاے تو حق کا نور پھیل گیا۔ آپ نے پوری دنیا کو سچائی کا حق کا روشن راستہ دکھایا، پوری دنیا کو انسانیت کا فلاح کا روشنی کا حق کا اخلاقی اقدار کا مثالی درس دیا خاص طور پر معاشرے میں عورت کو ایک ایسا مقام و مرتبہ دیا کہ جس کا تصور بھی پہلے محال تھا عورت کو برابری کے حقوق دیے باپ کی وراثت میں حقدار ٹھہرایا۔ سب سے بلند ترین مقام یہ دیا کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت رکھ دی۔

یہ وہ درس تھا یہ وہ روشنی تھی جو کسی نے بھی دنیا کو نہیں دی تھی، سب سے بہترین یہ تحفہ بھی دیا کہ عورت کو با حجاب کیا، شرم و حیا کی دولت کا درس دے کر عورت کا ہمیشہ کے لیے وقار بلند کیا، آج کے جدید دور میں یورپ امریکا میں خواتین کی آزادی اور حقوق کے لیے بہت سی تنظیمیں بنی ہوئی ہیں جو اکثر اوقات عورتوں کے حقوق کے لیے جلسے بھی کرتی ہیں جلوس نکالتی ہیں۔

اسی تحریک کے اثرات پاکستان میں بھی در آے ہیں یہاں بھی کچھ آزاد خیال اور جدت پسند خواتین اپنے حقوق کے لیے جلوس نکالتی ہیں جلسے کرتی ہیں اور جو پلے کارڈز انہوں نے اٹھاے ھوتے ہیں ان پر جو نعرے تحریر ہوتے ہیں وہ ایک با حیا عورت کو بھی شرمسار کر دیں عجیب و غریب ھوتے ہیں اور دعوا حقوق مانگنے کا ہوتا ہے مگر ان کارڈز کو پڑھ کر یہ لگتا ہے کہ یہ خواتین اپنے حقوق کم اور معاشرے میں بے حیائی اور فحاشی کو عام کرنا چاھتی ہیں۔

جہاں تک عورتوں کے حقوق کا تعلق ہے وہ تو اسلام نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی دے دیے ہیں۔ بتا دیا ہے کہ ایک مسلم معاشرے میں عورت کا مقام کیا ہے

ماں کا مقام، بہن کا مقام، بیوی کا مقام، ہر مقام کا مرتبے کا تعین کر دیا ہے۔ نبی پاک ﷺ نے عورت کو ایسے حقوق سے مالا مال کر دیا ہے کہ دنیا کے کسی بھی معاشرے میں عورتوں کو ایسے حقوق نہیں ملے۔ آج کی آزاد خیال خواتین نے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو پڑھا ھی نہیں ہے۔ اسی لیے یہ اپنے ساتھ ساتھ اس مسلم معاشرے میں ایک معاشرتی بگاڑ پیدا کر کے معاشرے کا سکون اور امن تباہ کرنا چاھتی ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ جو حقوق ہمارے عظیم مذہب اسلام نے عورتوں کو دے دیے ہیں اس سے بڑھ کر کسی نے نہیں دیے۔

Back to top button

New Report

Close