
یوم تکبیر کے حوالے آئے،ان گنت باتیں ذہن میں ابھرتی ہے، جو اسلامی ریاست اسلحہ سے لیس مکمل زمینی، بحری و فضائی فوج بہترین قدرتی وسائل سے مالا مال ہے،جسکے پاس قرآن ،سنت اور صحابہ کا بہترین کردار موجود ہے، جس کے پاس ہر قوت موجود ہے جو ایک بحیثیت مسلمان اپنے دشمن کو پسپا کرکے رکھ دے۔
بدر کی جنگ میں مسلمان کی قوت نے کامیابی کس حکمت سے حاصل کی،وہ ساری حکمت عملی ہمارے پاس ہمارے ذخیرہِ علم میں موجود ہے،جسکی آج بہترین مثال افغانستان ہے۔
مجھے اس بات پر افسوس ہے کہ ہمارا لیڈر اس ایٹمی دھماکے کو جو ہمارے لیے سلامتی کا ذریعہ بنا،جسکی کوششوں میں 1998 میں وزیراعظم سے لے کر نیوکلئیر ادارے کے سربراہ ڈاکٹر قدیر خان کی خدمات نے ایک عظیم تحفہ دیا،ملک کی سلامتی کی صورت میں۔
ہمارے لیڈر اس ایٹم بم کو جب اپنے ہی ملک کو دے مارنے کی باتیں کرتے ہیں تو یہ سانحہ لگتا ہے کہ جیسے دل پر کسی نے خنجر پیوست کردیا،وہ لیڈر امریکہ کے صدر کے فون نہ آنے پر بے چین ہوجاتے ہیں،قوم کی بیٹی عافیہ کا سودا کرلیتے ہیں،کشمیر پہ مسلط بھارت سے تجارتی معاہدے بھی کرلیتے ہیں،ایران کی چھپی منافقانہ سرگرمیوں سے بھی غافل رہتے ہیں اور منہ توڑ جواب نہیں دیتے، وہ جب چاہے اپنی اسلحہ سے لیس سرگرمیاں، جس طرف سے چاہے کرتا رہتا ہے،اقوام متحدہ سے سر اٹھاکر اپنا حق مانگتے انکو شرم آتی ہے جبکہ دوسری طرف اپنے ہم وطن لیڈروں سے عوام سے سرد جنگ کرتے ہیں،مسلکی دیوار ،تعصبانہ نظام اور غلامانہ کردار نے ان لیڈروں کے ذریعے وطن کی مٹی پلید کرکے رکھ دی ہے۔
نیوکلئیر پروگرام پاکستان کی طرف سے بھارت سے لے کر تمام اقوام متحدہ کے اداروں پر ہتھوڑا مار جواب تھا اور آج بھی ہے،ہم خود جوہری معمار ہیں،اس ملک و ملت کا ستون ہیں ،ہم مسلمان قوم ہیں یہی یلغار دشمن کو ہراساں کردینے کے لیے ایٹم بم ثابت ہوسکتی ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارے پاس وہ ایمانی طاقت ہے، جسکے عشق میں صحابہ نے جہاد کا جھنڈا دشمن کے آگے گاڑھ کر اسکو نیست ونابود کردیا،ہم وہ قوت ہیں،جو ایک ہوکر اس اقوام عالم کی اینٹ سے اینٹ بجاسکتی یے،یہ ایٹمی ہمارے ازلی خطے ہماری شہہ رگ کشمیر کے لیے بھی شمشیر جگردار ہے،صرف حکمت عملی ،توکل علی اللہ ایمان کی وسعت کی ضرورت ہے،شعور کو بیدار کرلیں تو یہ خاکستر وہ ہے جو دشمنان دین کو پارہ پارہ کردے،انکا نام و نشان بھی مٹادے،ذہنی غلامی سے آزاد ہو تو یہ مٹی اس خون سے بھیگی ہوئی مٹی ہے جو اپنے بدلے لے کر سارے طاغوت اپنے ایٹم بم سے اڑاکر دنیا فتح کرلے۔
حرفِ رخصت ہے کہ ہم اور ہمارے لیڈر کس رستے کا تعین کرتے ہیں،ہم آزاد کیوں نہیں ہوتے یا ہونا نہیں چاہتے،ہمارے چولستان و بلوچستان ہم سے فریاد کرتے ہیں تو ہمارے لیڈر اقتدار کے لیے لڑتے نظر آتے ہیں،بھوک پیاس اور معاشی مسائل سے نکال باہر کرنے کی جستجو کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے گریبان پکڑے کھڑے ہیں تو ہ
کب آزاد ہونگے اور کب یہ نیوکلئیر طاقت کی وقعت کو سمجھ کر اسکے استعمال میں ایک تحریک برپا کریں گے اور کب میدان عمل میں چلتے پھرتے عمر و عثمان و علی نظر آئیں گے،کب خالد بن ولید اور صلاح الدین ایوبی کی تلوار نظر آئیں گے اور کب ہم ایک ایٹمی قوت کے علمبردار ہونگے۔