
ساس کا لفظ سنتے ہی جسم میں کپکپی سی طاری ہو جاتی ہے, ہمارے معاشرے میں ساس کا روپ بہت ڈراؤنا اور خطرناک سامنے آتا ہے. اور اس کا سامنا بھی عورت کو ہی کرنا پڑتا ہے….مثل مشہور ہے کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے.
ساسوں کی مختلف اقسام ہیں, یقینا کچھ بہت اچھی ہوں گی جو بہو سے دوستی رکھیں, ان کا خیال رکھیں, شادی کے بعد آنے والے مسائل پر ان کی مدد کریں, ان کی پسند نہ پسند کا خیال رکھیں, انہیں باہر شاپنگ پر لے جائیں, انہیں عزت سے بلائیں, ان کی پسند کی گفتگو کریں اور اپنے بیٹے کو بھی بہو کے خیال رکھنے تاکید کریں… ایسی ساسیں ہوں تو گھر جنت ہوں لیکن چونکہ ہم دنیا میں رہتے ہیں اس لئے ساس کی یہ قسم نایاب ہے بلکہ کم یاب ہے… ہاں کچھ ڈراموں کی حد تک یہ قسم دیکھنے کو ملتی ہے.
دوسری قسم کی ساس دراصل ساس ہے جس کا تجربہ ہر شادی شدہ لڑکی کو ہو گا, جب اس قسم کی ساس کا سنتے ہیں تو سانس ایک دم رک سا جاتا ہے, دل ایک بیٹ مس کرتا ہے… خوف سے.
ساس کی یہ قسم روایتی ساس کی ہے جو بہو پر حکمرانی کرنا, اس کو ہتک آمیز آنداز سے پکارنا, اس کے والدین کو برا بھلا کہنا, شوہر کے ذریعے میاں بیوی کے نازک رشتے میں ناچاکی کروانا, بات بات پر ٹوکنا , گالم گلوچ کرنا, خاموش ہونے پر کنی اور میسنی جیسے القابات دینا, بولنے پر زبان دراز اور بدتمیز کا لیبل لگا دینا شامل ہے… ساس کی یہ قسم جسمانی نہیں لیکن ذہنی طور پر ٹارچر کرتی ہے, اور اسی ذینی ٹارچر کے نتیجے میں عورت ہر وقت ڈری سہمی, خاموش اور ذینی طور پر پریشان رہتی ہیں. ذہنی پریشانی کسی طرح جسمانی پریشانی سے کم نہیں.
ہر اچھا اور برا کام کرنے کے لئے دماغ ہمیں سگنل دیتا ہے, اور اگر دماغ ہر وقت پراگندہ سوچوں اور ذہنی الجھنوں میں رہے گا تو کبھی بھی پروٹیکٹو کام نہیں کر سکے گا. شادی سے پہلے یہی لڑکیاں باصلاحیت ,باہمت , با کمال ہوتی ہیں, اگر سامنے آسماں ہو تو اس کو بھی چھو سکتی ہیں لیکن شادی کے بعد وہی لڑکیاں ساس کی نظر میں بےکار ترین لڑکیاں, جنہیں ماں باپ نے کچھ نہ سیکھایا ہو. اور یہی بہو جو پہلے ساس صاحبہ کی ہی پسند ہوتی ہے جسے شادی سے پہلے ماتھے پر چوما جاتا ہے بعد میں ساس کو زہر لگنے لگتی ہے. ساس کی یہ قسم عورت کو ذہنی طور پر مفلوج کر دیتی ہے..اور یہ ساس تقریبا ہر گھر میں پائی جاتی ہے.
شاید کوئی یہ سمجھے کہ باتوں سے کیا فرق پڑتا ہے لیکن اللہ تعالی کا بھی اپنے بندوں کو یہ حکم ہے کہ قولوا للناس حسنا..لوگوں سے بہترین انداز مہں بات کرو.
اور سائنس بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ اچھی اور بری دونوں گفتگو انسان پر اثر انداز ہوتی ہیں. اچھی گفتگو انسان کو اندر تک سرشار کر دیتی ہے ,کچھ نیا کرنے کا عزم اور ہمت پیدا کرتی ہے, اور یہ گفتگو ہی تو ہے جو آپ کو کسی کا گرویدہ بنا سکتی ہے.
تیسری قسم کی ساس خاصی خطرناک قسم کی ہے.. یہ ساس ذہنی اذیت کے ساتھ جسمانی تشدد سے بھی باز نہیں آتی. ظلم وزیادتی خود بھی کرتی ہے اور شوہر اور گھر کے دوسرے افراد کے ذریعے بھی عورت کو عذاب مسلسل میں رکھتی ہے. یہاں عورت کوصرف اس کے فرائض یاد رکھنے کو کہا جاتا ہے ..اور فرائض کی ادائیگی کے باوجود بھی جسمانی ٹارچر کیا جاتا یے. اور معاشرے میں یہ قسم بھی بڑھتی جا رہی ہے.
ساس کو ماں کا درجہ دیا گیا ہے,بلکل ایسا ہی ہے. ساس ماں کا درجہ ہی رکھتی ہے لیکن اگر کوئی اپنے اس رتبے اور مرتبے کو سمجھتے ہوئے آنے والی ایک نئی فرد کو اور جو اس ہی کی جنس سے تعلق رکھتی ہے, کھلے دل سے اپنے گھر میں جگہ دے اور یہ گھر اس کا بھی اتنا ہی سمجھے جتنا کہ ان کا خود ہے اور عزت واحترام دے, ساس بہو کے رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے اس کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھے, اس کو نئے آنے والے چیلنجز میں اکیلا نہ چھوڑے, عزت سے پکارے, ہر چیز میں اس کا مشورہ شامل کرے وغیرہ وغیرہ.
اور یقینا ہم بھی مستقبل میں اس عہدے پر فائز ہوں گے تو اس عہدے پر براجمان ہونے سے پہلے اپنے آپ سے عہد کریں کہ بہو پر حکمرانی کا خواب, اس کو اپنے سے کمتر سمجھنا اور اس کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا جیسے خواب خواب ہی رہنے دیں… انہیں حقیقت نہ بنائیں تاکہ ہمارے آنے والی نسلیں ہمیں اچھے نام سے یاد کریں اور آخرت میں حساب بھی کچھ آسان ہو۔