امی میں نے میرب کے لیے نیٹ سے ایک رشتہ ڈھونڈا ہے مجھے لڑکا پسند ہے لڑکا آرمی میں ہے ۔رابعہ نے چہکتے ہوے اپنی ماں نصرت بیگم کو بتایا !ارے تم تو کہہ رہی تھی کہ رشتے کروانی والی سے بات کرو گی پھر نیٹ سے کیوں تلاش کیا؟ امی نے پریشان ہوتے ہوۓ کہا دراصل امی رشتے والی منہ مانگی رقم مانگتی ہے اور ہم اتنی فیس نہیں دے سکتے جہیز بنائے یا رشتے کروانے والیوں کو دیں۔
آج کل نیٹ کا دور ہے سب کچھ نیٹ کے ذریعے ہو رہا ہے میں نے لڑکے سے بات کی ہے بہت اچھا ہے شہروز نام ہے اس کا۔ بس اس کے ماں باپ اسکی شادی خاندان میں کروانا چاہتے اور وہ خاندان میں نہیں کرنا چاہتا وہ خاندان سے باہر پڑھی لکھی لڑکی سے کرنا چاہتا ہے بعد میں والدین کو راضی کر لے گا۔ رابعہ نے اپنی والدہ کو تفصیل بتائی۔ نصرت بیگم تو یہ سنتے ہی پریشان ہو گی ارے یہ کیا ماں باپ کی مرضی کے خلاف چوری چھپے شادی کرے گا؟ نہیں میں تو یہاں نہیں کرنے والی۔۔ تم انکار کردوں نصرت بیگم نے تحکم بھرے لہجے سے کہا۔
امی آپ یہ بھی تو دیکھے کہ لڑکا آرمی میں ہے اتنی اچھی جاب شادی کے بعد فلیٹ بھی مل جاۓ گا راج کرے گی’ آپکی بیٹی سسرال کی کوئی ذمہ داری نہیں! نہیں میرے دل کو یہ رشتہ نہین لگ رہا۔ جسطرح گھر والوں سے چھپ کر شادی کر رہا ہے۔ اس طرح تو چھپ کر کسی بھی وقت چھوڑ دے گا۔ کچھ بھی ہو۔ والدین کو لے کر آئے رشتے لینے کے لیے ورنہ نہیں۔ نصرت نے غصے سے رابعہ کی طرف دیکھتے کہا ۔امی آجکل کے بچے اپنی مرضی سے زندگی گذارنا چاہتے ہیں وہ اپنے بڑوں کی رائے کو اہمیت نہیں دیتے ۔کیوں نہیں دیتے اگر کل کو اسکے والدین نے اسکی شادی کہیں کر دی تو میری بیٹی سوتن کیسے برداشت کرے گی؟ نہیں امی وہ کہہ رہا تھا کہ وہ اپنے وہ اپنے ماں باپ کو راضی کرلے گا، رابعہ نے کہا۔
جو شادی سے پہلے راضی نہ کر سکے وہ بعد میں کیا کرے گا، امی نے غصے سے کہا۔ امی میں نے اسے میرب کا نمبر دے دیا ہے۔ کیا کیوں دیا اس کا نمبر؟ امی میں اس سے اس قدر متاثر ہو گئ کہ میں نے نمبر دے دیا۔ رابعہ نے فکرمندی سے کہا ارے مجھ سے تو مشورہ کر لیتی نصرت بیگم سر پکڑ کر بیٹھ گئ ۔رابعہ بڑی بہن ہونے کے ناطے ہر کام میں آگے رہتی تھی گھر کے ہر کام میں نصرت بیگم اسی سے مشورہ لیتی تھی رابعہ کی شادی ہونے کے باوجود وہ اپنے میکے کے ہر مسئلے کو حل کر رہی ہوتی تھی میرب سیدھی سادی رابعہ کے کہنے پر آجاتی تھی ۔نصرت بیگم ہر بات پر کان نہ دھرتی وہ رابعہ کو بھی سمجھاتی کہ ہر کام میں جلد بازی ٹھیک نہیں لیکن رابعہ اپنی اس عادت کی وجہ سے ہر بار نقصان اٹھاتی میرب کا رشتہ ڈھونڈنے میں نصرت بیگم کو بہت دھکے کھانے پڑ رہے تھے ایک دو رشتے کروانے والیوں کو وہ خوب پیسے دے چکی تھی لیکن کوئی ڈھنگ کے رشتے نہ لاتی میرب کی بھی عمر نکلی جارہی تھی ۔ اب نیٹ پر آۓ ہوۓ رشتے پر کیسے اعتبار کرسکتی تھی ۔ بیگم نصرت نے یہ معاملہ اپنے شوہر کے سامنے رکھا انہوں نے کہا کہ اسے کسی دن گھر بلالو پھر دیکھتے ہیں۔
لیکن یہ کیا ابھی اس رشتے کو چند دن ہی گذرے تھے کہ میرب نے اس رشتے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کر دیا۔ کہ وہ شہروز سے ہی شادی کرے گی یہ اسکا أخری فیصلہ ہے ۔۔کیا اب تمھیں ہم سے ذیادہ اس لڑکے پر اعتبار ہے وہ اپنے والدین کو مناکر لے آۓ پھر تمھارے والد مان جائین گےامی میرے ساتھ کی ساری لڑکیوں کی شادی ہوگی أپ اب تک رشتہ نہیں ڈھونڈ سکے اب رابعہ آپی رشتہ لائی ہے میں اسے کسی طرح ہاتھ سے جانے نہیں دوں گی ۔میرب اور شہروز کے ٹیلی فونک رابطے نے رشتہ کروا ہی دیا ۔میرب کی ضد کے آگے ماں باپ نے ہار مان لی ۔شہروز کی چکنی چپڑی باتوں میں میرب آچکی تھی ۔اسے اپنا مستقبل شہروز میں ہی نظر آنے لگا۔اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ اپنی زندگی شہروز کے ساتھ گذارے گی۔آخر کار ماں باپ مان گیے۔ رشتے نہ ملنے کی صورت میں أخر یہی رشتہ قبول کرنا پڑا۔ شہروز چھٹیوں پر آیا تو اسکا سادگی سے نکاح کروادیا اور رخصتی اگلی چھٹیوں پر رکھی اسطرح شہروز کھل کر سامنے أگیا جہیز کا مطالبہ کرنے لگا کہ ہمارے ہاں تو لڑکیون کو ٹرک بھر کر جہیز دیتے ہین اسلئے تم بھی ہر چیز لانا ورنہ میرے دوستوں کے سامنے میری بے عزتی ہو جاۓ گی لحاظ میرب نے ہر چیز اپنے ابو سے اصرار کر کے بنوائی اس طرح یہ شادی دھوم دھام سے ہوئ ۔ دو کمروں کا گھر میرب کے جہیز سے بھر گیا۔شادی کے دوسرے دن ہی وقت پر ناشتہ نہ ملنے پر ایک تھپڑ ملا اسطرح ہر چھوٹی باتوں پر شہروز کا ہاتھ اٹھانا ایک وطیرہ بن گیامیرب یہ سب اسلیے برداشت کرتی رہی کہ اسکا گھر بسا رہے ورنہ ماں باپ کو شکایت لگانے کی صورت میں آگے سے اسے ہی طعنے ملیں گے کہ تم نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی ۔شہروز ایک نفسیاتی شخص تھا جو ہر وقت میرب کے کاموں پر طنز و تنقید ہی کرتا تھا لیکن میرب اسکو خوش کرنے کے لیے ہر وقت گھر کے کاموں میں مصروف رہتی شادی کے چند مہینے میں ہی خوشخبری مل گئ سوچا شاید اب شہروز تبدیل ہو جاے گا لیکن بے سود۔
ایک دفعہ میرب اپنی طبیعت خراب ہونے کے باوجود گھر کے کام میں مصروف تھی شہروز نے ڈیوٹی پر جانا تھا اس نے کئ بار اسکو اٹھایا لیکن وہ رات دیر سے سونے کی وجہ سے گہری نیند سورہا تھا کئی بار أکر میرب نے جگایا ۔جب شہروز کی أنکھ کھلی تو ڈیوٹی کا وقت نکل چکا تھا شہروز کو بہت غصہ آیا اور اس نے میرب کو اس بات پر پیٹنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے اسکی طبیعت خراب ہوگی اور اس نے اسکی پرواہ نہیں کی اسے اسی حالت میں تڑپٹا چھوڑ کر اپنے کام پر چلا گیا میرب نے اپنے آپکو گھسیٹتے ہوۓ اپنی امی کو کال کی کہ وہ فورا آجائیں امی ایک گھنٹے کی مسافت پر رہتی تھی ،پہنچنے میں دیر ہوگئ ،ادھر شہروز بھی امی کا فون نہیں اٹھا رہاتھا۔ جب امی پہنچی تو میرب کو اس حالت میں دیکھ کر پریشان ہوگئی۔ جگہ جگہ زخم کے نشان اس پر ظلم کی داستان سنارہے تھے۔ جب ہوسپٹل لے کر گئے تو مسکیرج ہوچکا تھا میرب نے فیصلہ کرلیا کہ اب وہ اس جنگلی شخص کے ساتھ ہرگز نہیں رہے گی جس نے اپنی اولاد کو بھی نہیں چھوڑا اور اس حالت میں اسے چھوڑ کر چلا گیا ماں باپ سے بھی بیٹی کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی ۔