
تحریر: حجاب گل، کراچی
اے آر وائی اور جیو نے انڈین ڈراموں کی دیکھا دیکھی گھٹیا ڈرامے پیش کرنے کی روایت ہی ڈال دی تھی کہ مجھے تو عرصہ ہی ہو گیا تھا کہ کوئی ڈرامہ دیکھا ہو، عام خواتین کے لیے ساس بہو کے جھگڑے اور لگائی بجھائی میں شاید کوئی سبق یا ٹپس چھپی ہوتی ہیں تو وہ ذوق و شوق سے دیکھتی رہتی لیکن میرے جیسے لوگوں کے لیے یہ گھسے پٹے اسکرپٹ کے سوا کچھ نہیں تھا یہاں تک ” تیرے بن” کی بھی چند اقساط کے سوا دیکھنے کا یارا نا ہوا کہ مزید اقساط کا معیار بالکل فارغ تھا۔
گرین چینل نے پہلے اپنے ڈراموں کی پرموشن شروع کی تو اکا دکا سین دیکھ کر لگا کچھ بہتر آنے والا ہے، پھر اتفاقا ایک دن کابلی پلاؤ دیکھا، تین اقساط گزر چکی تھی اور اب پہلی قسط سے لے کر تین اقساط اکھٹی دکھائی جا رہی تھی. حاجی مشتاق کی اداکاری، باربینہ کی اداکاری پشتو بولنے کا لہجہ، انداز، پورا گیٹ اپ، کہانی کی بنت یہاں تک سات اقساط گزرنے کے باوجود کہانی میں جھول نہیں،. دلچسپی کے معیار میں فرق نہیں لکھنے والا دیکھا تو ظفر معراج تھے۔
جیسے پیاسے کو میٹھا پانی پینا نصيب ہو جائے اور وہ سیراب ہونے لگے، عرصہ ہو گیا تھا اچھا ناول بھی پڑھنے کو نہیں ملا تھا باربینہ (سبینہ فاروق) کی اداکاری نے تو جیسے بہترین اسکرپٹ کو چار چاند لگا دئیے تھے. ایک سادہ لوح افغان پٹھان عورت کو جیسا ہونا چاہیے، باربینہ نے اپنے چہرے کے تاثرات، آنکھوں کی اداسی، لب و لہجہ، چال ڈھال، لباس میک اپ سے عاری چہرے کے ساتھ اس عورت میں خود کو سمو دیا تھا، سبینہ فاروق کو وہ گھر چھوڑ کر آتی ہے۔
احتشام الدین جو خود ڈائریکٹر، رائٹر،. پروڈیوسر اور ایکٹر بھی ہیں حاجی مشتاق کے روپ میں بڑی عمر کا نیک لیکن کنوارا انسان جب شادی کے بندھن میں اچانک بندھ گیا ہے اور اپنے کم عمر لڑکی کے لیے چہرے پہ شفقت، آنکھوں میں محبت، چہرے پہ الجھن، چھوٹی عمر کی لڑکی کے ٹوٹے خوابوں کا درد اور اضطراب سب رنگ چہرے پہ دکھائی دیتے اور مجھے سمجھ نہیں آئی کہ اہنی ذات میں اداکاری کی پوری اکیڈمی لئے اپنے پورے وجود سے بالکل قدرتی اداکاری کرنے والا یہ اداکار ابھی تک نظر سے اوجھل کیوں رہا؟
اسی ڈرامے نے بتایا کہ سبینہ فاروق (باربینہ) اداکاری کی دنیا کا گوہر نایاب ہے گرین چینل نے جیون نگر، گڈو، 22 قدم، جندو جیسے منفرد اسکرپٹ کے ڈرامہ دکھا کر ڈرامہ انڈسٹری میں نئ روح پھونک دی ہے اب باقی چینلز پہ چھائے مافیہا کو پتا چلے گا کہ عوام کیا دیکھنا چاہتی ہے جنھوں نے فحاشی سے بھر پور، اصل زندگی سے کوسوں دور، مادیت میں ڈوبے سٹار پلس کو نقل کرتے بےکار اسکرپٹ والے ڈرامے دکھا دکھا کر نسل کو بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ کپڑوں جوتوں فیشن چغلياں، ساس نند، بہو جھگڑے یہ وہ عجیب تھا سب۔
ان سب میں گرین چینل جیسے موسم بہار بن کر وارد ہوا ہے اور کاشف نثار ڈائریکٹر خصوصی داد کے مستحق ہیں. امید ہے گرین چینل اس روایت کو برقرار رکھے گا اور اسی طرح بہترین اسکرپٹ پہ مبنی ڈرامے پیش کرتا رہے گا۔