شاعریصفحہ اول

پھر سے غزنوی آئے (آزاد نظم)

وقت کی ضرورت ہے
خود کو اب سنبھالیں ہم
اب بہت ضروری ہے
زندگی بچانی ہے
ہر طرف جو پھیلی ہے یہ ہوس زمانے میں
ہر کوئی ہی الجھا ہے غم سبھی مٹانے میں
بھوک ہے، غریبی ہے، قحط کی وبا بھی ہے
کر کرم مرے مولا
ان غریب غُربا پر
قرض میں جو ڈوبے ہیں
ہیں بہت اذیت میں
مرض میں گھرے ہوئے لوگ روز مرتے ہیں
اب ملے شفا ان کو
سب دعا کریں مل کر
اب دعا ضروری ہے
ملک کے غریبوں کی کوئی بھی نہیں سنتا
سن سدا مرے مولا
معتبر بنے ہیں جو لوگ اس زمانے میں
خود کو ہیں سمجھتے وہ اب خدا زمانے کا
ہیں ہڑپ رہے یہ حق خاندان والوں کا
دوسروں کی خوشیوں سے خوش نہیں جو ہوتے ہیں
ان سے اب ضروری ہے
جان کو چھڑائیں ہم
ان ہوس پرستوں سے فاصلہ ضروری ہے
ہر طرف جو پھیلے ہیں ظلمتوں کے سائے یہ
اب انہیں مٹانا ہے
پھر سے مسکرانا ہے
دین کو بچانا ہے
وقت کی ضرورت ہے
پھر سے غزنوی آئے

طوبیٰ نور خانمؔ (شہداد پور، سندھ)

Back to top button

New Report

Close