افسانےصفحہ اول

دختر پا بجولاں (کہانی)

ازقلم: ریما حنا، لاہور

رات کی سیاہی روپہلی کرنوں کے سلام کے ساتھ رخصت ہوئی۔ اللّٰهُ اكبر کی صدا بلند ہوتے ہی حویلی کے پچھلی جانب بنے سرونٹ کواٹرز کی لائن میں موجود آخری کواٹر کی بتی جل چکی تھی۔ کمرے میں سرخ غلاف میں لپٹا قرآن طاق پر رکھا تھا۔ اس کے بالکل نیچے چٹائی بچھی تھی جس پر وہ پوری رات عبادت کرنے کے بعد کچھ دیر آرام کی غرض سے لیٹی تھی۔ اذان کی صدا بلند ہوتے ہی اٹھ بیٹھی، پیروں میں پڑی بیڑیاں خاموش فضا میں ارتعاش کا باعث بنیں۔ چادر کو سمیٹ کر ایک طرف کرتے ہاتھوں میں موجود زنجیریں اسے زندان کی قید اور اپنی سزا یاد دلاتی تھیں۔

وضو کا پانی بہاتی وہ شہادت کی انگلی بلند کرتی کلمہ شہادت پڑھتی چادر چہرے کے گرد لپیٹتی نماز کی نیت باندھ چکی تھی ۔سفید چادر میں مقید چہرہ یوں لگتا تھا گویا چاند کا حالہ ہو ۔
سلام پھیر کر اسنے اپنے ہاتھ دعا کے لٸے بلند کیے تو آنسو خود بخود پلکوں کی باڑ توڑ کر بہہ نکلے۔

میرے مالک و پروردیگار! میں تجھ سے تیری پاکیزہ صفت کے وسیلے سے اپنے لٸے پاکیزگی طلب کرتی ہوں۔ میرے جابر و قہار! میں پناہ مانگتی ہوں تیرے قہر سے تیرے جبر سے تیری ناراضگی سے۔

میں گناہوں میں لتھڑی تیری گنہگار بندی تیری کبریاٸی کا واسطہ دے کر اپنے لٸے رحم طلب کرتی ہوں۔

مجھے اپنے پسندیدہ بندوں میں اٹھانا ۔ مجھے رسوائی اور بدنامی کی زندگی بسر کرنا مشکل نہیں لگتا مجھے بدی کی موت سے بچانا میرے مولا ! میری حقیقت سے تو واقف ہے نا مالک! مجھے بچانا اس دن کی رسوائی سے جب سب کے عیب بے پردہ ہوجائیں گے اور وہ اپنے اعمال کا صلہ پا لیں گے۔

مجھے اس دن کی سختی سے محفوظ رکھنا میرے مولا “۔
اپنے ہاتھوں کو منہ پر پھیر کر وہ اٹھی تھی۔ تبھی دروازے کی زنجیر بجاٸی گٸی تھی۔ وہ چونک اٹھی تھی۔ دل کسی خدشے کے پیش نظر بری طرح پھڑ پھڑایا تھا۔ یہ زنجیر اس وقت ہلائی جاتی تھی جب حویلی سے اس کے لٸے بلاوا آتا تھا۔ پچھلی بار اس کی امو جان کی وفات پر بلاوا آیا تھا کہ وہ اپنی ماں کا آخری دیدار کر لے۔ آج 18 سال بعد یہ دستک دی گٸی تھی۔ اس کا چونکنا بنتا تھا، اس کی حیرانگی بجا تھی۔

اس نے کھڑے ہوتے قدم دروازےکی جانب بڑھائے۔ پیروں میں پڑی بیڑیاں اور ہاتھوں کی زنجیر کی لمبائی فقط اس دروازے تک ہی تھی۔ دروازے کی زنجیر اندر سے اتنی بلند تھی کہ اس کے ہاتھ بامشکل اس تک پہنچ پاتے تھے لوہے کی زنجیر اس کی نازک کلائیوں کو زخمی کر گٸی تھی اور وہ اس زخم کو زندہ رکھنا چاہتی تھی۔ ناسور کی طرح اسے یاد دلاتا تھا کہ یہ کلائی ایک نامحرم  نے بھرے مجمع میں پکڑی تھی، جس کی پاداش میں وہ زندان میں ڈالی گٸی تھی۔

“حور بی بی آپ کو شاہ صاحب نے بلایا ہے۔”
مودب کھڑی ملازمہ نے جھکے سر کے ساتھ اس تک بڑے شاہ صاحب کا پیغام پہنچایا تھا۔ پھر آگے بڑھ کر چھوٹے سے کمرے کے کونے پر بندھی کیل سے چابی ڈال کر اس کی زنجیر کا تالا کھولا گیا۔

“پردہ کر لو “ملازمہ نے با آواز بلند کہا

اس نے کواٹر سے قدم باہر نکالے تو حویلی کے پائیں باغ میں مصروف تمام مرد ملازموں نے پیٹھ موڑ کر ایک طرح سے پردہ کیا تھا۔ انہیں اجازت نہیں تھی چھوٹی بی بی کے سامنے کھڑے ہونے کی۔

زنجیروں میں جکڑی جب وہ سر سے پیروں تک سفید چادر سے ڈھکی حویلی کے دلان میں پہنچی تو ہر نفس کی نظروں کو خود پر مرکوز پایا،  اس کے قدم ڈگمگائے، وہ جھجکی اور ملازمہ کا سہارا لیا۔ گہری سانس لے کر خود کو سنبھالا، یوں لگ رہا تھا جیسے وہ میلوں مسافت طے کر کے آئی ہے۔

جرگے میں معزیزین شریک تھے۔ مرکزی نشست پر اس کے بابا شاہ سلجوق اور ساتھ چھوٹے شاہ امروز برا جمان تھے۔ دائیں جانب زنان خانے کی طرف جالی دار دیوار کے پار حویلی کی خواتین اور گاٶں کے معززین مستورات فیصلے کی منتظر تھیں۔

دفعتاً شاہ افراسیاب اس کی جانب بڑھا جو اس کا چچا زاد تھا اور وہی اس کا مجرم اور گنہگار بھی تھا۔

جرگہ بلانے کا مقصد آپ سب کو ابھی معلوم ہو جائے گا۔ اس نے حاضرین پر ایک طائرانہ نگاہ ڈال کر کہا۔

چند قدم اور حورعین کی جانب بڑھا۔

حورعین چند قدم پیچھے سرکی اس کی سوچیں اس کے دماغ میں ادھم مچا رہی تھیں22 سال پہلے اسی حویلی کے دلان میں شاہ میر ہادی نے جرگہ بلایا تھا۔

حورعین کے بڑے بھائی شاہ میر ہادی کی بارات کے اگلے روز۔
یہیں اسے ناکردہ گناہ کی سزا سنائی گٸی تھی۔ گویا اسے زندہ درگور کردیا گیا تھا۔ آنسو لڑیوں کی صورت چہرے سے بہتے دامن میں جذب رہے تھے۔

“میں شاہ افراسیاب جرگہ کے سامنے با آواز بلند یہ اعتراف کرتا ہوں کہ حورعین بی بی ولد سلجوق شاہ بالکل بے قصور ہے ۔ 22 سال پہلے اس جرگہ میں ہوئے غلط فیصلے کی وجہ میں ہوں۔ اس رات میر ہادی کی بارات لانے کے بعد میں اپنی منگیتر کشمالہ کے ساتھ چھت پر تھا۔ جسے میں کچھ دیر باتیں کرنے کو اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بلایا تھا ۔ حورعین اس کی ماموں زاد ہونے کے ناطے اسکے ساتھ آئی تھی۔

میر ہادی نے جب چھت پر ہمیں دیکھا تو میں نے اپنی محبت پر آنچ آنے کے ڈر سے اسے چھت پر پڑے سامان کے پیچھے چھپا دیا تھا اور حورعین کو میرے ساتھ دیکھ کر میر ہادی نے غلط سمجھ لیا چونکہ میری شادی کی تاریخ بھی رکھی جا چکی تھی مجھے حورعین کے ساتھ پکڑے جانے پر جرگہ بلایا گیا۔ میں نے خود غرضی کی انتہا کو چھوتے حورعین کے خلاف جھوٹی گواہی دی کہ اس نے مجھے دھوکے سے بلایا تھا ۔ نتیجتاً آپ سب کے مشترکہ فیصلے پر اسے زندہ درگور کیا گیا۔ ”

اس کے ذہن کے پردے پر وہ دن روز اول کی طرح تازہ تھا۔
جب جرگہ میں اس سے اپنی صفائی میں کچھ بولنے کا کہا گیا تھا۔ اس کے ہلتے لب دیکھ کر افراسیاب بوکھلا کر بڑھا تھا اور اس کی کلائی تھام لی تھی۔

وہ جو کچھ بولنے والی تھی اپنی صفائی میں حیران ہی رہ گٸی تھی اس کی 15 سالہ زندگی میں آج پہلی بار کسی نا محرم نے اسے چھوا تھا۔
میر ہادی کے جواں خون نے جوش مارا اور لفظوں کا پہلا سنگ اسی کی جانب سے حورعین کے ماتھے پر لگا تھا۔ جس کا نشان آج بھی تازہ تھا۔
سنگساری کے بعد جب جرگے نے اپنا فیصلہ سنایا کہ وہ شاہ افراسیاب کے نکاح میں دی جائے گی تو پہلی بار اس کے لب ہلے۔

“مجھے آپ کا فیصلہ منظور نہیں ہے بابا سائیں۔ “وہ چیخی
شاہ سلجوق اور شاہ امروز نے اسے گھورا تھا۔

” مجھے زندان میں ڈالا جاٸے ۔ میں تاحیات ان زخموں کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی خواہشمند ہوں ۔ ”

افراسیاب اور کشمالہ دونوں چپ تھے اور ان کی چپ نے حورعین کے نصیب میں زندان کی تاریکی لکھ دی تھی۔

اسے بیڑیوں میں جکڑ کر حویلی کے سرونٹ کوارٹرز میں سے سب سے آخر والے میں قید کیا گیا تھا۔ اس کی یاداشت میں اس کی امو جان کا جرگہ کے فیصلے پر بے دم ہو کر گرتا وجود آج بھی محفوظ تھا۔ وہ حویلی کی سب سے چھوٹی سب سے لاڈلی بیٹی تھی۔

جرگہ میں موجود تمام افراد حیرت زدہ تھے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔

شاہ افراسیاب اور کشمالہ دونوں حورعین کی جانب بڑھے تھے اور بیڑیوں میں جکڑے اس کے پیروں کو پکڑنا چاہا تھا۔ وہ ایک دم پیچھے ہوئی۔

“نہیں افراسیاب نہیں۔  22 سال پہلے تم نے اسی جرگہ میں میری بے توقیری کی تھی میری کلائی تھام کر۔ جس کی سزا میں خود کو آج تک دیتی آ رہی ہوں۔ اس لمس کو میں نے ناسور بنا کر آج بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔ ”

اس کی بات سن کر افراسیاب کے چہرے کا رنگ لٹھے کی مانند سفید پڑا تھا جبکہ کشمالہ اپنے بھاری وجودکے ساتھ اس کے پیروں پر ہاتھ رکھ کر گڑگڑائی۔

“ہمیں معاف کردو حورعین، تمہارے ساتھ کی گٸی زیادتی کی سزا ہم دونوں 7 بار مردہ بیٹیوں کو دیکھ کر بھگت رہے ہیں۔ ہر بار بیٹی ہوتی ہے اور ہر بار ہی خدا اس کے ساتھ نٸی آزمائش بھیجتا ہے۔ ہم نے حویلی کی بیٹی کے ساتھ جو ظلم کیا اس کی سزا اللّٰہ ہمیں مردہ بیٹی کی صورت دیتا ہے ۔ 22 سالوں میں 7 بار تخلیق کے عمل سے گزر کر بھی اولاد کے لمس سے محروم ہوں۔ دو دن پہلے میرے ہاں آٹھویں بار بیٹی پیدا ہوٸی ہے وہ اسپتال میں ہے ۔ ڈاکٹر اس کی زندگی کے لٸے زیادہ پر امید نہیں ہیں ۔ ہم تم سے معافی مانگتے ہیں سب کے سامنے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ تم پاکدامن تھی پاکیزہ تھی۔ غلطی ہماری تھی۔”

زارو قطار روتے وہ دونوں اس کے سامنے موجود تھے۔

“تو اپنی اولاد کی محبت نے تمھیں اتنا مجبور کیا افراسیاب کہ تم زندان میں پڑی قیدی، جسے گاٶں والے شاید بھلا بھی چکے تھے اس بھولی بسری قیدی کو معافی دلوانے کا خیال آیا” ۔

وہ بولی تو زمانوں کی تھکن اسکے لہجے سے عیاں تھی ۔
آسمان کی جانب نگاہ اٹھا کر دیکھتی وہ مسکرا دی تھی ۔ ایسی درد بھری مسکراہٹ کہ جرگہ میں موجود تمام افراد اشکبار تھے ۔

“میں نے معاف کیا ۔ میں نے معاف کٸے وہ تمام ماہ وسال کے گزرے اذیت بھرے لمحے جو میں نے بے جرم ہوتے گزارے ۔ میں نے معاف کٸیے اپنے شباب کے وہ روزوشب جنکو تمھاری محبت کی آندھی اپنے ساتھ اٹھا لے گٸی ۔ میں معاف کرتی ہوں تمھیں اپنی جواں سالہ موت جو آج سے باٸیس سال پہلے اسی جرگہ میں واقع ہوٸی تھی ۔ اب تو فقط زندہ لاشا ہے جسے گھسیٹ کر زندگی کے لمحات گزار رہی ہوں “۔

جرگہ میں فقط افراسیاب اور کشمالہ کی ہچکیوں کی آواز سناٸی دے رہی تھی ۔

“حورعین بی بی کی پاکدامنی ثابت ہونے پر جرگہ اسے زندان سے رہاٸی کی نوید سناتا ہے ۔ حورعین بی بی کی بیڑیاں کھول کر انھیں حویلی میں باعزت طور پر رہاٸش کی اجازت دیتا ہے ۔ چونکہ حورعین بی بی خود اپنے گنہگار کو معاف کر چکی ہے اس لٸے شاہ افراسیاب کو کوٸی سزا نہیں دی جاٸیگی بلکہ غلط فیصلے کی پاداش میں حورعین بی بی کے گزرے ماہ و سال کی صعوبتوں پر جرگہ معافی کا طلبگار ہے ۔ ”

جرگے کے معززین نے فیصلہ سنا دیا تھا ۔ اسکی بیڑیاں کھول دی گٸی تھیں ۔ وہ وہیں گھٹنوں کے بل گری تھی اور دعا کی غرض سے ہاتھ بلند کٸیے تھے ۔

“میں شکر گزار ہوں مالک !صفات گزار ہوں ، میرے مولا !کہ اپنی بندی کو معاف کر دیا تو نے ۔ میں شاہ افراسیاب اور کشمالہ کا ہر ظلم تہہ دل سے معاف کرتی ہوں ۔ تو بھی معاف فرما دے مولا ۔ اسکی بیٹی کو میری زندگی لگا دے مالک ۔ میری آخری التجا قبول فرما” ۔

حورعین کے لبوں سے نکلی دعا سیدھا عرش معلیٰ پر پہنچی تھی تبھی شاہ افراسیاب کے موباٸل پر ہسپتال سے کال آٸی تھی کہ اسکی بیٹی کی زندگی خطرے سے باہر تھی۔

سجدے میں گری حورعین کی روح قصرِ فسانی سے پرواز کر چکی تھی۔

Back to top button

New Report

Close