صفحہ اولناول

طالب و مطلوب (حصہ چہارم)

ناول نگار: عروج اصغر
وہ افسردگی سے چھت کو گھورتی جا رہی تھی۔ اپنی قسمت اور تھکا دینے والی سوچوں سے لڑ لڑ کر وہ عاجز آچکی تھی۔ کوئی حل نکلتا ہی نہیں تھا، کوئی خوشی اور تبدیلی اس کی زندگی میں آکر بھی نہیں آتی تھی۔ اس کی ہر کوشش ناکام ہو جاتی تھی۔
وہ خود پر حیران تھی کہ پہلے وہ کسی محبت کرنے والے کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی تھی اور اب اسے جو مطلوبہ شخص مل چکا تھا تو وہ اس سے ڈر رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں پاگل پن دیکھ کر اسے لگا کہ اسے یہ سب نہیں چاہیے وہ خود کو سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اسے اب زندگی سے کیا چاہیے اور کیسے اسے سکون ملے گا؟
اچانک اسے خیال آیا۔ اس کی روح اس کے جسم کو پھاڑ کر باہر نکلے گی تب شاید اسے سکون مل جائے۔
اس نے شادی کے بعد سے خود کو کبھی اپنی زندگی سے راضی نہیں پایا تھا۔ اس نے اپنی شادی کو یوں چلایا تھا جیسے ایک بچہ روز اسکول جانے سے پہلے خوب روتا ہے اور بھاگنے کے منصوبے بنا رہا ہوتا ہے مگر اس کے سارے منصوبے دھرے رہ جاتے ہیں اور اسے پھر بھی روز اسکول جانا ہی پڑتا ہے۔
پہلے پہل اس نے اپنے ذہنی سکون کے لیے خود کو بہت زیادہ عبادات میں مصروف کیے رکھا مگر یہ ہمیشہ وقتی سکون ہی ثابت ہوا اور مستقل حل نہیں بن پایا۔
مسلسل دعاؤں اور عبادات والی پرہیزگاری کی زندگی بھی جب اس کی زندگی بدل نہ سکی تو آہستہ آہستہ وہ مایوس ہونے لگی اور زندگی سے دور ہونے لگی۔
ذاکر کی اس سے بیزاری نے اسے احساس دلایا کہ وہ دونوں بہت الگ ہیں۔ وہ صرف اسلامی اصولوں کو فالو کرتی تھی جب کہ ذاکر اسلامی گھرانے سے ہونے کے باوجود ماڈرن طرز زندگی کو اپنا چکا تھا۔
وہ اس کا اور اپنا دل بدل نہیں سکتی تھی جس میں ایک دوسرے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی مگر زندگی اکٹھے گزارنا اس کی مجبوری بن چکی تھی۔ وہ کچھ بھی کر لے مگر اس زندگی سے بھاگ نہیں سکتی تھی۔
اس نے خود کو تنہا کر لیا اور اکثر بیمار رہنے لگی۔ وہ ہمیشہ سے بہت نازک تھی ذرا سا غم جو اس کے دل پر جا لگتا تو وہ بیمار ہو جایا کرتی تھی اور یہ بات حبیبہ بیگم اچھے سے جانتی تھیں۔ اسی لیے جب وہ زیادہ بیمار رہنے لگتی تو انہیں فکر لگ جاتی اور وہ بار بار پتہ لگانے کی کوشش کرتیں کہ اسے کیا پریشانی ہے۔ مگر اب وہ بڑی ہو چکی تھی اور ان سے بہت سی باتیں چھپانے لگی تھی۔
پھر اس کی زندگی میں عروہ آئی اور اس کو لگا زندگی بہت مختلف ہے۔ وہ اسے دیکھ کر تھوڑا جینے لگی۔
وہ خوش رہنے لگی اور اس نے ایک الگ ہی زندگی جینے کا ڈھنگ سیکھا۔ وہ اپنی پسند کا ہر کام کرنے لگی۔
اسے جلد ہی احساس ہوا کہ ذاکر کو عروہ جیسی ماڈرن لڑکیاں پسند ہیں تو وہ ذاکر کی توجہ پانے کے لیے ماڈرن طرز زندگی کو اپنانے لگی۔ چونکہ وہ حسین تھی تو جلد ہی اسے اس نئی تبدیلی نے بدل کر رکھ دیا۔ اچانک سے وہ ہر کسی کی توجہ کا مرکز بن گئی۔
سب کچھ کر کے بھی اسے جو خوشی چاہیے تھی وہ ذاکر سے نہ مل سکی۔ یوں بھی وہ پاکستان میں کم ہی آتا تھا۔ جب تک اس کا دل لگنے لگتا وہ واپس جانے کو تیار ہوتا اور وہ اداسی اور صدمے سے اسے جاتے ہوئے دیکھتی۔
اسے احساس ہوا اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے سوائے تنہائی کے اور وہ اپنی زندگی سے ایک بار پھر مایوس ہو گئی۔
وہ جب بھی غور کرتی تو اسی نتیجے پر پہنچتی کہ شادی سے پہلے اس کی زندگی ایسی نہیں تھی اور یہ سب اس کے ذاکر سے جڑے اس مجبوری کے رشتے کی وجہ سے ہے۔ اسے لگنے لگا جب وہ اس رشتے سے آزاد ہو جائے گی تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔
اسے اپنی مرضی کا ہمسفر چاہیے تھا جو اسے سمجھے، اس کے ساتھ قہقے لگائے، اس کے ساتھ سارے پاگل پن کرے، چاہے کوئی بھی وقت ہو وہ اس کے ساتھ کبھی بھی کہیں بھی چلنے کو تیار ہو اور اس کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہو۔
مگر وہ سمجھ چکی تھی یہ سب وہ اس زندگی میں حاصل نہیں کر سکتی۔ اس کی بہت چھوٹی عمر میں شادی کر دی گئی تھی اور اب اس کے دو بچے تھے جن کے لیے وہ اپنی زندگی کا کوئی بھی فیصلہ نہیں لے سکتی تھی۔ اسے اس رشتے سے نکلنا ناممکن لگنے لگا۔ اسے اپنی اس زندگی سے نفرت تھی جو ایک ہی بار ملنی تھی مگر وہ اسے اپنی مرضی کے مطابق گزار نہیں سکتی تھی۔
ایک دن اس نے ایک بیان میں سنا کن کن وجوہات پر عورت خلع لے سکتی ہے اور پھر اسے سمجھ آ گئی کہ اسے خلع لے لینی چاہیے۔ جب اس نے حبیبہ بیگم سے اس بات کا ذکر کیا تو وہ ناراض ہونے لگیں۔ انہیں یاد آگیا کہ باقی بیٹیاں بھی طلاق لے کر دوسری شادیاں کر چکی ہیں اب اگر وہ آخری بچی ہے جو اپنی پہلی شادی چلا رہی ہے تو اسے کسی بھی طرح اسی شادی کو چلانا چاہیے اور ذاکر چونکہ سب دامادوں میں سب سے زیادہ کماتا ہے تو اسے صرف پیسے کو اہمیت دینی چاہیے۔
حبیبہ بیگم ایک آزاد ماحول والے گھرانے سے تعلق رکھتیں تھیں۔ جبکہ صغیر صاحب بہت اسلامی تھے اس لیے ان کی آپس میں کبھی نہیں بنی تھی۔ پھر وہ ایک زمیندار گھرانے سے تھیں جبکہ صغیر صاحب بہت زیادہ تعلیم یافتہ ہو کر بھی خاندان میں سب سے کم کماتے تھے جس پر وہ انہیں کم تر ہونے کا احساس دلاتی رہتی تھیں۔ ان کو اپنے بھائیوں سے بھی گلہ رہتا تھا کہ انہوں نے صغیر صاحب سے ان کی شادی کیوں کروائی۔ وہ جانتی تھیں کہ ان کے خاندان سے باہر رشتہ نہیں کیا جاتا اور اسی رسم نے ان کی زندگی خراب کر دی تھی۔ اب وہ اس کا بدلہ صغیر صاحب کی اولاد سے لیتی تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ وہ اپنی زندگی میں خوش نہیں ہے مگر وہ یہ سمجھنا ہی نہیں چاہتی تھیں۔ انہیں ذاکر کا زیادہ کمانا اور ان کی بیٹی پر پاگلوں کی طرح اڑانا بہت پسند تھا۔
اس کی باقی چاروں بہنیں اپنی والدہ کی طرح آزاد خیال تھیں۔ وہ اپنی زندگی کے فیصلے اپنی مرضی سے لیتی تھیں اور من مرضی کی زندگی گزار رہی تھیں جبکہ وہ ہمیشہ سے والدین کی تابعدار رہی تھی۔ وہ سب بہنوں میں واحد تھی جس پر آج بھی اپنے والد کی تربیت کا اثر باقی تھا۔
اسے اچانک سے لگنے لگا اسلامی اصولوں نے اسے قید کر رکھا ہے اس لیے وہ اپنے گھر میں واحد ہے جو وہ اپنی مرضی سے نہیں جی سکتی۔ حبیبہ بیگم کے بار بار احساس دلانے پر کہ پیسہ ہی سب کچھ ہے، وہ اپنے لیے کوئی فیصلہ نہ لے پائی۔
پھر اس نے دوبارہ کبھی ان سے خلع کا ذکر تو نہیں کیا مگر اندر ہی اندر وہ کڑھنے لگی۔ وہ جان چکی تھی کہ اسے اپنی زندگی میں کیا چاہیے۔
اب وہ سب بھول کر پاگلوں کی طرح اسی کی تلاش کرنے لگی تھی اور آج اپنی تلاش ختم ہوتی دیکھ کر وہ ڈر گئی۔
اسے لگا وہ جس زندگی کو جینے کی حسرت کر رہی تھی وہ اس کے لیے ہے ہی نہیں اور اس کی ہر کوشش ناکام ہو جائے گی۔ خود سے لڑتے لڑتے وہ تھک کر سو گئی۔
اگلی صبح وہ بستر سے اٹھ نا پائی۔ اگلے دو دن وہ بستر پر ہی پڑی رہی۔
ذاکر کا فون آیا تو ہانیہ نے اسے بتایا کہ ماما کو تیز بخار ہے۔ اس نے تشویش زدہ سا اپنی ساس کو فون کیا کہ اس کے گھر جا کر عروش کا پتہ لیا جائے۔
حبیبہ بیگم مشکل سے وقت نکال کر اگلے دن آئیں تو اسے بخار میں تپتا دیکھ کر پریشان ہو گئیں۔
پہلے گھر پر ہی دوائیوں سے علاج ہوتا رہا مگر جب دو دن تک اس کا بخار نہ ٹوٹا تو اسے ہسپتال لے جایا گیا۔
اس کی تشویشناک حالت دیکھ کر اسے وہیں داخل کر لیا گیا۔ کچھ ٹیسٹ ہوئے تو پتہ چلا اسے ڈینگی بخار ہے اور اس کے پلیٹلیٹس بہت کم رہ گئے ہیں۔
کورونا وائرس کے بعد شہر بھر میں ڈینگی بخار سے بڑھتی اموات کی خبروں نے سب کو خوفزدہ کر رکھا تھا۔ کسی کے لیے بھی یہ سننا ہیبتناک تھا کہ ان کے گھر میں کسی کو ڈینگی بخار ہوا ہے۔ وہ پہلے اس بیماری کو لے کر پریشان تھیں پھر جب انہیں اکیلے اسے مسلسل سنبھالنا پڑا تو وہ مزید پریشان ہو گئیں۔ انھوں نے باقی بیٹیوں کو اس کے پاس آ کر رکنے کے لیے فون کیا تو پتہ چلا سب کے گھر میں کوئی نہ کوئی مسئلہ ہے اور ان کے علاوہ اس کے پاس رکنے والا کوئی نہیں۔
————*
گھر لوٹنے کے بعد اسے احساس ہوا شاید ان کی کسی بات نے عروش کا دل دکھایا ہے۔ وہ خود سے بہت شرمندہ تھا۔ اگلے دن اس کی اسد کے گھر جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔
اس کے اگلے دن اس سے رہا نہیں گیا اور اس نے فون پر اسد سے اس کے متعلق دریافت کیا تو اسے پتہ چلا کہ وہ دو دن سے چھت پر بھی نظر نہیں آئی۔
اسے لگا کہ وہ ان سے بہت ناراض ہے اور دوبارہ کبھی ان سے بات نہیں کرے گی۔ وہ بہت افسردہ سا رہنے لگا۔
دو دن مزید سوچنے کے بعد اسے خیال آیا کہ کچھ بھی کر کے اسے منانا چاہیے۔
اس نے اسد سے کہا کہ وہ اس سے ملے اور اس کی طرف سے بھی معافی مانگ کر اسے منانے کی کوشش کرے۔ اسد نے کہا وہ آج ضرور کوشش کرے گا۔
وہ شام تک اس کے فون کا منتظر رہا۔ شام کو اسد نے فون کر کے اسے بتایا کہ وہ کھانا دینے کے بہانے ان کے گھر گیا تو اسے پتہ چلا وہ بہت بیمار ہے اور اس کی والدہ ان کے پاس رکی ہوئی ہیں۔ یہ سن کر اس کے دل میں جو ناراضگی کا خوف تھا وہ مٹ گیا مگر نئی فکر لگ گئی۔ وہ ہر نماز کے بعد اس کی جلد صحت یابی کی دعائیں کرنے لگا۔
اس کو یہ پریشانی کھانے لگی کہ آخر اسے کیا ہوا ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سالوں سے کورونا وائرس نے سب کو اتنا خوف ذدہ کر رکھا تھا کہ کسی کو ہلکا سا بھی بخار ہو جائے تو وہ ٹیسٹ کروانے لگتا تھا۔ اب کورونا وائرس کے بعد ڈینگی بخار کی وجہ سے بڑھنے والی اموات نے سب کو پریشان کر رکھا تھا۔
اسے عروش کی فکر لگ گئی اور وہ سوچنے لگا اس کے بارے میں پتہ کیا جائے۔ اس کی راتوں کی نیند حرام ہو گئی۔ اگلے دن اس نے اسد سے رابطہ کیا تو اسے پتہ چلا کہ وہ ہسپتال میں ایڈمٹ ہے اور ڈینگی بخار میں مبتلا ہے۔
اس نے اسد سے ہسپتال کا نام معلوم کیا اور پھر وہ خاموشی سے ہسپتال کے چکر لگانے لگا۔ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ گردیزی صاحب کو اس بارے میں پتہ چلا تو وہ بہت غصہ کریں گے۔
وہ اس کے بچپن سے اس کی بیماری کو لے کر اس کے ڈاکٹر کی ہدایات پر بہت محتاط رہے تھے۔ اگر انہیں پتہ چل جاتا کہ کسی گھر میں کوئی بیمار ہے تو وہ اسے وہاں جانے سے بھی سختی سے روک لیتے۔
وہ جانتا تھا ڈینگی بخار کوئی چھوت کا مرض نہیں ہے مگر یہ بخار جان لیوا تھا اور ان کے شہر میں تیزی سے پھیل رہا تھا اور ہسپتال میں اس کا جانا اس کے اپنے لیے خطرناک ہو سکتا تھا جس کی وجہ سے احتیاط ضروری تھی۔ مگر وہ چاہ کر بھی خود کو وہاں جانے سے روک نہیں پا رہا تھا۔
وہ جس ہسپتال کے نجی کمرے میں زیر علاج تھی اس نے وہیں ڈیوٹی کرنے والی ایک نرس کو پیسے دے کر کہہ ڈالا تھا کہ وہ جب بھی اکیلی ہو تو اسے بتا دے۔ اس نے سسٹر ماہم سے اس کی دیکھ بھال کے لیے خاص ہدایات کر رکھی تھیں۔ وہ پل پل اس کی خبر لے رہا تھا اور اس کے کمرے میں اکیلے ہوتے ہی وہاں پہنچ جاتا تھا۔
اس کی بیماری کا احساس خود اسے بھی بیمار کرنے لگا تھا۔ اسے لگنے لگا جیسے یہ وقت ان کی زندگی میں آ کر ٹھہر ہی گیا ہو۔
————*
وہ بیہوشی کے عالم میں اپنے اردگرد سے بے جبر پڑی سو رہی تھی۔ کسی لمحے وہ آنکھیں کھول کر اپنے ہاتھ کی پشت پر لگی برنولا پر نظر ڈالتی اور پھر سے آنکھیں موند لیتی۔ اسے یہاں آئے دو دن ہو چکے تھے۔
حبیبہ بیگم کو بیٹے کے فون آنے لگے کہ اسے بخار ہو رہا ہے۔ ان کی بہو دس دن کے بچے کے ساتھ اپنے میکے رکی ہوئی تھی اور بیٹے کو مشکل پیش آ رہی تھی۔ کبھی وہ عروش کے گھر اس کے بچیوں کے پاس جاتیں اور کبھی اس کے پاس آتیں۔ اب بیٹے کے بخار کی خبر نے ان کو پریشان کر ڈالا تھا۔
عروش نے انہیں فکر مند دیکھ کر نیم بیہوشی کے عالم میں کہا۔
”آپ ابھی گھر جائیں میں کون سا کچھ کھا سکتی ہوں۔ جو بھی لوں گی متلی سے نکل جائے گا۔ مجھے ڈرپ ہی لگتی رہنی ہیں اور میں یہاں پرائیویٹ کمرے میں محفوظ ہوں۔ عبدل کو آپ کی ضرورت ہے آپ اس کے پاس جائیں اور فاریہ کو فون کر دیں وہ کچھ دیر میں میرے پاس آ جائے گی۔“
ان کے چہرے پر اطمینان سا ابھرا تھا۔
”ٹھیک ہے پھر میں ابھی چلتی ہوں اور فاریہ کو بھیجتی ہوں۔۔ وہ کچھ دیر یہاں رہے گی پھر میں آ جاؤں گی۔“
انہوں نے عروش کو چھوٹی بہن کے آنے کی امید دلائی تھی۔
وہ بھی شادی شدہ تھی اور اس کا ایک چھوٹا بچہ بھی تھا جس کی وجہ سے اس کا مستقل عروش کے پاس رکنا مشکل تھا مگر وہ کچھ دیر کے لیے یہاں رک سکتی تھی۔
اس نے بے ہوشی کی حالت میں انہیں جاتا دیکھ کر دل میں دکھ محسوس کیا تھا۔ وہ اس کے لیے اس عمر میں ہسپتال میں اکیلی خوار ہو رہی تھیں۔ اس کی باقی بہنیں شہر سے باہر رہتی تھیں اور سسرال کی وجہ سے نہیں آ سکتی تھیں۔ چھوٹی بہن فاریہ اسی شہر میں تھی۔ اس کی طلاق کے بعد دوبارہ شادی ہوئے دو سال ہوئے تھے اور اس کی گود میں چھوٹے بچے کی وجہ سے اسے بھی سسرال والے کہیں ٹھہرنے نہیں دیتے تھے۔ اسے احساس ہو رہا تھا کہ وہ بہت تنہا ہے۔
ان کے جاتے ہی وہ پھر سے آنکھیں موندے لیٹ گئی۔ اس کے ہاتھ کی پشت پر لگی برنولا اسے بے چین کر رہی تھی اسی لیے وہ آنکھیں موندے پڑی رہتی تاکہ نہ وہ ہوش میں رہے اور نہ اسے بے چینی ہو۔
کچھ دیر بعد نیند میں اسے اپنے بالوں میں کسی کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا تھا۔ کوئی اس کی بکھری لٹیں انگلیوں سے سوار کر چہرے سے پیچھے کر رہا تھا۔ اس نے خود کو اپنے بچپن میں محسوس کیا۔
جب وہ بہت چھوٹی تھی اور یوں بخار میں تپ رہی ہوتی تو اس کے پاپا اس کے سرہانے کے پاس کچھ دیر کو بیٹھ جاتے اور پھر اسے بے ہوشی میں یوں محسوس ہوتا رہتا جیسے کوئی اس کے بالوں کو سہلا رہا ہو۔
اسے لگا وہ خواب میں ہے۔ وہ بے ہوش پڑی رہی۔ کسی کا گرم جوش ہاتھ اس کے بالوں کو سہلاتا رہا۔
کچھ دیر بعد وہ ہاتھ اس کے ہاتھ کی پشت پر آ رکا۔ اسی ہاتھ کی پشت پر جس پر برنولا لگی تھی۔
اسے لگا کوئی مسیحا اس کے ہاتھ کی پشت کو سہلا کر اس کا درد کم کر رہا ہے اور پھر وہ ہاتھ اس کی پشت پر ہی کافی دیر پڑا رہا۔ وہ سکون سے سوئی رہی۔
کچھ گھنٹوں بعد اس کی آنکھ کھلی تو اسے فاریہ کمرے میں داخل ہوتی نظر آئی۔ وہ آج کئی دنوں بعد ٹھیک سے اپنی آنکھیں کھول کر اپنے ارد گرد دیکھ پائی تھی۔ اسے فاریہ کو دیکھ کر خوشی سی ہوئی۔
اس کے بازو میں حاشر تھا اور وہ مسکرا رہی تھی۔ اسے اپنے بیڈ کے بالکل سامنے پڑی میز پر رنگ برنگے پھولوں سے سجا بڑا سا بوقے نظر آیا۔
اس میں سجے رنگ برنگے پھولوں نے پل بھر کو اس کی بیمار صورت بدل ڈالی۔ فاریہ اس کے سامنے آ بیٹھی۔
”بس مجھے آنے میں ذدہ دیر ہو گئی۔۔ بڑی مشکل سے آنے کی اجازت ملی ہے، وہ بھی دو گھنٹے کے لیے۔۔“
وہ افسوس سے بتا رہی تھی۔ عروش نے ناراضگی سے اسے دیکھا تھا۔
”ذرا دیر نہیں، اچھی خاصی دیر۔۔“
اس نے سامنے لگی گھڑی پر نظر ڈال کر کہا تھا۔
فاریہ شرمندگی سے صفائی پیش کرنے لگی۔ ”ہاں! بس دو گھنٹے لگ گئے۔“
اب اس نے بات کو بدلنے کو پھولوں کے بوقے کو دیکھ کر اشتیاق سے پوچھ ڈالا۔
”بوقے تو بہت پیارا ہے۔۔ یہ کون لایا ہے؟“
وہ چونکی اور دھیرے سے سیدھے ہوتے ہوئے تعجب سے اسے تکنے لگی۔
”تم نہیں لائی!! میں تو سمجھی تم لائی ہو!“
فاریہ پھیکی مسکراہٹ لیے بولی۔
”نہیں یار..! ایک تو پہلے ہی دیر ہو گئی تھی۔۔ پھر میں کہیں رکی ہی نہیں۔۔ ماما کے فون پر فون آرہے تھے اور وہ بول رہی تھیں تو مجھے کچھ لانا یاد ہی نہیں رہا۔“
وہ سوچ میں پڑ گئی کہ ماما کے جانے سے پہلے بھی یہ بوقے یہاں نہیں تھا تو ان کے بعد اور فاریہ کے آنے سے پہلے کون یہاں آیا جو یہ خوبصورت بوقے لایا ہے۔
”ویسے بھی میں نے تو پھل ہی لانے تھے۔۔ پھول کب لاتے ہیں ہم؟“
اس کے دل میں سوال اٹھنے لگے۔ وہ جسے خواب سمجھ رہی تھی کیا وہ سچ تھا۔۔ یعنی کوئی حقیقت میں یہاں موجود تھا اور جس کا ثبوت بوقے بھی دے رہا تھا۔
اس نے تعجب کا اظہار کیا تھا۔
”پتہ نہیں.. میں تو بے ہوش پڑی تھی۔ مجھے نہیں پتہ چلا کہ یہاں کون اسے رکھ گیا۔“
وہ پھولوں کی مہک سے کچھ اچھا محسوس کرنے لگی تھی۔ مسلسل چار دن سے بستر سے لگے ہوئے اسے اپنے ارد گرد کی ہوش نہیں تھی۔ اب اس نے نظر گھما کر ہسپتال کے اس نجی کمرے کا جائزہ لیا۔
وہ ہمیشہ اس مہنگے ہسپتال میں ہی آیا کرتی تھی اور اسے یہاں ہمیشہ اکتاہٹ ہوا کرتی تھی مگر آج پہلی بار اسے پھولوں کی موجودگی میں کمرہ بدصورت نہیں لگ رہا تھا۔
وہ فاریہ سے ہلکی پھلکی باتیں کرتے کرتے پھر سے نیند میں چلی گئی۔
————*
آج بھی وہ دیر سے گھر لوٹا تو رئیس گردیزی صاحب اسے ڈانٹنے لگے کہ وہ کن چکروں میں پڑ گیا ہے۔ رات کو دیر سے آنا اس کی عادت نہیں تھی۔ وہ خاموشی سے ان کی ڈانٹ سن کر اپنے کمرے میں چلا آیا۔
وہ جانتا تھا ایک کور کمانڈر کا بیٹا ہونا کتنا مشکل ہے۔
اس کے والد اسے لے کر کتنے محتاط رہتے تھے۔ اسے یہ بہت برا لگتا مگر وہ ان کے آگے کیا بول سکتا تھا۔
وہ پیدائشی آرٹسٹ تھا اور بڑا ہو کر بھی وہی بننا چاہتا تھا مگر اسے بزنس پڑھ کر ان کے شروع کیے ہوئے بزنس سنبھالنے پڑے۔ پچھلے ایک سال سے سارے کاروبار کی دیکھ بھال اسی کے ذمہ داری تھی۔ وہ ان کے لیے خوش قسمت تھا۔ ان کا شروع کیا ہوا بزنس اس نے یوں سنبھالا تھا کہ وہ اس سے بہت مطمئن تھے مگر انہیں اس کی فکر لگی رہتی کہ کہیں وہ ان کے ہاتھوں سے نہ نکل جائے۔ اسی لیے اس کی ہر چیز پر نظر رکھنا وہ اپنا فرض سمجھتے تھے۔ ان کی نظر میں وہ ابھی اتنا سمجھدار نہیں ہوا تھا کہ وہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں۔
طالب کو ان کا یوں ہر معاملے میں کنٹرول رکھنا بالکل پسند نہیں تھا۔ وہ 26 سال کا ہو چکا تھا اور وہ خود کو میچور سمجھتا تھا۔ وہ اپنی زندگی اپنی مرضی اور آزادی سے گزارنا چاہتا تھا۔
وہ ان کا اکلوتا بیٹا نہیں تھا اور نہ ہی یہ بزنس آگے چل کر اس تک محدود رہنے والا تھا۔ انہوں نے دوسرا بزنس اپنے باقی بیٹوں کے لیے بھی سیٹ کرنا شروع کر دیا تھا۔
گردیزی صاحب کے دوسری بیوی سے دونوں بیٹے فائز اور بلال ابھی چھوٹے تھے مگر وہ ہر معاملے میں پہلے ان کا ہی سوچتے تھے۔ فائز 13 سال کا تھا اور بلال 11 سال کا۔ وہ اکثر اس پر شکر کرتا کہ انہیں اکٹھا نہیں رکھا گیا کیونکہ وہ جب بھی کسی کام کے سلسلے میں ان کے گھر کو جاتا تو بلال کو اپنی ماں کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر یا ہنسی مذاق کرتا پا کر وہ اکثر وہاں سے غمگین ہی لوٹتا۔ وہ سوچتا کہ اگر وہ اکٹھے رہتے تو اس کے لیے یہ دیکھنا کتنا مشکل تھا۔
اسے خود پر بھی غصہ آتا کہ اس نے خود ہی اپنی ماں کو جانے دیا ورنہ وہ بھی ان کے ساتھ ہوتیں۔ مگر وہ انہیں خوش دیکھنا چاہتا تھا یہاں رہ کر وہ اتنی خوش اور مطمئن نظر نہ آتیں تھیں جتنا وہ اب تھیں۔
وہ خود سے لڑتا ہوا اپنے کمرے میں چلا آیا۔ بستر پر لیٹتے ہی عروش کی یاد نے اسے سب بھلا دیا۔ اس کا وجود ہیولا بن کر اس پر چھانے لگا۔ ماں کی کمی کا احساس اب مزید اسے نہیں رہا۔ اسے اپنے کمرے میں ہر طرف عروش نظر آنے لگی اور آہستہ آہستہ اسے نیند آنے لگی۔
سرد فضا میں رات کے کسی پہر اسے لوری سنائی دینے لگی۔ اسے لگا وہ دو سال کا چھوٹا بچہ ہے اور اپنی ماں کی گرم گود میں پڑا ہے۔۔ اسے دھیرے دھیرے سے تھپتھپا کر سلایا جا رہا تھا۔ وہ خود کو ان کی گود میں ہلتا ہوا محسوس کرتے ہوئے نیند میں مست پڑا رہا۔
صبح وہ بے وجہ ہی مسکرا رہا تھا۔ اس کا موڈ بہت اچھا تھا۔ لمبے عرصے کے بعد اسے خواب میں وہ نظر آئی تھیں اور ان کی گود کا احساس اسے خوش کر رہا تھا۔ وہ اپنے اندر تبدیلی محسوس کر رہا تھا۔ پہلے وہ ان کے خواب پر غمگین ہو جایا کرتا تھا مگر آج ان کی گود میں ہونے کا احساس اسے خوش کر رہا تھا۔ وہ پہلی بار اپنے بڑے ہونے پر اداس نہیں تھا۔
وہ ان کی ڈانٹ بھول کر عروش کی یاد میں کھو گیا. سرد فضاؤں میں اس کی خوشبو گھلتی محسوس ہونے لگی اور پھر سے اس کی آنکھ لگ گئی۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو اسے سسٹر ماہم کا پیغام ملا کہ عروش کے پاس کوئی بھی موجود نہیں ہے۔
وہ فکرمندی میں جلدی سے بستر سے اٹھا اور ناشتہ کر کے ہسپتال کے لیے نکل پڑا۔
وہ بڑا سا پھولوں کا بوقے لیے ہسپتال کے اس نجی کمرے میں داخل ہوا تو وہ اسے اپنے ارد گرد سے بے خبر نیند میں ڈوبی نظر آئی۔
اس کے بال بے ترتیبی سے اس کے اطراف میں پھیلے ہوئے تھے اور اس کا چہرہ زرد پڑ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں نیچے سے لال ہو رہی تھیں اور اس کے ہونٹوں کا رنگ پھیکا پڑ چکا تھا جس سے واضح تھا کہ اس میں خون کی کمی بہت زیادہ ہو چکی ہے۔
وہ صدیوں کی بیمار نظر آ رہی تھی۔ اس کا ایک ہاتھ کمبل سے باہر تھا جس پر ڈرپ لگی تھی۔ وہ کلائی تک زرد رنگ میں نہایا ہوا تھا۔
کہیں اسے میری نظر تو نہیں لگ گئی؟
اس نے افسوس سے خود کو کوسا تھا۔ اس کے سامنے بے جان سی گڑیا آنکھیں موندے پڑی تھی۔ وہ اسے کے چہرے سے بال پیچھے کرتے ہوئے اداسی سے کچھ سوچتا چلا گیا۔
وہ کافی دیر وہاں موجود رہا تو اسے تعجب ہوا کہ اس کے گھر سے ابھی تک وہاں کوئی آیا ہی نہیں تھا۔ وہ اسے اکیلا چھوڑ کر جانے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔
وہ اس کے سامنے وہیں بیٹھا رہا اور بہت کچھ سوچتا رہا بالآخر سسٹر ماہم نے اسے بتایا کہ اس کی بہن باہر آئی ہے تو وہ فوراً سے کمرے سے باہر نکل آیا۔
اس نے اس کے کمرے سے دور رک کر دیکھا، جب اسے کمرے میں ایک لڑکی کمرے میں داخل ہوتی نظر آئی تو وہ مطمئن ہو کر وہاں سے چلا آیا۔
وہاں سے لوٹ کر بھی وہ اس کے لیے فکر مند ہی رہا تھا۔ اس نے سسٹر ماہم سے پتہ کیا تو اسے معلوم پڑا کہ اس کی والدہ کے علاوہ کوئی بھی اس کے پاس نہیں رکتا۔ اس کی بہن تھوڑی دیر کے لیے ہی وہاں آئی تھی اور جلد ہی واپس چلی گئی۔
اس کے کافی دیر بعد اس کی والدہ آئیں اور دو تین گھنٹے رک کر واپس چلی گئیں۔
انہوں نے نرس سے خاص طور پر کہہ رکھا تھا کہ ان کی غیر موجودگی میں وہ اس کا بہت زیادہ خیال رکھے۔ حبیبہ بیگم نے اسے اپنی مجبوری بتائی تھی کہ ان کے گھر میں ان کا بیٹا بھی بخار میں مبتلا ہے، ان کی بہو اپنے دس دن کے بچے کے ساتھ اپنی ماں کے گھر رکی ہوئی ہے اور بیٹے کی دیکھ بھال کے لیے ان کے علاوہ گھر میں کوئی نہیں ہے۔
عروش زیادہ تر اکیلی کمرے میں سوئی رہتی تھی۔ دن میں ایک بار اس کی بہن یا اس کی دوست عروہ ایک یا دو گھنٹے کے لیے چکر لگا لیتیں مگر وہ مستقل اس کے پاس نہیں رکتی تھیں۔
اسے احساس ہوا وہ کتنی اکیلی ہے۔۔ کوئی اس کا خیال رکھنے والا نہیں۔ اسے یاد آیا جب وہ بیمار پڑتا ہے تو اس کا خیال کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا، سوائے گھر کے ملازموں کے۔۔
وہ آج کل اداس رہنے لگا تھا۔ اس کا دل کہیں نہیں لگ رہا تھا۔ اسے کبھی اپنے بیماری کا وقت یاد آنے لگتا اور کبھی اسے خیال آتا کہ وہ اپنے لیے تو کچھ نہیں کر سکتا لیکن کسی دوسرے کے لیے تو ضرور کچھ کر سکتا ہے۔ کام کے دوران بھی اب اس کا دھیان اسی کی جانب لگا رہتا۔ وہ منتظر رہتا کہ کب اسے وقت ملے اور وہ اس کے پاس چلا جائے۔
اگلے دن اس کی والدہ کے وہاں سے جانے کے فوراً بعد وہ وہاں چلا آیا۔ ایک رنگ برنگے پھولوں والا بوقے کے ساتھ وہ کمرے میں داخل ہوا تو عروش آنکھیں موندے بے خبر سو رہی تھی۔ ابھی اس کو ڈرپ نہیں لگی تھی مگر اس کے ہاتھ پر برنولا ابھی لگی ہوئی تھی۔
وہ بوقے بیڈ کے سامنے والی میز پر رکھ کر اس کے قریب چلا آیا اور اسے فکرمندی سے دیکھتے ہوئے اس کے سامنے بڑے بینچ پر آ بیٹھا۔ اسے برے حال میں دیکھ کر اس کے چہرے پر اذیت کے تاثرات جم گئے۔
اس نے میز پر سے فائل اٹھا کر اس کی میڈیکل ہسٹری چیک کی تو اسے جلد ہی معلوم ہو گیا کہ اس کی رپورٹس اچھی نہیں آ رہیں اور اس کی طبیعت بحالی کی طرف جانے کی بجائے بگڑ رہی ہے۔ اس کے لیے یہ جاننا مایوسی کا باعث تھا۔ وہ اترے ہوئے چہرے کے ساتھ وہیں سر جھکائے بیٹھا رہا۔
اچانک اس نے محسوس کیا وہ مشکل سے سانس لے رہی ہے۔ وہ گھبرا کر وہاں سے اٹھا۔ اسے فوراً خیال آیا کہ اسے ڈاکٹر کو بلا کر دکھانا چاہیے پھر اسے اگلا خیال آیا کہ اس سے پوچھا جائے گا کہ وہ مریض کا کیا لگتا ہے تو وہ کیا بتائے گا؟
وہ وہیں کھڑا کچھ سوچتا رہا۔
اس کی نظریں سامنے پڑے وجود پر جمی تھیں۔ اس نے جب پہلی دفعہ اسے بےحد غمناک کیفیت میں دیکھا تھا تو اسے لگا وہ دنیا کی غمزدہ ترین صورت ہے۔۔ اس نے اس سے پہلے کبھی ایسی لڑکی نہیں دیکھی تھی۔
اس کا دل چاہا تھا کہ اس کا غم جان کر دور کر دے۔
پھر اسے پتہ چلا کہ اسے ایک محبت کرنے والا پاگل چاہیے تو وہ بغیر کچھ سوچے آگے بڑھنے لگا۔
وہ جانتا تھا کہ وہ اس کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے مگر آج اسے اس حال میں دیکھ کر اسے مایوسی ہونے لگی۔ وہ اس کو صحتیاب نہیں کر سکتا تھا۔
وہ جب سے بستر سے لگی تھی اسے لگنے لگا جیسے وہ صدیوں سے اسی حال میں اسے دیکھ رہا ہو اور یہ وقت کبھی نہیں بیتے گا۔ اس نے خود کو کئی بار یقین دلایا تھا کہ وہ جلد ہی ٹھیک ہو جائے گی مگر اب اس کی حالت اور اس کی رپورٹس دیکھ کر اس کی امیدیں ٹوٹنے لگیں تھیں۔
وہ وہاں سے باہر نکلا۔ اس نے اپنی پینٹ کی جیب سے ماسک نکال کر لگایا اور ڈاکٹر کے کمرے تک چلا آیا۔ ڈاکٹر لیاقت ایک ادھیڑ عمر شخص تھا۔
وہ اس کے منہ سے عروش ذاکر کا نام سن کر اسے چیک کرنے اس کے ساتھ چلا آیا تھا۔ اس کے ساتھ ایک سمجھدار نرس تھی۔ ڈاکٹر نے تسلی سے اسے چیک کیا اور نرس کو سب سمجھا دیا۔ اسے سانس کا ماسک لگا دیا گیا اور بخار کے لیے پٹیاں کی جانے لگیں۔
”آپ ان کے کیا لگتے ہیں؟“ ڈاکٹر نے اس سے دریافت کیا تھا۔ وہ سوچ میں پڑ گیا کہ کیا بتائے۔
آخر اس نے مصلحتاً کہا۔
”میں اس کا سوتیلا بھائی ہوں اور ہمارے گھر والوں کو میرے یہاں ہونے کا علم نہیں، کسی کو میرے یہاں آنے کا مت بتائیے گا۔ میں ابھی چلا جاؤں گا بس یہ یہاں اکیلی تھی تو فکر میں چلا آیا۔“
ڈاکٹر سمجھتے ہوئے سر ہلا کر رہ گیا۔
”ہم اسے ابھی ڈرپ نہیں لگا سکتے۔ بخار کم ہو جائے گا تو انجیکشن دے دیا جائے گا۔ آج کل سموگ کی وجہ سے اکثر مریضوں کو ایستھما ہو رہا ہے۔ کچھ دیر کے لیے یہ لگے گا تو سانس نارمل ہونے لگے گی۔۔ مگر دیکھیں ہر چیز کا علاج دوا نہیں ہوتی، تین دن ہو گئے ہیں انہیں یہاں آئے اور ان کی حالت بہتر ہونے کی بجائے مزید خراب ہو رہی ہے۔ یہ کچھ کھا پی نہیں رہیں تو جلدی ٹھیک نہیں ہوں گی۔ کچھ انہیں خود بھی ہمت کرنی ہوگی۔“
ڈاکٹر نے سنجیدگی سے اسے تمام حقیقت بتا ڈالی۔
وہ بغور ڈاکٹر کی باتیں سنتا ہوا سر ہلاتا رہا۔ فکر مندی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔
”ویسے آپ کو فکر مند دیکھ کر مجھے لگا تھا کہ آپ ان کے قریبی رشتوں میں سے ہوں گے۔۔
طالب کو لگا وہ شخص اپنے تجربے کی وجہ سے اس کا جھوٹ سمجھ چکا ہے۔ وہ کچھ گھبرا گیا مگر ڈاکٹر نے جلد ہی بات مکمل کی۔
”اگر آپ ان کے گھر والوں کو سمجھا سکیں تو ضرور سمجھائیں کہ ان کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ دوائیوں سے ہر درد کو آرام نہیں ملتا تو ایسے وقت میں اپنے ہی راحت اور آرام پیدا کرتے ہیں۔“
ڈاکٹر بہت گہری بات کہہ کر اسے دیکھتا رہا تھا۔
پھر اس کو فکر لگ گئی کہ وہ اس کے لیے مزید کیا کر سکتا ہے۔ نرس اس کو پٹیاں کر رہی تھی۔
ڈاکٹر فائل سے اس کی آج کی رپورٹس دیکھنے کے بعد پھر سے اس سے مخاطب ہوا۔
”انہیں اس وقت بہت زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ یہ ایک جان لیوا بخار ہے اور ان کی رپورٹس اور حالت دیکھ کر زیادہ امید نہیں کی جا سکتی۔
میں ان کی والدہ سے یہ کہنا نہیں چاہتا تھا اور مجھے انتظار تھا کہ کوئی اور ملے تو میں اسے حقیقت بتا سکوں۔ اب آج مزید دیکھا جائے گا اگر کل تک یہی حال رہا تو انہیں پھر پلیٹلیٹس لگانے پڑیں گے۔۔ مگر یہ کچھ کھاتی پیتی بھی نہیں ہیں تو اس کے بعد بھی زیادہ امید نہیں ہے اور اگر یہ کامیاب ہو جاتا ہے تو بھی ان کو معمول پر آنے میں بہت وقت لگ جائے گا۔“
ڈاکٹر فائل دیکھنے کے بعد اسے سمجھا کر وہاں سے چلا گیا۔
نرس اسے پٹیاں کر رہی تھی اور وہ دونوں ہاتھ اپنی جیبوں میں ڈالے ڈاکٹر کی باتوں پر غور کرتا رہا تھا۔
نرس نے اسے مخاطب کیا تھا۔
”آپ نے تو صرف خبروں میں ہی سنا ہو گا پر ہم تو روز ڈینگی وارڈ کے ہر کمرے سے پتہ نہیں کتنے مریضوں کو میت میں بدلتے دیکھتے ہیں۔ آپ کے گھر سے کوئی بھی ان کی حالت کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔
ہو سکتا ہے آپ کے گھر میں زیادہ افراد نہ ہوں ورنہ ایسے موقعے پر تو ہر کوئی مریض کی فکر کرتا ہے۔
ان کی والدہ ہی زیادہ تر ان کے پاس ہوتی ہیں مگر بوڑھی ماں کب تک اولاد کے لیے بھاگتی رہے گی۔ اگر آپ کے گھر میں والدہ کے علاوہ اور کوئی خاتون نہیں جو ان کے پاس رک سکے تو پھر بھائی بہنوں کا خیال رکھ سکتے ہیں۔ ان کا سگا بھائی تو خود گھر میں بیمار پڑا ہے جس کی وجہ سے ان کی والدہ مجھے ان کا خیال رکھنے کا کہہ جاتی ہیں مگر آپ بھی ان کے بھائی ہیں تو یہاں رک سکتے ہیں۔ برے وقت میں تو خاندان سارے گلے شکوے بھلا کر ایک ہو جاتے ہیں۔ رشتے سگے اور سوتیلے نہیں ہوتے، رشتے تو احساس کے ہوتے ہیں۔“
وہ شرمندگی سے سب سنتا رہا تھا۔
”میں روز ان کی خبر لینے آتا ہوں مگر زیادہ دیر نہیں رک سکتا۔ ان کی والدہ اور بہنوں کو میرے یہاں آنے کا علم نہیں اور وہ میرا یہاں آنا پسند نہیں کریں گی۔ ہماری مائیں آپس میں ملتی نہیں ہیں ورنہ میں یہاں رک جاتا۔“
اس نے آخر صفائی پیش کی تھی۔
”ان کی والدہ تو یہاں زیادہ دیر نہیں رکتیں اور ایک بہن بھی ایک یا ڈیڑھ گھنٹے کے لیے ہی آتی ہے اس کے بعد تو سارا وقت ہم ہی انہیں دیکھتے ہیں۔ ہم انہیں وقت پر دوائی دے دیتے ہیں اور علاج بھی چل ہی رہا ہے مگر کتنی بھی دوائیاں دی ہوں پر اس بخار میں تو پھر بھی سر درد اور کمر درد مسلسل رہتا ہے۔ یہ اکثر نیند میں کراہتی ہیں کوئی ان کے پاس نہیں ہوتا تو پھر آنکھیں موندے پڑی رہتی ہیں۔ تنہائی تو تندرست انسان کو بھی آدھا مار دیتی ہے یہ تو پہلے ہی موت کے بستر پر پڑی ہوئی ہیں۔۔ جب اس حال میں بھی کوئی اپنا نظر نہیں آتا تو مریض اور زندگی سے دور چلا جاتا ہے۔
میں نے ان کی والدہ سے بھی کہا تھا کہ ان کے شوہر سے کہیں ان کے پاس آ کر رکیں تاکہ ان کا زندگی کی طرف لوٹنا آسان ہو مگر وہ اپنی اور اس کی مجبوریاں بتا دیتی ہیں، پھر میں انہیں بھی کیا کہہ سکتی ہوں۔“
نرس نے بھی اب یقین کر لیا تھا کہ جیسے وہ اس کے گھر کا ہی فرد ہو۔ وہ اسے اس کے گھر کے مسائل بتا کر مزید سوچنے پر مجبور کر رہی تھی۔
وہ نظروں کو جھکائے پریشان کھڑا تھا۔
چاہے سارے اسے چھوڑ کر چلے گئے، کسی کو اس کی پرواہ نہیں تھی اور شوہر بھی اس کو مرتا دیکھنے نہیں آ سکتا تھا مگر وہ اسے مرنے کے لیے اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ کچھ بھی کر کے اسے زندگی کی طرف لانا اور اس کا خیال رکھنا اس کے لیے ضروری ہو چکا تھا۔
نرس پٹیاں کر کے وہاں سے جا رہی تھی تو وہ نرس کو جاتے ہوئے تکتا رہا۔
ایک ہی بڑی مشکل تھی کہ وہ اس کے گھر والوں کی نظر میں اس کا کچھ بھی نہیں لگتا تھا تو وہ کس رشتے سے وہاں موجود رہے اور اس کا خیال رکھے۔
اس نے سامنے پڑے وجود پر نگاہ ڈالی۔ گہرے سبز رنگ کے مخمل کے قیمتی لباس میں ملبوس زندہ لاش اس کے سامنے پڑی تھی۔
————*
وہ ایک خالی میدان میں چل رہی تھی اور چلتی ہی جا رہی تھی۔ کوئی دور دور تک نہیں تھا۔ اسے لگا زندگی ختم ہو رہی ہے۔
اس کی ہمت ٹوٹ چکی تھی۔ وہ چلتے چلتے بہت تھک گئی۔ رونے کے لیے اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے مگر اس کا دل اندر سے رو رہا تھا۔
خالی میدان میں چلتے چلتے وہ تھک کر ایک طرف بیٹھ گئی۔ اس نے وہیں ایک جانب سر رکھا اور سو گئی۔ پھر نجانے وہ کب سے وہاں پڑی رہی۔ اسے لگا وہ سو رہی ہے اور صدیوں سے سو ہی رہی ہے۔
منظر بدلا تو اس نے دیکھا وہ ہتھکڑیوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ وہ بے بسی سے سر رکھے ایک طرف لیٹ گئی۔ آنکھیں بند کیے وہ چپ چاپ پڑی رہی تھی۔ اسی کیفیت میں وقت گزرتا رہا۔ شاید کئی دن اور کئی راتیں یونہی گزر گئیں۔ اسے لگا وہ صحرا کی گرم ریتیلی زمین پر پڑی تپ رہی ہے۔
اس نے بے چینی سے جسم کو حرکت دی اور اس کی آنکھیں کھل گئیں۔
اس نے کراہتے ہوئے اپنے اردگرد نگاہ دوڑائی تو وہ ہسپتال کے نجی کمرے میں بے بس پڑی تھی۔
اسے حیرت ہوئی کہ نجانے وہ کتنے دنوں سے وہاں یونہی پڑی تھی۔ اس نے افسوس سے سوچا تھا کہ دو مکانوں اور کئی زمینوں کی مالک ہو کر بھی وہ کتنی بےبس اور مجبور تھی۔
کب سے وہ بستر سے لگی پڑی تھی۔۔ اس کا پیسہ اور اس کی مالی حیثیت، اس کی بیماری اور اس کی تنہائی دور نہیں کر سکتی۔۔ اس کا درد مٹا نہیں سکتی۔۔ کوئی نہیں جانتا کہ اسے آرام آئے گا بھی یا نہیں۔۔ کبھی وہ اس بستر سے اٹھ کر گھر جا پائے گی یا نہیں۔۔
وہ خود کو پل پل مرتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔ اسے کسی کی ہوش نہیں تھی۔۔ اسے کسی کا انتظار بھی نہیں تھا۔
شاید کسی کا انتظار ہوتا تو وہ امید سے اٹھ جاتی۔۔
اسے تو اب یہ بھی بھولنے لگا تھا کہ وہ کون ہے! اس کے کتنے بچے ہیں جو گھر پر اس کا انتظار کر رہے ہیں! کر بھی رہے ہیں یا نہیں!
اسے تو بس لگ رہا تھا وہ قبرستان کے باہر سڑک پر پڑی ہے۔ اسے حسرت ہوئی کہ کوئی آئے اور اس سے اندر لے جا کر دفنا دے۔۔ اسے کوئی ٹھکانہ مل جائے۔۔ پھر شاید اس کے جسم میں اٹھنے والی دردیں مٹ جائیں گی۔
اس نے آنکھیں کھول کر حسرت سے کمرے میں نظریں دوڑائی تھیں۔ شاید کوئی ایسا چہرہ نظر آ جائے جسے دیکھ کر اسے زندگی مل جائے یا پھر موت ہی اسے اپنی گود میں چھپا کر کہیں لے جائے۔
وہ بے جان مردے کی طرح کب سے وہیں پڑی ہوئی تھی۔ سردی سے اس کا جسم اکڑ رہا تھا۔ کمبل اس کی سردی روک نہیں پا رہا تھا۔ اس نے تڑپ کر اٹھنے کی کوشش کی مگر سر چکرایا اور وہ دوبارہ سے لیٹ گئی۔
اس کی کمر درد سے ٹوٹ رہی تھی اور سر بہت بھاری ہو رہا تھا۔
وہ بے بسی سے چھت کو تکتی ہوئی مری مری سی حالت میں وہیں پڑی رہی۔
پھر اسے حبیبہ بیگم کی آواز آئی تھی۔ ”آج پھر کوئی پھول لے کر آیا تھا۔“
وہ چونکی تھی۔ اس نے میز کی طرف دیکھا تو ایک نیا گلدستہ وہاں پڑا مہک رہا تھا۔ اس نے بے دلی سے سوچا۔ ساری عمر میں نے پھولوں کی خواہش کی اور پھول دینے والا کوئی آیا بھی تو میری موت کے قریب۔۔
”پتہ نہیں کون پاگل غلطی سے یہاں دے جاتا ہے۔۔ کسی اور کو دینے ہوں گے۔“
اس نے بے دلی سے شک ظاہر کیا۔
اسے پھول بھی آج اچھے نہیں لگ رہے تھے۔
”مجھے اور کمبل چاہیے۔۔ اس میں سردی لگ رہی ہے۔“ اس نے بے چینی سے کہا تھا۔
انہوں نے دوسرا کمبل بھی اس کو دے دیا۔
اسے وہاں آئے تیسرا دن ہو چکا تھا۔ لگتا تھا اب وہ ٹھیک نہیں ہوگی۔ اس کا اٹھتے ہوئے چکراتا سر اسے پریشان کر دیتا تھا۔
وہ مشکل سے ہمت کر کے اٹھی، واش روم سے ہو کر آئی اور پھر سے لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔
شام کے وقت اسے حبیبہ بیگم اپنے قریب بیٹھی ہم کلام محسوس ہوئی تھیں۔
”بیٹا اب کچھ ہوش کرو۔۔ کچھ خود کو سنبھالو۔۔ ادھر گھر میں تمہارا بھائی بھی بیمار ہے، مجھے اسے بھی دیکھنے جانا ہے اور فاریہ بھی تمہارے پاس نہیں آ سکتی اس کے سسرال والوں نے ہسپتال آنے سے منع کر دیا ہے۔ کوئی اس کے پیچھے سے اس کا بچہ سنبھالنے والا نہیں ہے۔“
وہ فکر مندی سے انہیں دیکھ کر چکراتے سر کے ساتھ پھر سے لیٹ گئی۔
”ادھر تمہاری بچیاں بھی نوکروں کے رحم و کرم پر پڑی ہیں۔ تمہیں عروہ بھی ملنے نہیں آئی۔ اگر اسے تم اپنے پاس بلا لو تو میں بے فکر ہو کر تمھارے بھائی کے پاس چلی جاؤں گی۔ اسے بھی بخار ہے اسے بھی گھر میں دیکھنے والا کوئی نہیں۔“
وہ ان کو فکر مند دیکھ کر خود بھی فکر مند ہوئی تھی۔ اس نے موبائل اٹھا کر عروہ کو کال لگائی۔
اس نے کال نہیں اٹھائی تو وہ سوچ میں پڑ گئی کہ یقیناً وہ بہت مصروف ہے اور یہاں آنا نہیں چاہتی اس لیے کال نہیں لے رہی۔
”ماما آپ جائیں۔۔ اس کا میسج آیا ہوا ہے۔۔ وہ بس آ ہی رہی ہے۔ پھر میں اسے روک لوں گی۔ آپ بھائی کو دیکھ لیں۔“
اس نے انہیں مطمئن کر دیا تھا۔ وہ سامان سمیٹ کر وہاں سے جانے لگیں۔
وہ نیند میں اور کبھی ہوش میں انھیں جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔ وہ ان کو سچ نہیں بتا سکتی تھی۔ ورنہ وہ وہاں سے جا کر بھی پریشان ہی رہنے والی تھیں۔
اسے اتنا تو معلوم تھا کہ وہ یہاں محفوظ ہے کیونکہ یہاں کی ایک نرس سے اس کی والدہ کی اچھی سلام دعا تھی اور یہ کمرہ پرائیویٹ اور محفوظ تھا۔
وہ پریشان ہونے لگی کہ کیسا وقت آیا ہے، بھائی بھی بیمار ہے، قریب رہنے والی بہن بھی اب سسرال کی پابندیوں کی وجہ سے اس کے پاس آ نہیں سکتی۔۔ ایک بہن جو دوسرے شہر سے آ سکتی تھی وہ خود بھی بیمار ہو گئی تھی۔ یک دم شدید سردی کی آمد نے ہر گھر میں مریضوں کی قطار لگا دی تھی۔
ڈینگی بخار کے علاوہ موسمی بخار بھی ہر گھر میں کسی نہ کسی کو ہو رہا تھا۔
اس نے سوچا میرا تو بچنا بہت مشکل ہے بھائی کی امی کو ضرورت ہے، بس وہ جلدی سے ٹھیک ہو جائے۔
وہ دل میں بھائی کی صحت مندی کے لیے دعا کرنے لگی۔ پھر اسے انہیں سب باتوں نے غمگین کر ڈالا۔
وہ صدمے سے دوبارہ آنکھیں موندے بستر پر پڑ گئی۔ جلد ہی وہ نیم بےہوشی کی کیفیت میں جا چکی تھی۔
کچھ دیر بعد اسے لگا کوئی کمرے میں داخل ہوا ہے۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھنا چاہا تھا۔ بمشکل اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تھا۔ سامنے سے طالب کمرے میں داخل ہو رہا تھا۔
وہ کمزوری کی شدت کی وجہ سے بے ہوشی کے اثر میں تھی۔ دوبارہ سے اس کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔
اس نے جب ہوش سنبھالا تو اسے وہ اپنے سامنے بیٹھا نظر آیا۔
اسے لگا اس کا جسم درد سے ٹوٹ رہا ہے۔ وہ ہل نہیں پا رہی تھی۔ اس کے ہاتھ کی پشت پر عجیب سی بے چین کرنے والی خفیف سی چبھن کا احساس اسے زچ کر رہا تھا۔
وہ طالب کو دیکھ کر حیران ہوئی تھی۔
اسے لگا وہ اس کی جگہ ذاکر کے ہونے کی طلب کر رہی تھی۔ مگر پھر اسے خیال آیا وہ کیوں اس کے لیے اتنی دور سے یہاں آتا۔
وہ ان دنوں میں سوچتی رہی اگر ذاکر آ جائے تو اچھا ہو جائے۔ مگر وہ نہیں آیا تھا اور پوچھنے پر پتہ چلا تھا کہ وہ نہیں آ سکتا۔ اس لیے اسے کسی کا انتظار بھی نہیں تھا۔
اس نے ناراضگی سے سوچا یہ یہاں کیوں اور کیسے آ گیا۔ وہ زبان سے کچھ کہہ نہیں پائی تھی۔
اس وقت وہ زیادہ درد کی وجہ سے بے حال تھی۔
شاید وہ اس کی صورت دیکھ کر اس کی کیفیت جان گیا۔
عروش نے تڑپ کر اپنے ہاتھ کی پشت کو دیکھا تھا جہاں تین دنوں سے برنولا لگی ہوئی تھی اور بے بسی سے وہیں لیٹی رہی۔
اسی وقت کمرے میں نرس داخل ہوئی تھی۔
طالب نے نرس کو مخاطب کیا تھا۔
”یہ برنولا مسلسل یہاں لگی درد کر رہی ہے۔ اسے اتار دیں۔“ نرس نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا تھا۔ اس نے برنولا اتاری اور روئی سے متاثرہ جگہ دبائی تھی۔
”اسے دبا کر رکھیے۔“ اس نے طالب کو کہا تھا۔
طالب نے احتیاط سے متاثرہ جگہ کو دبایا تھا۔ وہ اسے دیکھتی رہ گئی۔ اسے کیسے پتہ چلا کہ وہ اس سے تنگ ہو رہی تھی۔
اس نے اسے تروا کر اس پر جیسے احسان کر ڈالا تھا۔
اب وہ کمر اور سردر سے نڈھال تھی۔ اس نے نرس سے شکایت کی تھی جس پر نرس نے اسے سمجایا کہ جب تک وہ مکمل ٹھیک نہیں ہو جاتی اسے یہ درد مسلسل رہنے والی ہے اور کسی دوائی سے مٹنے والی نہیں۔
وہ مایوسی سے کچھ سوچتی رہ گئی۔
اس کا خون رک چکا تو طالب نے اس کا ہاتھ دھیرے سے سرہانے پر رکھ دیا۔
وہ کسی معصوم چھوٹی بچی کی طرح چپ چاپ اسے دیکھتی رہ گئی۔ نرس وہاں سے باہر نکل گئی تو اس نے طالب کو ناراضگی سے دیکھا تھا۔
”تم یہاں کیوں آئے ہو؟“ اس نے آخر پوچھ ڈالا تھا۔
”آپ کا خیال رکھنے آیا ہوں۔“ اس نے صفائی سے کہا تھا۔
”کس نے بھیجا ہے۔“ اس نے حیرانی سے پوچھا۔
”اللہ نے ہی دل میں ڈالا ہے تو اسی نے بھیجا ہوگا۔“ اس نے خود کو ٹٹولتے ہوئے اطمینان سے کہا تھا۔
وہ چبھتے ہوئے انداز میں اسے دیکھنے لگی۔
”اور پیچھا کرنے کو بھی اللہ نے کہا تھا؟“ اس کے سوال میں طنز تھا۔
”نہیں، میرے دل نے کہا تھا۔۔ مگر دل بھی تو نہیں چاہ سکتا، اگر اللہ نہ چاہے تو۔۔“
اس کے پاس پوچھنے کو مزید کچھ نہیں تھا۔ اس کا سر درد سے بھاری ہو رہا تھا۔
وہ سر سرہانے پر سیدھا کر کے آنکھیں موند چکی تھی۔
”شوق پورا ہو گیا تو اب یہاں سے جا سکتے ہو۔“
اس نے آخری جملہ ادا کیا تھا اور وہ پھر سے سونے کی کوشش کرنے لگی۔ درد کی کیفیت اسے سکون نہیں لینے دے رہی تھی۔
”میں تب تک یہاں آتا رہوں گا جب تک آپ ٹھیک ہو کر گھر نہیں چلی جاتیں۔“
اس نے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا جیسے وہ پاگل ہو چکا ہو اور وہ اس کی حالت پر رحم کھا رہی ہو۔
”کیا تمھارے گھر والوں کو تمھاری ضرورت نہیں ہے؟“
وہ حیرانی سے سر کو حرکت دے کر کچھ سوچنے کے بعد حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔
”کیا کسی بیمار کا خیال رکھنا منع ہے؟“
اس نے مزید رحم کھاتے ہوئے اسے دیکھا تھا۔
”کیا میرے پاس تمھیں کوئی نظر آ رہا ہے؟ کورونا وائرس کے بعد کوئی ہسپتال میں رکنے کو چند گھنٹے کے لیے آنے کو بھی تیار نہیں۔ میری دوستیں بھی بیماری کے خوف سے یہاں نہیں آ رہیں اور بہن کے سسرال والوں نے کہہ رکھا ہے کہ ہسپتال سے ہو کر دوبارہ ہمارے گھر میں مت آنا کہ نجانے کون سی بیماری اس سے سب میں پھیل جائے۔۔ اور ماں کو تو میں بہانے سے بار بار بھیج دیتی ہوں تاکہ انہیں کچھ نہ ہو جائے۔۔“
شاید اس نے اپنے گھر والوں کے لیے صفائی پیش کی تھی۔
”اپنے لیے بھی تو ہمیں ہسپتال آنا پڑ سکتا ہے پھر کسی دوسرے کے لے کیوں نہیں..!“ اس نے بے توجیہی سے کہا تھا۔
”تم اتنے بھولے نہیں ہو جو تمھیں سمجھ نہ آئے کہ ابھی کورونا وائرس کا زور کم ہوا ہے پر گیا نہیں ہے اور ڈینگی بخار سے تو میری اپنی سوسائٹی کے کتنے گھروں سے جنازے اٹھ گئے ہیں۔ تو اپنی جان پیاری ہے تو جاؤ یہاں سے۔۔“ وہ اسے ڈرا رہی تھی۔
طالب نے غیر مطمئن انداز میں اسے دیکھا۔
”مگر یہ کورونا وائرس کی طرح ایک سے دوسرے کو لگنے والی بیماری نہیں ہے۔“
اسے اب اس کے بھولے پن پر غصہ آنے لگا تھا۔
”ہاں نہیں ہے۔۔ پر اس کے باوجود جس جگہ کسی ایک کو یہ ہوتا ہے وہاں لازمی دو لوگ اور متاثر ہو رہے ہیں۔ جس گھر سے کوئی ایک جنازہ بھی اٹھا ہے معلوم کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ اس گھر میں پہلے سے دو تین لوگ اس بیماری سے گزر رہے تھے اور جو گھر میں سب سے نازک تھا اسے آرام نہیں آ سکا۔“
”نہیں۔۔ بلکہ اس کا آخری وقت آیا ہوا تھا۔ بیماری تو ایک بہانہ ہے۔“ اس نے اٹل انداز میں کہا تھا۔
عروش کو اب غصہ آنے لگا۔
”ٹھیک ہے پھر تم سمجھ لو کہ بہانہ بن چکا ہے اور میرے بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ اس لیے تمھیں یہاں نہیں آنا چاہیے۔“
وہ افسردگی سے سر جھکائے اس کے سخت جملے سنتا رہ گیا تھا۔ اس نے یقین سے کہا تھا۔
”نہیں۔۔ انشاءاللہ کچھ نہیں ہو گا آپ کو۔۔ میں آپ کا خیال رکھوں گا اور آپ ٹھیک ہو کر گھر واپس آ رہی ہیں۔“
”لگتا ہے تمھاری ماں نہیں ہے ورنہ تمھیں اپنا خیال ضرور ہوتا۔“ اس نے تنگ آ کر اسے سنا ڈالا۔
اچانک سے یہ سن کر وہ غمزدہ سا ہو گیا مگر اس نے جلد ہی اپنے تاثرات چھپا لیے۔
”ہاں نہیں ہے۔۔ مگر آپ کی ہے تو آپ کو کون سا اپنا خیال ہے۔“ اس نے تعجب کا اظہار کر ڈالا۔
وہ مایوسی سے ایک جانب کو دیکھتی رہ گئی تھی۔
”شادی کے بعد ہر لڑکی یتیم ہو جاتی ہے۔ ویسے بھی مائیں تو بیٹوں کی ہوتی ہیں۔“ اس نے ناراضگی سے اسے سنایا تھا۔
”اب جاؤ یہاں سے۔“ وہ غصے سے کہہ کر کلائی آنکھوں پر رکھے سونے کی کوشش کرنے لگی تھی۔
کچھ دیر یونہی گزر گئی۔ سسٹر ماہم نے اس کے دوسرے ہاتھ پر برنولا پاس کر کے ڈرپ لگا دی تھی۔ وہ نیم بےہوشی سے نیند کے سفر میں تھی جب اچانک سے اس کا سر دبایا جانے لگا۔
اس کو سکون مل رہا تھا اس نے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا تھا کہ سر دبانے والا کون ہے۔ وہ چپ چاپ درد کو آرام آتا محسوس کرنے لگی۔
آرام ملتے ہی اس پر نیند کا غلبہ چھانے لگا۔
اسے نیند میں کسی لمحے احساس ہوا وہ اپنی دائیں کروٹ پر لیٹی تھی اور کوئی کمبل کے اوپر سے اس کی کمر دبا رہا تھا۔
وہ نیند میں نجانے کیا بڑبڑائی اور پھر سے گہری نیند میں چلی گئی۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ ابھی بھی وہیں موجود تھا۔
اسے حیرانی سی ہوئی تھی۔
”تم گئے نہیں؟“ وہ دھیرے سے مسکرایا تھا۔
”آپ کو اکیلا چھوڑ کر چلا جاتا؟“
”میں تمہاری ذمہ داری نہیں ہوں۔“
پھر کچھ یاد کر کے افسوس سے دل میں خود سے کہنے کرنے لگی۔ جس کی ذمہ داری ہوں اسے تو احساس نہیں بھی نہیں۔
وہ محبت سے اسے دیکھ رہا تھا۔
”پھر محبت کو اپنی ذمہ داری نبھانے دیں۔ محب اپنے محبوب کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔“
وہ سرد ہواؤں کے جھونکے محسوس کرتے ہوئے اس کی بات پر غور کرتی رہ گئی۔۔
”تمہیں اس سب سے کوئی فائدہ نہیں ملنے والا۔۔ کسی امید میں مت رہنا۔“
وہ پھیکا سا مسکرایا تھا۔
”کچھ کام فائدے اور امیدوں کے بغیر کیے جاتے ہیں۔“
وہ مزید کچھ بولے بغیر پھر سے سو گئی۔
کچھ دیر بعد نرس کمرے میں آئی تھی۔ ”آپ جوس وغیرہ لے لیں پھر دوائی دینی ہے۔“
اس نے عروش سے براہ راست کہا تھا۔
طالب نے اس کو سہارا دے کر اٹھایا اور جوس پلانے لگا۔
وہ شرمندگی سے اس سے لیے خود پینے لگی۔
کیا وقت آ گیا تھا۔ سب اسے درد میں تنہا چھوڑ گئے۔۔
اس کا شوہر، اس کی دوستیں، اس کے رشتے دار، یہانتکہ اس کی اولاد بھی درد میں اس کے لیے راحت پیدا نہ کر سکی جس کے لیے وہ اپنی زندگی کا کوئی فیصلہ نہیں لینا چاہتی تھی اور ایک انجان شخص محبت کے نام پر اس کو اپنی خدمات پیش کر رہا تھا۔
وہ دوائی لے کر سرہانے کی ٹیک لیے بیٹھ گئی۔
نرس نے اس کا طالب کے ساتھ ناراضگی بھرا رویہ محسوس کر لیا تھا۔
”آپ کچھ دیر کو یونہی بیٹھی رہیں اور خود کو ٹھیک محسوس کریں۔ چاہے یہ آپ کے سوتیلے بھائی ہیں لیکن آپ کا خیال کرتے ہیں تو روز یہاں آتے ہیں۔ آپ خوش قسمت ہیں جس کے لیے یہاں کوئی خیال کرنے والا موجود ہے۔“
طالب نرس کی بات پر اچانک سے اپنے ماضی سے باہر نکل آیا تھا۔
عروش کو سوتیلے بھائی والی پچان پر کچھ حیران ہوئی مگر کے لبوں پر تالا لگا رہا۔
وہ اب سردی سے سکڑ رہی تھی۔
طالب نے اٹھ کر صوفے کی ایک جانب پڑی اس کی گرم شال اٹھائی اور لا کر اس کے کندھوں پر پھیلا دی۔
وہ اسے نظرانداز کیے اپنے سامنے دیکھتی رہی۔
”اگر یونہی کچھ دیر اٹھ کر بیٹھیں گی، بار بار جوس لیں گی، تو امید ہے طبیعت میں جلد بہتری آئے گی۔“ نرس اسے سمجھا کر وہاں سے چلی گئی۔
”ایک بات یاد رکھنا اس دنیا میں سب بھائی اچھے نہیں ہوتے اور کچھ تو بہت ہی مطلبی ہوتے ہیں۔۔ اس لیے اس خوش فہمی میں مت رہنا کہ میں تمہارے بھائی بننے سے متاثر ہو جاؤں گی۔“ وہ خفگی بھری نگاہوں سے اسے دیکھ کر رہ گئی۔
وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ وہ ہر رشتے سے خفا تھی اور اب کوئی نہیں ملا تھا تو غصہ اس پر نکال رہی تھی۔
”وہ تو میں نے بتانے کے لیے رشتہ نکالا تھا۔ مجھے آپ کا بھائی نہیں بنانا۔“ اس نے مسکراتے ہوئے وضاحت دی تھی۔ اب وہ بے جان لبوں کو حرکت میں لائے بغیر اسے دیکھ کر رہ گئی۔
اس کا مزید بیٹھے رہنے سے سر چکرانے لگا۔
”اب تم کب تک یہاں بیٹھ کر میرا منہ تکتے رہو گے؟“
اس نے تنگ آ کر پوچھا تو طالب گڑبڑا سا گیا۔
”جب تک کوئی دوسرا آپ کا خیال کرنے والا نہیں آ جائے گا۔“ وہ اطمینان سے وضاحت دے رہا تھا۔
وہ بیزاری سے کہنے لگی۔ ”کسی کے آنے کا انتظار مت کرنا۔۔ ہر کسی کے بہت مسائل اور مصروفیات ہیں اور مجھے کسی کا احسان لینا پسند نہیں ہے۔۔ اس لیے تمہیں اپنا وقت یہاں ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔۔ فارغ ہو کر ماما آ جائیں گی۔ تم جا سکتے ہو۔“
وہ سنجیدگی سے اس کی بات سن کر سر ہلانے لگا۔
”مگر میرے مسائل اور مصروفیات میں اول نمبر پر آپ ہیں تو میں آپ کے لیے یہاں موجود رہ سکتا ہوں۔“
وہ لاپرواہی سے کندھے اچکا کر رہ گئی اور آنکھیں موندے پھر سے لیٹ گئی۔
وہ زندگی سے بیزار ہو چکی تھی۔ اسے اب کسی آنے والی خوشی کا اعتبار نہیں رہا تھا۔ بلکہ انتظار بھی نہیں رہا تھا۔ درحقیقت اس کا دل ہی مر چکا تھا۔۔
اس نے آنے میں بہت دیر کر دی تھی۔ اس کو اب کسی کا خیال رکھنا بھی زندگی کی طرف واپس نہیں لا سکتا تھا۔
”میری ماما کے آنے سے پہلے یہاں سے چلے جانا اور روز روز پھول مت لایا کرو۔ میرے گھر والے شک کر رہے ہیں۔“
وہ نیند میں کہہ کر سو گئی تھی۔
————*

جاری ہے

Back to top button

New Report

Close