نظام تعلیم اور جہالت – اویس سکندر
تعلیم ایک معاشرتی عمل ہے جس کا انتظام معاشرے کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ کسی بھی ملک کا نظام تعلیم براہ راست اس ملک کے مسائل اور ضروریات پر اثرانداز ہوتا ہے۔ نظام تعلیم اور عمل ِ تعلیم، معاشرے کی ضروریات اور مسائل کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔ عمل ِ تعلیم کا معاشرے سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے کیوں کہ ہر فرد کا تعلق معاشرے سے ہوتا ہے اور معاشرے میں رہنے والے ہر فرد کے لیے تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے مگر ہمارے معاشرے میں تو الٹی گنگا بہتی ہے۔ یہاں علم کا تعلق پیسے سے جوڑا جاتا ہے حالاں کہ اس کا پیسے سے کیا تعلق؟ علم تو روشنی ہے۔
علم کے بارے میں تو کہا گیا ہے کہ علم، انسان کی غیبی آنکھ ہے، جس سے انسان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں تو تعلیم کا ستیاناس ہوچکا ہے۔ ہماری قوم جس طرح منتشر تھی، اب ایک ہجوم کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ اس بکھری ہوئی قوم کو ایک مربوط اور خوب صورت تعلیمی نظام سے یک جا کیا جا سکتا تھا مگر بدقسمتی سے یہاں تیرہ قسم کے نظام تعلیم رائج ہو چکے ہیں اور جن کا نیٹ رزلٹ صفر ہے۔ ہمارے ہاں اردو میڈیم، انگلش میڈیم اور مشنری اسکولوں کا اپنا اپنا نظام تعلیم ہے۔ یہاں علم حاصل کرنے والے اداروں کو تین اقسام میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ سرکاری، پرائیویٹ اور مدرسے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک چھوٹی سی جگہ پر بارہ تیرہ قومیں پیدا ہو رہی ہیں۔
یہاں میں بتاتا چلوں کہ اَن پڑھ ہونا جرم نہیں، آپ کسی بھی وجہ سے اَن پڑھ رہ سکتے ہیں۔ اپنے ماحول یا کسی اور وجہ سے لیکن جہالت بہت بڑا جرم ہے اور جہالت کی بہترین مثال ہم خود ہیں۔ جہالت کی مثال یہ ہے کہ ایک اَن پڑھ یا پڑھے لکھے شخص سے یہ کہا جائے کہ ہمیں اشارہ نہیں توڑنا چاہیے کیوں کہ اشارہ توڑنے کی وجہ سے تمہاری یا کسی اور کی جان جا سکتی ہے۔ تو جواب ملتا ہے، سارے ہی ٹریفک کے اصول توڑتے ہیں، میں اکیلا تو نہیں توڑتا۔ جاہل شخص سے کہا جاتا ہے کہ اپنے گھر کا کوڑا باہر گلی میں نہیں بلکہ اس کی مخصوص جگہ پر پھینکا کرو تو وہ جاہل شخص جواب دیتا ہے کہ میرے کوڑا نہ پھینکنے کی وجہ سے کون سا یہ شہر صاف ہوجائے گا؟ اور باقی سب بھی تو کوڑا باہر پھینکتے ہیں۔
اگر ایک جاہل شخص سے کہا جائے کہ تم لائن میں کھڑے ہو تاکہ سب لوگوں کی باری وقت پر آئے مگر وہ پھر بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے، جس کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ میرے نزدیک ایک ان پڑھ شخص کے ساتھ گزارا ہو سکتا ہے مگر ایک جاہل شخص کے ساتھ قطعی ممکن نہیں۔ پھر سونے پہ سہاگا یہ کہ جن لوگوں کے پاس اچانک حرام کا پیسا آجاتا ہے، وہ سب سے پہلے واسکٹ سلواتے ہیں اور معتبر بننے کی کوشش کرتے ہیں، پھر گھر بدلتے ہیں اور لوگوں میں بے وجہ پیسا خرچ کرنا شروع کردیتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں تعلیم حاصل کرنے کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ اچھی نوکری مل جائے گی اور جب نوکری مل جاتی ہے تو ”علمی دہشت گردی“ پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ پاکستان میں آج تک جتنی بھی معاشی دہشت گردی ہوئی ہے، وہ پڑھے لکھے لوگوں ہی نے کی ہے۔ ہمارے ملک کا نظام تعلیم بہت منتشر ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ نائیجیریا کے بعد ہمارے ملک میں سب سے کم بچے اسکول جاتے ہیں۔ ڈھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں اور عالم یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں میں بھی بچوں کی تعداد بڑھنے کی بجائے کم ہو رہی ہے۔ تعلیم اگر کہیں دی جا رہی ہے تو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں مگر وہاں فیس بہت زیادہ ہوتی ہے۔ عام آدمی کے بچے ان مہنگے اسکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔ پرائیویٹ اسکولوں میں منافقت بہت زیادہ ہے۔ ایک اسکول کا دوسرے اسکول سے نصاب ہی نہیں ملتا۔ جس طرح ہمارے مسلک مختلف ہو رہے ہیں، اسی طرح پرائیویٹ اسکولوں کے نصاب بھی مختلف ہو رہے ہیں۔
تعلیم ہمارے ملک کا بنیادی مسئلہ ہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے جی ڈی پی کا صرف دو فی صد تعلیم پر لگا رہے ہیں یعنی ہم اپنی تعلیم کو بس تھوڑی سی اہمیت دے رہے ہیں۔ اسی لیے اس کا نیٹ رزلٹ صفر ہے۔ اگر ہم اپنے جی ڈی پی کا دس فی صد ہی تعلیم پر لگا دیں تو یہ بنیادی مسئلہ تھوڑے ہی عرصے میں حل ہو سکتا ہے۔ خیبرپختون خوا میں اس وقت دو کام بہت اچھے ہو رہے ہیں، ایک پولیس ریفارمز اور دوسرا ایجوکیشن ریفارمز۔ ایک بات یاد رکھنے والی ہے کہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنی قوم کے مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے، وہ نہیں جس کی نظر اگلے الیکشن پر ہو۔ اس لیے ہمارے حکم رانوں کو بھی یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ تعلیم کا مقصد صرف پڑھے لکھے بے روزگاروں کی کھیپ تیار کرنا نہیں بلکہ ملکی اور بین الاقوامی ضروریات کے مطابق پیشہ ورانہ مہارت کے حامل افراد تیار کرنا ہو۔
٭……٭……٭