نمکین پانی – ارم فاطمہ

آج کوئی نئی بات نہیں تھی۔ یہ تو روز اس کے ساتھ ہوتا تھا پھر آج ایسی کیا بات ہوئی کہ اس کی آنکھوں کا نمکین پانی اس کا تکیہ بھگو رہا تھا۔ تعلیم حاصل کرنا اس کا خواب تھا۔ مگر کیا یہ ضروری تھا کہ اس راہ میں ہر روز اس کے احساس محرومی کو نمایاں کیا جاتا۔ آج پھر وہ کلاس میں سر جھکائے کھڑی تھی۔ وجہ وہی تھی، یعنی اس کے یونیفارم پر پانی اور مٹی کے داغ۔
وہ کسی کو کیسے بتاتی کہ وہ روز رات کو اپنے بستر پر لیٹ کر چھت سے ٹپکنے والی بوندوں کو ایسے شمار کرتی ہے جیسے لوگ چاندنی راتوں میں ستارے گنتے ہیں۔ مکان کی چھت کچی ہونے کے باعث ایک دن بھی ہوئی بارش کا پانی کئی دنوں تک ایسے ٹپکتا رہتا ہے جیسے چھلنی سے پانی ٹپک رہا ہو۔ واپڈا والوں کی مہربانی سونے پر سہاگا کا کام کرتی ہے، مطلب نہ بجلی نہ پانی۔ اس میں قصور کس کا؟ سزا کس کے کھاتے میں؟
اس کی دوست ثانیہ نے کہا کہ وہ اس کی امی سے بات کرتی ہے، وہ ایک اور یونیفارم خرید لیں تاکہ روز روز کی ذلت سے بچا جا سکے۔ جب وہ رابعہ کے گھر پہنچی تو اس کی امی اور چھوٹی بہن گھر کے آنگن میں کھڑے پانی کو بالٹیوں سے نکال رہی تھیں۔ چھت کا بکھرا ہوا ملبہ ان کی بے چارگی اور کسمپرسی کی داستاں سنا رہا تھا۔
ٹوٹا مرا مکان کھلے مفلسی کے بھید
بارش نے انکشاف سر عام کردیا
برسات کا موسم بھی کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت کا سبب بن جاتا ہے۔ جن کے گھروں کی چھت سلامت رہتی ہے، وہاں اس کا استقبال خوشیوں اور مسکراہٹوں کے ساتھ کیا جاتا ہے اور جن گھروں کی چھتیں لرزنے لگتی ہیں، ان کے ہاتھ بے اختیار آسمان کی طرف اٹھ جاتے ہیں۔ اس ملک میں نہ جانے کتنے ایسے خاندان ہیں، جو رات کو اس فکر میں سوتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو، صبح سر پر سائبان نہ رہے۔ یہ خستہ حالی کچھ تو ان کا مقدر ہے اور کچھ حالات کی ستم ظریفی کہ مہنگائی کے اس دور میں سفید پوش طبقہ، خوراک اور رہائش کے اخراجات پورے کرے یا اپنے بچوں کی آنکھوں میں بسے تعلیم کے خواب پورا کرنے کی سعی کرے۔ شاید ان کی قسمت میں یہی ہے کہ وہ اپنے خواب اس زمین گھر انسانوں کا ہجوم، جن کی آنکھیں نمکین پانی سے بھری ہوئی شکوہ کناں ہیں۔