مجھ سے کئی لوگوں نے پوچھا کہ تم اتنی اداس اور غمزدہ کیوں رہنے لگی ہو؟ حالانکہ میں اپنے چہرے سے کچھ عیاں نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن کچھ غم امڈ آتے ہیں۔ مگر میں بتاتی تو کیا بتاتی؟
مجھے لگا کہ کوئی میری بات سمجھ ہی نہیں پائے گا۔ پتا نہیں میں کس دیس میں رہتی ہوں جہاں اتنی حساسیت کو عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے، جہاں ایسی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اور کہہ دیا جاتا ہے اب ایسا بھی کیا ہے، بس اللہ سب پر رحم کریں۔
میں کیا بتاتی کہ میں راتوں کو سو نہیں پاتی، کیا سمجھاتی کہ مجھے کیا بے چینی ہے، میں کیا بتاتی کہ میں کتنی دعائیں کرتی ہوں، میں کیا بتاتی کہ اس پریشانی کے آگے اپنی ساری پریشانیاں اور تمام دنیاوی الجھنیں بے کار لگتی ہیں۔
آپ بتائیے کیا صرف باتوں سے آزادی مل جاتی ہے؟
کیا صرف جملوں سے فتوحات حاصل ہو جاتی ہیں؟
کیا آپ صرف باتیں کرتے رہیں تو آپ کے گھر کے سارے کام ہو جائیں گے؟؟؟
نہیں، نہیں، بالکل نہیں۔۔۔
تو پھر ہم آج تک کشمیر اور فلسطین کے لیے صرف باتیں کیوں کرتے آئے ہیں؟ اور برما، چین، سومالیہ، عراق اور وہ بھی جو میں نہیں جانتی یا ابھی لکھتے ہوئے میری انگلیاں کپکپا رہی ہیں۔ اپنی پوری زندگی یہی سب سنتے گزر گئی اور اب ہمارے بچوں کی زندگی بھی یہی سنتے آگے بڑھ رہی ہے۔
اب آپ کہیں گے کہ ہم کر بھی کیا سکتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس اختیار نہیں۔ بے شک آپ کی بات ٹھیک ہے، لیکن کچھ تو ہے جو ہم کر ہی سکتے ہیں۔ ہاں دعا کے بعد یا دعا کے علاوہ ، کہ یہ تو ہم سب ان کے لیے کرتے ہی ہیں۔ لیکن ذرا ٹھہریں کیا واقعی ہم سب ان کے لیے دعا کرتے بھی ہیں؟
آپ کہیں گے:
ہاں ہاں، بس جب خیال آئے تو ضرور کر لیتے ہیں، لیکن وہ خیال ہی کبھی کبھار آتا ہے۔ چلو اب سے کریں گے دعا، لازمی، ہاں ہاں بالکل پکا۔
مگر نہیں ۔۔۔ ابھی تو آپ مصروف ہیں ورلڈ کپ کے ہنگاموں میں، ابھی تو آپ مشغول ہیں کرکٹ کی دھما چوکڑی میں، ابھی تو آپ پرجوش ہیں اپنی پسند کی ٹیموں کے آنے والے میچوں کے لیے، ابھی تو آپ کو انتظار ہے کہ کب کب پاکستان کا میچ ہو اور وہ حریف ٹیموں کے چھکے چھڑا دے۔ یعنی کہ ہم صرف ڈرائنگ روم میں اپنے صوفوں پر بیٹھے، رنگ برنگے کھانے کھاتے ہوئے، گیند بلے سے جنگیں لڑ سکتے ہیں۔ وہ بھی دوسروں کے ہاتھوں میں پکڑا کر۔ اپنے زورِ بازو سے کچھ نہیں کر سکتے سوائے چوکوں، چھکوں، آؤٹ ہونے یا سینچری ہونے پر ہاتھوں سے زوردار تالیاں پیٹنے اور چلّا چلّا کر خوش ہونے یا برا بھلا کہنے کے۔
اور بس؟
تو آپ کہیں گے:
ارے نہیں، وہ بائیکاٹ بھی تو کر رکھا ہے ان یہودیوں کی چیزوں کا، بس ہر چیز کا نہیں ہو پاتا۔ کیا کریں عادت جو ایسی پڑی ہوئی ہے۔ پھر یہاں اس معیار کی چیزیں ملتی بھی تو نہیں ناں، اور بھئی حکومت کو چاہیے کہ ان چیزوں کی فروخت ہی بند کر دے تو عوام مجبور ہو جائے گی۔
خبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی
عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ
تو سن لیں حکومت اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہے، جبکہ ہم اپنا بویا ہی کاٹیں گے۔ جب ایمان لے آئے تو آزمائے بھی جائیں گے، اور جب آزمائش پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے تو اجنبی بھی بنتے جائیں گے۔ لیکن فکر کیسی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام بھیجا ہے ایسے اجنبی لوگوں پر، تو کیا ہم جن پر سلام بھیجتے ہیں اپنے لیے ان کا سلام ہاتھوں ہاتھ لینے کی اتنی سی سعی بھی نہیں کر سکتے؟؟
ہم سے بہتر تو وہ فاختہ ٹھہری جو حضرت ابرہیم علیہ السلام کے لیے دہکائی آگ بجھانے کے واسطے ایک قطرہ پانی لیے اڑے جا رہی تھی۔ مگر ہمارے بازو پرواز سے پہلے ہی شل ہیں کہ ہم ذہنی اور جسمانی طور پر ان ظالموں کے ہی غلام ہیں۔
وقتِ فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے
آج ہی سوچ لیں، یا تو اپنے معیار کا تعین اِس دنیا کے لیے کر لیں یا اُس دنیا کے لیے معیار بنا لیں۔ اس فیصلے کا اختیار یقیناً ہمارے پاس ہے۔ اور کسی پر نہیں لیکن اپنے وجود پر تو اختیار استعمال کرنے کی آزادی ہمیں اللہ نے دے رکھی ہے، جسے ہم باقی ہر کام کی اجازت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ بس یہیں پر آ کر کیوں کمزور پڑ جاتے ہیں؟
کیوں نہیں اس دل میں روگ پال لیتے، اس غم کو دل میں بسا لیتے ہیں کہ کم از کم اس فکر کے نتیجے میں اللہ ہمیں کوئی فکر انگیزی کی توفیق دے دیں اور ہماری نسلوں کو ایسی آفت سے بچا لیں۔ ورنہ خدانخواستہ یہ بے فکری آج ہمیں، کل انہیں لے ڈوبے گی۔
آئے دن چین، کشمیر اور اب فلسطین کی ویڈیوز تو سب ہی دیکھتے ہیں۔ کیسے اتنے بے حس ہوگئے ہیں کہ سب دیکھ کر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جہاں عورتوں کی عصمتیں محفوظ نہیں، جہاں کنسنٹریشن کیمپز میں زبردستی عقائد تبدیل کرائے جارہے ہیں، جہاں نیزوں پر لاشیں اچھالی جاتی ہیں، جہاں نمازیوں پر گولیاں برسائی جارہی ہیں۔ کیا ایک لمحے کے لیے خود کو اس جگہ رکھ کر سوچا ہے، کیا ایک ساعت کے لیے خود کو اس مقام پر محسوس کیا ہے؟
اے میری ماں، میری بہن، میری بیٹی!!! اگر نہیں کیا تو یہ اب محسوس کرو۔ وَاللّٰہ کانپ اٹھو گی، سنو، ضرور لڑکھڑا جاؤ گی جب حالت نماز میں لگے گا کہ گولیاں تمھارے ٹخنوں کو چھو رہی ہیں، تمھارے کندھوں سے مس ہو رہی ہیں، تمھاری ناک کو خون آلود کر رہی ہیں اور تمھاری آنکھوں کو بینائی سے محروم کر رہی ہیں۔ تم ضرور کانپ جاؤ گی جب یہ سوچ صرف سر ہی ابھارے گی کہ تمھاری اولاد کو خنجر کی نوک ہی چبھ جائے، کہاں یہ کہ معصوم اولاد کو ظلم سے مار ہی ڈالا جائے۔ تم کیسے نہیں ڈر جاؤ گی کہ اگر یہ احساس بھی دل میں آئے کہ کوئی نامحرم وحشی درندہ تمھاری چادر کی طرف اپنے میلے ہاتھ ہی اٹھائے، کہاں یہ کہ وہ حرمت کو تار تار کر جائے۔
تم ذرا ایک لمحے کو سوچو کہ اپنے گھر کے کسی کمرے میں بیٹھے ہوئے اچانک وہاں بم آ گرے۔ پورا گھر، آس پاس علاقے، تباہ ہو جائیں۔ اور یہ سب کچھ ملک کی سرحدوں پر نہیں بلکہ شہری علاقوں میں ہو۔ اسکول، کالج، ہسپتال، گھر، دفتر، سب درہم برہم ہو جائے۔ پانی، خوارک، دوائیں، بجلی، انٹرنیٹ، اپنے پیارے کچھ بھی میسر نہ ہو۔ جانے کیسا لگے گا ۔۔۔ کہ ہم تو یہ سوچ بھی نہیں سکتے، سوچ کر کانپنا تو دور کی بات ہے۔
سچ بتاؤ تو صرف پڑھ کر ہی دل کٹ رہا ہے نا اور صرف سوچ کر ہی دل رو رہا ہے نا۔ تو بھلا کیسے نیند آسکتی ہے؟ تو بھلا کیسے قرار آ سکتا ہے؟ تو بھلا کیسے دل خون کے آنسو روئے بغیر رہ سکتا ہے؟
تو سنو تم بھی بے قرار رہو، تم بھی اپنے حواس اور ایمان کو جگائے رکھو۔ خدارا اس خوابِ غفلت سے بیدار ہو جاؤ۔ تم کیسے اپنی پلکوں پر نازک خواب سجا سکتی ہو، تمھیں تو اپنے سینوں میں فولادی جگر بیدار کرنا ہے۔ اور اپنے جگر کے ٹکڑوں کو مجاہد بنانا ہے۔
ہم چاہے کچھ کر سکیں یا نہ کر سکیں لیکن اپنے دل میں اس غم کو جگائے رکھنے کا اختیار تو رکھتے ہیں۔ اس غم میں کڑھتے رہیں اور فریاد کرتے رہیں تو اللہ کو اپنے حصے کی کوشش تو دکھا سکتے ہیں۔
آؤ راستے میں آئی ہر دیوار کو گرا دیں، تو کیا ہوا کہ اگر دنیاوی فصیلیں گرانا ہمارے اختیار میں نہیں مگر ہم اپنی تمام خواہشات، ضرویات اور کھوکھلی مجبوریوں کی دیواروں کو روندتے ہوئے تو دشمن کو پسپا کر ہی سکتے ہیں ناں۔
دشمن سرحدوں پر ٹینک پہنچا چکے ہیں، وہ کُھل کر جنگ کے لیے للکار رہے ہیں، تمام عالمِ اسلام کو دھمکا رہے ہیں، سب پر حملے کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں۔ آج کسی اور کی سرحد تو کیا کل ہماری باری نہیں آ سکتی۔؟؟؟
ایسی نوبت آنے سے پہلے آؤ جاگ جائیں۔ کرکٹ میچ ہارنے کا غم کرنے کے بجائے اس جہاد میں جیتنے کی دعا کریں جو اب ہم سب پر فرض ہو چکی ہے۔
آؤ میلوں دور سرحدوں پار رہتے ہوئے بھی ایک حرم کی پاسبانی کے لیے یکجان ہو جائیں کہ تمام مومن تو ایک جسم کی مانند ہیں، جب ایک حصے میں درد ہو تو دوسرا حصہ کیسے بے چین ہوئے بغیر سکون سے رہ سکتا ہے۔ تو آؤ اس بے قراری کو دل سے لگا لیں!
ہے منزلِ تعمیر میں تعبیر کا سورج
یہ خواب ادھورا ہے ابھی جاگتے رہنا
نیندیں تو یہ کہتی ہیں چلو چین سے سوئیں
دل سینے میں کہتا ہے ابھی جاگتے رہنا
یہ کہہ کے مجھے رازؔ وہ سونے نہیں دیتا
ہر گام پہ خطرہ ہے ابھی جاگتے رہنا