بلاگصفحہ اول

2024 کو بامقصد بنائیں

تحریر: عائشہ فلک، حضرو
آپ جب تک سوچیں گے نہیں تب تک قدم بھی نہیں اٹھا پائیں گے۔ آج کا دور کچھ بننے کا دور ہے۔ کچھ کر دکھانے کا دور ہے۔ آپ ترقی کا دروازہ تب تک نہیں کھول سکتے جب تک علم نہیں ہوگا۔ جدید علوم اور اور جدید مہارتیں نہیں ہوگی۔ تو آج ہی ایک ڈائری لیں اور لکھیں کہ کیا کرنا ہے- اپنے گولز کے ممکنہ وقت بھی لکھیں کب کرنا ہے۔ ممکنہ راستہ تلاش کریں۔اور اگر کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا ہے تو بھی طے کرلیں کہ کرنا ہے۔ پہاڑ بھی توڑنے پڑے تو توڑیں گے۔ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر شیخ چلی بننے سے اچھا ہے چل پڑو۔ سچی لگن والو کو راستہ مل جاتا ہے۔ ایدھی عبد الستار کی اتنی بڑی فاؤنڈیشن کے دیکھ کر ہم یہ سوچتے ہیں کہ وہ کامیاب تھا مگر وہ چندہ مانگتے ہوئے اور لوگوں کی خدمت کرتے ہوئے رات کو سڑکوں پر سو جاتے تھے۔ ہر گلی کی خاک چھاننی پڑے گی۔ زندگی بامقصد تب بنے گی جب آپ جلیں گے۔اور مقصد صرف یہ نہیں کہ پیسہ ہو آپ کے پاس ہو۔ کامیاب یا بامقصد زندگی تب بنے گی جب آپ لوگوں کی بھلائی کا سوچیں گے۔ جب آپ یہ سوچیں گے کہ میرا ساتھ باقی لوگوں کی ذات کو بھی فائدہ ملے۔ سو وقت اور زندگی کا ضیاع بند کریں قلم اٹھائیں اور وہ سب لکھ دیں جو کرنا چاہتے ہیں۔ چاہے آپ کے پاس کوئی راستہ نہ ہو خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں۔ راستہ سوچ اور محنت سے بنے گا۔ خود کو ہر روز چیک کریں کیا پایا ہے آج اور کیا کھویا۔ آج میں نے اپنے مقصد کو پانے کے لیے کیا کوشش کی۔ روز کی ہار اور جیت کا ایمانداری سے معائنہ کریں۔ اور ہاں یاد رکھیں ہار ناکامی نہیں بلکہ سیکھنے کا ایک عمل ہے۔روز کا چھوٹا سا ٹاسک رکھیں اور ہر ممکن کوشش کریں کہ وہ پورا ہو۔ چھوٹے چھوٹے قدم بڑی کامیابی کا راستہ بنائیں گے۔ اور روز محنت کا تسلسل آپ کو جوڑے رکھے گا۔ مگر ایک گول کی کامیابی کے بعد آپ نے رکنا نہیں ہے۔ آپ کی منزل بہت بڑی ہے۔بس رکنا ہے۔چلتے رہنا ہے۔
منزل تو مل ہی جائے گی بھٹک کر ہی سہی
گمراہ تو وہ ہے جو گھر سے نکلا ہی نہیں

Back to top button

New Report

Close