
تائی امی ! آپ کو پتا ہے۔ امی کو جیسے ہی پتا چلا کہ آپ آرہی ہے تو انہوں نے مجھ سے اور بھائی سے اتنا سارا گھر کا کام کروایا اور خود بھی اتنے دنوں سے صفائی ستھرائی میں لگی ہوئی ہے۔ پردے تک بدلوا دیے کہ نئے پردے ہونے چاہیے۔ شکر ہے آپ آگئی ورنہ ہم کام کر کر کے نظر ہی نہیں آتے۔ رابعہ اپنی تائی امی کو اپنی مظلومیت کی روداد سنارہی تھی۔ اوہو ۔۔سعدیہ تم نے بچوں کو اور خود کو کیوں تھکا دیا۔ مانا کہ تم میری بہت عزت کرتی ہو لیکن میں تمہیں اور بچوں کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتی۔ رفعت نے پیار سموتے ہوئے کہا۔ بھابھی! تکلیف کیسی، پورے دو سال بعد آپ امریکا سے آئی ہیں تو کیا میں اتنا بھی نہیں کرسکتی۔۔ آپ ان باتوں کو چھوڑیں۔ یہ کباب کھائیں اسپیشل آپ کے لئے بنائیں ہیں اور خاص طور پر یہ رشین سیلیڈ لیں۔ یہ آپ کو پسند ہے۔۔ سعدیہ نے باؤل ان کی جانب کھسکاتے ہوئے کہا!
سعدیہ تمھاری ساری تیاریاں بہت خوب ہے۔ ہر چیز میری پسند سے بنائی۔ مجھے یقین ہے کہ تم مجھ سے بہت محبت کرتی ہو لیکن تمھیں پتا ہے کہ ایک خاص مہمان بھی آنے والا ہے۔ اس کی ہم ایسے قدر ہی نہیں کرتے حالانکہ وہ اپنے ساتھ بہت سارے انعامات لے کر آتا ہے لیکن ہم سے اکثر لوگ اس سے انعامات وصول ہی نہیں کرتے بلکہ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں ۔اچھا ایسا کون سا مہمان ہے ۔جس کی ہمیں اطلاع ہی نہیں ملتی آنے کی ؟ سعدیہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے۔ اس کی آمد کی اطلاع تو آسمان سے آجاتی ہے ۔ وہ مہمان ہے رمضان”جو سال میں ایک دفعہ آتا ہے لیکن ہم اسکی مہمان نوازی ہی نہیں کرتے۔ رفعت نے تاسف سے کہا! بھابھی میں نے تو رمضان کی ساری تیاری کر لی ہے۔ سارے مصالحے جات ۔ پکوان بناکر رکھ لئے۔ صفائی ستھرائی۔اور بچوں کی عید کی خریداری بھی کر لی ہے۔ سعدیہ نے تفاخر سے کہا۔ کیا رمضان کی تیاری یہی ہوتی ہے ؟ روحانی تیاری کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔اس کے بغیر ہم رمضان کے انعامات حاصل نہیں کر سکتے ۔اللہ کو ہمارا بھوکا پیاسا رہنا نہیں چاہیۓ۔ بلکہ روزے کا مقصد اللہ کا ڈر و خوف پیدا ہو۔ اگر یہ حاصل ہو گیا تو سمجھو تم نے روزے کا مقصد پالیا ۔بھابھی میں نے تو اس انداز سے رمضان کو سمجھا نہیں ۔۔ روزے و افطاری کی تیاریوں میں ہی دن نکل جاتے ہیں ۔۔سعدیہ نے پر سوچ لہجے میں کہا ۔ یہی تو رمضان کی قیمتی گھڑیاں جو قبولیت کی ہوتی ہے اسے ہم کچن یا لایعنی کاموں میں گذار دیتے ہیں اور وہ انعامات کی بارش سے ہم مستفید نہیں ہوتے ۔۔ بھابھی آپ نے تو رمضان کا صحیح مقصد بتادیا۔ سعدیہ نے ممنونیت سے کہا ۔ میں اس لئے تو امریکہ سے پاکستان آئی ہوں تاکہ اپنی بہن کے ساتھ رمضان کی برکتیں اور رحمتیں حاصل کرسکوں ۔۔ہم دونوں مل کر اس رمضان کو اپنے لئے مغفرت کا ذریعہ بناییں گے ۔ ان شاء اللہ ۔رفعت نے مسکراتے ہوۓ سعدیہ کو دیکھتے ہوۓ کہا ! سعدیہ بھی ایک مقصد کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔