
امی !امی کہاں غائب ہے آپ؟ فرح نے اسکول سے أتے ہی امی کو متلاشی نظروں سے دیکھا ۔”کیا ہوا ؟ نہ سلام نہ دعا ! ایسا کیا ہو گیا؟ امی نے ناگواری سے پوچھا ۔۔ سوری امی !دراصل ہماری اس ہفتے فئیر ول پارٹی ہے ۔مجھے بھی میکسی پہننی ہے ۔۔۔ فرح نے ضد کرتے ہوۓ کہا ! ارے اتنے اچھا ڈریس رکھا ہوا ہے ۔ جو عید کے دن پہنا تھا ۔وہی پہن لو ۔ نہیں امی وہ سب نے دیکھ لیا ہے ۔ فرح بیٹی تمھیں پتا ہے کہ تمھارے ابو یہ قطعی پسند نہیں کریں گے ۔تمھارے اسکول میں لڑکے بھی پڑھتے ہیں ۔۔ اس لیے اتنا تیار ہو کر جانے کی ضرورت نہیں¡ کیا ہے امی ۔۔میری ساری دوستیں اتنا اچھا تیار ہو کر أۓ گئیں۔ میں ایسے ہی جاؤں۔ فرح منہ بسورتے ہوۓ کہا ۔۔اچھا جاؤں کپڑے تبدیل کرو ۔۔میں کھانا لگاتی ہوں ۔۔نہیں !میں کھانا نہیں کھاؤں گی۔”جب تک مجھے میکسی نہیں مل جاتی ۔”فرح غصے سے پیر پٹختی ہوئ اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔
آخر کار فرح کی ضد کے أگے امی نے ہتھیار ڈال دئیے ۔اور اسے اسکی پسند کی میکسی بھی دلا دی ۔ جب تیار ہو کر جانے کے لئے نکلی تو بال کھلے ہوۓ دیکھ کر امی نے ٹوکا ! فرح تم اسکول جا رہی ہوں اپنے بال باندھوں اور اسکارف لو ۔ امی نے حتمی لہجے سے کہا! امی آج تو پارٹی ہے ۔آج تو میری ساری دوستیں بال کھول کر آئیں گئیں۔ فرح نے نروٹھے لہجے سے کہا! ویسے تو اسکول میں یونیفارم کے ساتھ اسکارف لازم ہے ۔تو اب کیا پارٹی میں اسکارف کیوں نہیں ؟ امی نے تشویش بھرے لہجے میں کہا !امی وہ تو یونیفارم ہے ،اب تو ہمیں آذادی ہے کہ ہم جیسے چاہے پارٹی میں جا سکتے ہیں ۔ فرح نے امی کو قائل کرنے کی کوشش کی ۔ أخر پارٹی میں اسکارف کیوں اتر جاتے ہیں اور بال کھل جاتے ہیں؟ بیٹی !لڑکی کی عزت بڑی نازک ہوتی ہے ۔اسے حجاب سے ہی تحفظ ملتا ہے ۔میری مانو حجاب لے لو ! امی کل سے لے لوں گی۔
” مجھے دیر ہو رہی ہے ”۔میں جا رہی ہوں ”فرح سرعت سے یہ کہہ کر دروازے کی طرف لپکی ”کہ مبادہ امی کا لیکچر شروع ہو جاے گا ۔ پارٹی میں تمام گرلز شوخ و شنگ کپڑے میں ملبوس تھیں ۔ اور سب اپنے موبائل سے تصویریں لے رہی تھی ۔فرح آؤ تصویر کھنچواؤ ۔ مایا نے فرح کو اشارہ کرتے ہوۓ کہا !فرح فورا تصویر کھنچوانے لگی ۔۔مایا کا بھائی بھی اسی اسکول میں پڑھتا تھا ۔۔ اس نے مایا سے موبائل مانگا اپنے دوستوں کی تصویریں کھنچنے کے لئے ۔۔ مایا نے موبائل پکڑایا اور اپنی دوستوں کے ساتھ باتوں میں مگن ہو گئی ۔۔مایا کے بھائی زین کی نظر موبائل گیلری مین موجود لڑکیوں کی تصویروں پر پڑیں ۔تو تمام دوست ازراہ مذاق کہنے لگے ”ارے یہ دیکھو یہ کتنی اسمارٹ ہے ”ہاں یہ تیری ہے”یہ میری ہے”اور آپس میں ہنسی مذاق کر رہے تھے ”ان سب کی باتیں کینٹین سے آتی فرح نے سن لی تھی “جب اس نے موبائل اسکریں پر نظریں دوڑائی تو اس کی تصویر سکرین پر جگمگارہی تھیں ”اور ساتھ ہی امی کے الفاظ بھی کانوں میں گونجنے لگے ”بیٹی لڑکی کی عزت بہت نازک ہے ”اسے حجاب سے ہی تحفظ ملتا ہے۔