
ماں میں پوری کائنات سمٹی ہے
اسی لفظ میں پوری محبت لپٹی ہے
تیری محبت کی کوئ انتہا نہیں
تیری قربانیوں کی کوئ مثال نہیں
تجھ سےسارے بہن بھائ مامے چاچے
تیرے دامن سے جڑے رشتےسارے
تو نہیں تو یہ دنیا ہے جنگل بیبان
تو ہے میرے دن رات کی خوشی سماں
تو میری زندگی کی گھنی چھتر چھاؤں
جس کا سایہ کر دے ہر دکھ سے انجان
ہرلحمہ تیری گود کا ہے یاد گار
اس کے بغیر ہے انسان بے یارو مددگار
تیری آنچل میں پلیں سینکڑوں جانیں
سینکڑوں سے نہ پلے تیری اک جان
ہم بدنصیبوں کے لیے پھر بھی اٹھیں تیرے ہاتھ
پردیس سے نہ آپائیں کاندھا دینےکوہمارے
ہاتھ
جتنا بھی کہ لیں ماں تیری عظمت کو سلام
زندگی کم ہےکہنےکو تیری مہربانی کو سلام
از: صبا احمد