شرم و حیاء اور جدت پسندی (فرح مصباح)
حیا ہو میرا زیور ہو ایماں پہ خاتمہ
میں بنتِ خدیجہ میں بنتِ فاطمہ
خوبصورت لباس، خوبصورت گہنے، بناوسنگھار، زیب و زینت اور خوشنمائی۔ بلاشبہ یہ سب چیزیں خواتین کی شخصیت کا خاصہ ہوتی ہیں۔اللہ رب العزت نے عورت کو بہت قیمتی بنایا ہے۔ اور سدا سے دنیا کا یہ اصول رہا ہے کہ دنیا میں اکثر لوگ اپنی ہر قیمتی شے کو دنیا کے سامنے ظاہر کرنے کے بجائے اسے نہ صرف لوگوں کی نظروں سے چھپا کر رکھتے ہیں بلکہ بے پناہ احتیاط سے بھی رکھتے ہیں۔
مسلمان عورت کا مقام ومرتبہ تو اللہ رب العزت نے اسے ماں بنا کر بلند کر دیا کہ بندے سے اپنی محبت کی مثال بھی ماں کی محبت سے تشبیہ دے کر دی، مگر اتنا ضرور ہے کہ اگر ہم اپنی قیمتی اشیا کو بھی ڈھانپ کر رکھتے ہیں تو اپنی خواتین کو حیا کے زیور سے آراستہ کیوں نہ کریں؟نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم حیا نہ کرو تو پھر جو چاہے کرو۔“
حیا ایمان کا حصہ بھی ہے، حیا عورت کا زیور بھی ہے، حیا چہرے کا نور بھی ہے، حیا دل کا سرور بھی ہے۔حیا کی اہمیت ایک حیادار ہی جان سکتا ہے۔ حیا صرف عورتوں کے ساتھ خاص نہیں، اس امت میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جن کی حیا کے چرچے آسمان میں بھی ہوا کرتے تھے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ۔ اللہ تعالیٰ کی نورانی مخلوق فرشتے بھی ان سے حیا کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیٹی ان کے نکاح میں دی۔ پھر جب اس کا انتقال ہوگیا تو دوسری بیٹی بھی نکاح میں دے دی۔ آپ عثمان ذو النورین کہلائے۔ سبحان اللہ!
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے چار حیا داروں کے خصوصی واقعات بیان فرمائے۔ ایک مرد یعنی حضرت یوسف علیہ السلام اور تین عورتیں یعنی بی بی مریم، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، اور حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بلانے آئیں تھیں۔ ان کی عفت پر انگلی اٹھی، دشمن نے نیچا دکھلانا چاہا، لیکن اماں حوا کی ان بیٹیوں اور بیٹے نے اپنی عفت پر آنچ نہ آنے دی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی حیا کی قرآن پاک میں تعریف کی۔
آپ جانتے ہیں کہ قاتل جیل میں جاتا ہے، ڈاکو جاتا ہے، ظالم جاتا ہے، لیکن فلک نے وہ منظر بھی دیکھا ہے جب حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل میں ڈالا گیا۔ اور وجہ کیا تھی؟ انہوں نے عزیزِ مصر کی بیوی کی دعوتِ گناہ کو ٹھکرا دیا تھا۔
تیری اے نئی روشنی منہ ہو کالا
دلوں میں اندھیرا ہے باہر اجالا
مغرب کے دلدادہ کے پاس مغرب کی کاپی کے سوا ہے ہی کچھ نہیں۔ وہ کپڑے لمبے کرلیں، یہ لمبا کر دے گا۔ وہ چھوٹے کرلیں، یہ چھوٹا کر دے گا۔ وہ گھٹنے دکھائیں، یہ بھی دکھائے گا۔ اپنی عقل ہی کوئی نہیں۔ اپنی پہچان کی کوئی نہیں۔ کرناٹک میں رہنے والی مسکان نے ثابت کردیا کہ جدید تعلیم کو حیا کے پردے میں رہ کر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ آج کی ماڈرنز نے تو شلوار قمیض کو بھی ماسیوں کا لباس بنا دیا ہے حالانکہ یہ شریفوں، عزت داروں کا لباس ہے۔ بال کھلے ہوئے ہیں تو بڑی پڑھی لکھی ہے۔ اور بال چھپے ہیں تو گنوار ان پڑھ ہے، اسے اسٹیٹس کی خبر ہی کوئی نہیں۔
یہ سب ذہنی فرسودگی اور دشمن کے ڈالے ہوئے خیالات ہیں۔ چوہتر سال سے جسم تو انگریز سے آزاد ہے، لیکن روح اور خیالات آزاد نہیں۔ ہمیں بہ حیثیت مسلمان، بہ حیثیت پاکستانی اپنی دینی اور صحیح قومی ثقافت کی لاج رکھنی ہوگی۔ لبرل ازم کا نتیجہ بربادی کے سوا کچھ نہیں، اور حیا کا نتیجہ دنیا و آخرت کی کامیابی ہی کامیابی ہے۔ اب بتائیے کہ ہمیں کیسے رہنا چاہیے؟؟؟جدت پسندی کے لبادے میں بے حیائی کے ساتھ یا حیا کے لبادے میں حیا کے ساتھ ؟