
جب یہ کائنات وجود میں آئی تو رب کائنات نے ہر چیز کو حکم دیا کُن فیکون ہو، بس ہو گیا۔ یہ زمین ، آسمان، چاند ، ستارے، ہوائیں، بادل ہر چیز اللہ کے حکم سے سات دن کے اندر تخلیق پا گئی۔ یہ کائنات اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب نبی کریم کے نام پر تخلیق کی۔ اللہ کے راز اللہ ہی جانتا ہے کہ اس نے اس وسیع و عریض کائنات کو تخلیق کیا تو اس کی حکمت کیا تھا لیکن کائنات کے ہر ذرے پر نبی کریم کا نام لکھا گیا۔ اپنے پیارے محبوب سے محبت کیلئے اتنا وسیع و عریض نظام تخلیق کیا گیا۔
اربوں، کھربوں سال گذر گئے، ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی اس دنیا میں تشریف لائے، دنیا بنانے کی حقیقت سے آشنا کرنا چاہا۔ کچھ نے یقین کیا ، کچھ نے نہیں۔ ہر کسی نے اپنے خیالی رب کو ہی اپنے عقیدے کے مطابق ہی عبادت کیلئے منتخب کیا۔ زندگی چلتی رہی، آخر آج سے چودہ سو سال پہلے وہ نبی دنیا میں تشریف لائے جو اللہ کے محبوب تھے اور جس کی خاطر یہ کائنات وجود میں آئی۔ آنحضور کا ظہور اس دنیا کیلئے باعث رحمت تھا۔ کائنات جھوم اٹھی وہ دین مکمل کیا گیا جس کی خاطر یہ کائنات بنی تھی۔ ایک بہترین انسان ، ایک مکمل استاد، ایک مکمل شوہر، ایک بہترین باپ، ایک بہترین جبریل اورانسانیت کے لحاظ سے ایک مکمل انسان جو زندگی کے ہر شعبے کو مکمل کرتا ہے، اس دنیا میں تشریف لایا۔
چالیس سال مکہ مکرمہ میں رہے اور 23سال کا عرصہ مدینہ منورہ میں گذرا۔ وقتاً فوقتاً دین کی تکمیل ہوتی گئی۔ معراج نبی، شب برات کی رات آپ کی زندگی کے اہم واقعات ہیں اور مسلمانوں کیلئے مشعل راہ ہیں۔ پھر مسلمانوں پر روزے فرض کیے گئے جیسا کہ پہلی امتوں پر بھی فرض کیے گئے۔ مسلمانوں پر رمضان کا مہینہ ایک مبارک مہینہ بنا کر فرض کیا گیا جب تیس روزے پورے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کیلئے انعام کے طور پر عید الفطر کا دن عطا کیا۔ دین اسلام میں مسلمانوں کیلئے جب عید آتی ہے تو اس کا کوئی خاص مقصد ہے۔ یہ تمام امت مسلمہ کیلئے ایک خوشی کا دن ہے اور اس دن کو منانے کا آغاز اللہ کی عبادت کے ساتھ شروع کیا جاتا ہے۔ یہ تہذیب کا شائستگی کا اور خوبصورتی اور نظم و نسق کا تہوار ہے۔ اس میں کوئی جلوس نہیں شوروغل نہیں بلکہ صرف سجدہ شکر ادا کیا جاتا ہے۔
یہ ایک اجتماعی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس میں ہر کوئی غریب ہو یا امیر، ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر عید کی نماز ادا کرتے ہیں۔ علامہ اقبال نے اسی کیلئے کہا:
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
سارے مسلمان نماز عید ادا کرتے ہیں اور پھر سب ایک دوسرے کو گلے ملتے ہیں۔ اس سے مسلمانوں میں یکجہتی پیدا ہوتی ہے۔ اللہ کی توحید کے نام پر نبی کریم کی غلامی کے نام پر تمام مسلمان ایک ہوتے ہیں۔
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
جو نماز پڑھ رہے ہیں اور اگلے مل رہے ہیں یہ سب رسول ہاشمی کے پیروکار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنی خوشیاں دوسروں کے ساتھ جوڑنے کیلئے ایسے مواقع بنائے۔ عید الاضحی آتی ہے تو جانور کی قربانی رکھی گئی جو ہم دوسروں غریب لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
شعبان کا مہینہ آتا ہے تو زکوٰة فرض کی گئی جو غریبوں میں تقسیم کی جاتی ہے۔ رمضان آتا ہے تو بھی ہمیں دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کا حکم ہے۔ عید آتی ہے تو فطرانہ سنت کر دیا گیا جو ہم غریبوں میں دیتے ہیں تاکہ ہم غریبوں اور نادار اور یتیموں کیلئے عید کی خوشیوں کا خیال رکھیں۔ عید کے دن صرف خوشیاں ہی نہیں منائی جاتیں بلکہ ہمیں دوسروں کی خوشیوں کا خیال رکھنے کا بھی حکم ہے۔
اسلام میں یہ سارے تہوار مسلمانوں کو ایک دوسرے کا خیال رکھنے کیلئے بنائے گئے۔ نبی کریم کی ذات پر دین مکمل ہوا اور سنت نبوی بھی مکمل ہوئی۔ آج دنیا میں ان تمام سوالات کے جواب ہیں جو انسان اس کائنات کے متعلق کر سکتا ہے۔ عید کا دن خوشیوں کا دن ہے اس دن ہمیں دوسروں کی خوشیوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ یہ دن اللہ کی طرف سے انعام ہے مسلمانوں کیلئے۔ آیئے ہم مل کر عہد کریں کہ ہم اس دن پر تمام ایسے لوگوں کا خیال رکھیں گے جو اس دن کی خوشیاں منانے سے قاصر ہیں تاکہ اس سے ہمارا اللہ اور اس کا رسول بھی خوش اور راضی ہوں ہم سے اور ہمارے اعمل سے ۔ آمین