بلاگصفحہ اول

اسکو کیا نام دوں

صبح اٹھا غسل خانے میں نہانے کے لیےگھس گیا آفس جانے کی تیاری کرنے لگا جب نہا کر آیا تو دس منٹ بچے ہوئے تھے ایک تو لوڈشیڈنگ نے تنگ کر رکھا ہے اوپر سے صبح کے وقت لوڈ شیڈنگ کرنا  کے الیکٹرک والوں کے لئے عبادت سے کم نہیں  جس کی وجہ سے بیگم صاحبہ کی گالیاں مجھے بھی سننی پڑتی ہیں آج ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا

صبح کے وقت نہ تو لوڈشیڈنگ ہوئی اور نہ ہی بیگم نے گالیاں دیں میں حیران اور پریشان ہو گیا یہ سب دیکھ کر خیر اچھا ہوا جو بھی ہے اپنے دل میں سوچنے لگا ساتھ میں بالوں میں کنگھی کر رہا تھا تو اچانک بیگم صاحبہ کی آواز کانوں میں پڑی جلدی آؤ ناشتہ تیار ہے ٹیبل پر رکھا ہوا ہے میں نے فورا کنگی رکھ دی اور ٹیبل کی طرف روانہ ہو گیا ناشتہ دے کر مزید حیران ہو گیا کیونکہ آج میری پسند کے پراٹھے چائے جوس انڈہ اور چھولا دیکھ کر خوشی ہوئی جیسے میرے نصیب جاگ گئے اور بیگم کی طرف بھی دیکھنے لگا تو بیگم آج خوش مزاج نظر آ رہی تھی ناشتہ کیا بیگم کا شکریہ ادا کیا اور اپنی بائیک کو گھر سے باہر نکالنے لگا تو بیگم کی آواز پھر ایک بار کانوں میں پڑی رکیے میں رک گیا اور مڑ کر بیگم کی طرف دیکھا جو ہاتھ میں لنچ باکس اٹھائے میری طرف آ رہی تھی مجھے لنچ باکس تھمایا اور ساتھ کہنے لگی آج جلدی آنا میں نے حیرانی سے پوچھا کیوں شاپنگ پر چلنا ہے بیگم نے آواز دیا نہیں نہیں ویسے بول رہی ہوں میں نے بولا اچھا ٹھیک ہے میں جلدی آ جاؤں گا

بائیک جیسے روڈ پر لایا تو یہ سب دیکھ کر اور حیران اور پریشان ہو گیا کیا آج روڈ کے اوپر نہ تو کوئی رش ہے اور میں کوئی لڑائی جھگڑا سب گاڑیاں اپنی اپنی لائن میں نظم و ضبط کے ساتھ اپنی اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں جیسے میں کراچی کی شاہراہ فیصل پر نہیں بلکہ پیرس کی روڈ پر آیا ہوں ایسا محسوس ہو رہا تھا اب میرے دماغ میں سفید انڈے گھوم رہے تھے جو کسی بھی وقت میرے سامنے آ کر بلاوجہ کے چالان کاٹنے بحث بازی کرنے ٹائم ضائع کرنے اور محنت کی کمائی سے رقم بٹورنے کھڑے ہوتے ہیں میں تھوڑا سا آگے آیا تو میری نظر سفید انڈوں پر پڑی ایک ٹریفک پولیس والا جلدی سے آگے بڑھا اور مجھے رکنے کا اشارہ کردیا میں نے اپنی بائیک روکی اور ان کی طرف دیکھنے لگا ایک ٹریفک پولیس والا میری طرف آیا سب سے پہلے اس نے مجھے سلام کیا اس کے بعد اس نے میری بائیک کے اوپر میرے آگے رکھا ہوا ہیلمٹ اٹھایا اور میرے سر پر رکھ دیا اور مجھے بولنے لگا دیکھئے جناب ہیلمٹ آپ کی بائیک کی سیفٹی کے لیے نہیں بلکہ آپ کی سیفٹی کیلئے ہے تو اس لیے اس کو بائیک کے اوپر نہیں بلکہ اپنے سر پر رکھیے میں نے اس پولیس والے کی طرف حیرت سے دیکھا  تو پولیس والا پھر بولنے لگا ہے لگتا ہے آپ جلدی میں ہیں تو اسی لیے اپنا وقت ضائع کئے بغیر آپ روانہ ہو جائیں میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور آگے کی طرف بڑھ گیا مجھے حیرت بہت ہوئی تھی خیر جو بھی ہے اچھا ہوا کیوں کہ غلطی میری بھی تھی اب مجھے صرف ایک پریشانی اور فکر تھی اپنی پارکنگ والے گنجے کی کیونکہ وہ بدتمیز انسان ہے اور جان بوجھ کر میری گاڑی آگے پھنسا دیتا ہے تو اس لیے میری اس کے ساتھ ہر روز لڑائی ہوتی ہے جیسے یہ میں اپنے آفس پہنچا تو میری نظر سب سے پہلے اس گنجے اور پڑی جو میری طرف دیکھ رہا تھا اور مسکرا رہا تھا وہ اپنی سیٹ سے اٹھا اور میری طرف چل دیا آتے یہ سب سے پہلے اس نے مجھے سلام کیا پھر اس نے مجھے بولنے لگا آپ اپنی گاڑی یہاں چھوڑ دیجیے میں آپ کی گاڑی کو پارک کر دیتا ہوں آپ جائیے مجھے بہت حیرت ہو رہی تھی یہ گنجا جس سے میری روزانہ لڑائی ہوتی ہے آج وہ میری گاڑی پارک کرنے کا کہہ رہا ہے میں نے اپنی گاڑی چھوڑی اور آفس چلا گیا جاتے ہی  اپنا کام شروع کر دیا

کام کرتے کرتے میری آنکھ لگنے لگی اور مجھے تھکن سی ہو رہی تھی تو میں نے کرسی کے اوپر ہی اپنی کمر کو سیدھا کیا اور تھوڑی دیر کے لئے لیٹ گیا میری آنکھ لگ گئی تھوڑی ہی دیر میں میرے کانوں میں بیگم کی آواز سنائی دینے لگی تو میں نے سوچا کہ یہ میرا وھم ہے کیونکہ میں تو اس میں ہوں گھر میں تھوڑی ہوں تھوڑی ہی دیر میں آواز پیدا ہونے لگی اور ایسے محسوس ہونے لگا کہ بیگم صاحبہ گالیاں دے رہی ہیں کے الیکٹرک والوں کو اور ساتھ میں مجھے بھی کہ میں لیٹ ہو رہا ہوں آفس جانے کے لیے میری آنکھ کھل گئی دیکھا تو سامنے بیگم کھڑی ہے میں نے بیگم کی طرف دیکھا جو بہت غصے میں نظر آ رہی تھی اور ساتھ میں کے الیکٹرک والوں کو گالیاں دے رہی تھی میں نے اپنا سر پکڑ ا پریشانی کے عالم میں بیگم کی طرف دیکھتا رہا کیونکہ یہ سب میں خواب میں دیکھ رہا تھا پھر اٹھا اور آفس جانے کی تیاری کرنے لگا یہ جو سب میرے ساتھ ہوا اب اس کو کیا نام دوں ۔۔۔۔۔۔

 رائٹر  . . . . . . . . . . . نوید احمد

Back to top button

New Report

Close