
اماں یہ عید میلادالنبی کیا ہوتا ہے؟ احمد نے اپنی معصوم سی شکل کے ساتھ معصوم سا سوال کیا۔ بیٹا احمد عید میلاد النبی مسلمانوں کے لیے دوسری عید کے دن کی طرح ہے۔ اس دن ہمارے پیارے نبی پیدا ہوئے تھے اس لیے مسلمان اس دن کو بڑے جوش و جذبے سے مناتے ہیں۔“
آمنہ نے پیار سے بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے بتایا۔
”امی جان اس عید پر مسلمان کیا کرتے ہیں؟“ احمد نے ایک اور معصوم سوال آمنہ سے کر ڈالا۔ ”پیارے بیٹے اس تمام مسلمان اپنے گھر اور محلے اور مسجد خوبصورت طریقے سے سجاتے ہیں۔ اچھے کپڑے پہنتے ہیں۔ نبی کریم کے لیے محفل میلاد منعقد کراتے ہیں اور مسلمان بھائیوں میں کھانے پینے کی چیزیں تقسیم کرتے ہیں۔“ آمنہ نے احمد کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ اچھا! امی جان تو پھر اس عید میلاد النبی پر مجھے تو بہت مزہ آئے گا۔“ احمد خوشی سے تالی بجانے لگا۔
ندیم ہاتھ میں ایک بڑا سا ڈبہ اٹھائے گھر میں داخل ہوا۔ بیٹا نبیل یہ کیا لے کر آئے ہو؟ اتنا زیادہ سامان۔“ آمنہ نے نبیل سے سوال کیا۔
”امی جان! یہ عید میلاد النبی کے لیے سامان لے کر آئے ہیں۔ اس بار تو بہت زیادہ سجاوٹ کرنی ہے۔ گھر سجانا ہے۔ گلی بھی سجانی ہے۔ بھی بنانی ہیں۔ آپ دعا کریں کہ اس دفعہ ہمارے گروپ کو اول انعام ملے۔ مقابلہ بہت سخت ہے۔“ نبیل آمنہ کو سامان دکھانے لگا۔ ان شاء اللہ! ان شاء اللہ! آمنہ اس کے لیے دعاگو ہوئیں۔
”نبیل بھائی انعام کیسے ملتے ہیں؟“ احمد نے نبیل سے سوال کیا۔ پیارے بھائی! جب سب گلیاں اور بازار سج جاتے ہیں تو سب سے پیارا بازار یا گلی سجانے والے کو انعام دیا جاتا ہے اور اس دفعہ تو ہم نے بہت محنت اور کوشش کرنی ہے کہ انعام ہمارے گروپ کو ہی ملے۔“ نبیل نے احمد کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
احمد تالیاں بجاتے ہوئے اچھلنے لگا۔ ”پھر تو مجھے بہت مزہ آئے گا۔“ ہاں ہاں کیوں نہیں۔
چھ سالہ احمد کے لیے زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ وہ یہ سارا ایونٹ دیکھ رہا تھا اور اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہتا تھا۔
نبیل اور اس کے 06 دوستوں نے مل کر گلی کو سجانا شروع کیا۔ گولڈن اور سلور پٹی سے چھت سجائی گئی۔ بڑے بڑے خوبصورت فانوس لگائے گئے۔ جو گلی کے درمیان میں لٹک رہے تھے۔ چمکتی چھت نے گلی کو چار چاند لگا دیے۔ خوبصورت لائٹنگ گھر کے اوپر سے پیچھے تک لگائی۔ تقریباً تمام گلی کے گھر اسی طرح کی لائٹنگ سے جگ مگ جگ مگ کر رہے تھے۔
نبیل نے گھر کے باہر ایک جگہ مکمل صاف کرا کے وہاں ایک خوبصورت حسن سنہری بنائی۔ فوارے، کھلونے اور بہت کچھ۔ تقریباً صبح سے شام ہو گئی۔ تمام کام ختم ہونے میں۔ شام کو جب لائٹنگ آن کی گئی تو گلی میں ہر طرف نور جیسے بکھڑا ہوا تھا۔
احمد یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہو رہا تھا سفید شلوار قمیض میں دونوں بھائی ملبوس ہو کر عشاء کی نماز کے لیے نکل گئے۔ مسجدوں میں بھی رونق کم نہ تھی۔ تمام مسجدیں نور بنی ہوئی تھی۔
نماز کے بعد نبیل‘ احمد کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر سیر کرانے نکل گیا۔ ارد گرد کا تمام علاقہ دکھایا۔ احمد مسکرا مسکرا کر خوشی کا اظہار کر رہا تھا۔ بازار اور گلیاں بہت پر رونق تھے۔ بڑے چوک میں ایک جگہ میلاد منعقد کرایا جا رہا تھا۔ نبیل احمد کا لے کر محفل میلاد منانے لے گیا۔ بڑے بڑے نعت خواں تھے۔ اسٹیج سجا ہوا تھا۔ پھولوں کے بے شمار گلدستے سجے ہوئے تھے۔ خوشبوئیں خوشبوئیں پھیلی ہوئیں تھی۔
نعت خواں باری باری آتے اور پیاری پیاری نعتیں نبی کریم کی تعریف میں پڑھتے رہے۔ بہت خوبصورت سماں تھا۔ جب محفل میلاد ختم ہوئی تو بریانی تقسیم کی گئی۔ دونوں بھائیوں نے بریانی کھائی۔ تقریباً رات کے 12 بجے دونوں گھر آئے۔
احمد کے لیے یہ سب نیا نیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں نیند بالکل نہیں تھی۔ ”نبیل کہاں سے آ رہے ہو۔“ گھر آتے ہی ابا جان نے سوال کیا۔
”ابا جان محفل میلاد سے۔“ اوہ اچھا! ابا جان مسکرائے۔ ”تو پھر میرے بیٹے نے آج محفل میلاد کی پُر وقار تقریب دیکھی۔ بہت اچھا لگا ہو گا۔“ ”جی! ابا جان واقعی میں نے پہلی دفعہ محفل اٹینڈ کی اور بہت ہی لطف آیا۔“ احمد نے مسکراتے ہوئے ابا جان کو جواب دیا۔ ”ابا جان! آج میں بہت خوش ہوں۔ نبیل بھائی نے مجھے عید میلاد النبی کی اہمیت بہت اچھی طرح سمجھائی اور دیکھائی بھی۔“
”ہاں یہ تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔“ ابا جان نے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ ”اب رات کافی ہو گئی ہے، جا کر سو جاؤ۔“ اباجان نے احمد کو کہا۔
12 ربیع الاول والے دن احمد‘ نبیل بھائی کے ساتھ سارا دن پر رونق گلیوں اور بازاروں کی سیر کرتا رہا۔ بالآخر شام کو علاقے کے بڑے ناظم صاحب نے انعامات کے لیے بڑے گول چوک میں ایک چھوٹی سی تقریب رکھی تھی۔ جہاں اول، دوم اور سوم آنے والے محلہ یا علاقے کو انعام دیا جانا تھا۔
عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر نبیل اور اس کے تمام دوست تقریب میں شریک ہوئے اور جب ناظم صاحب نے اعلان کیا تو نبیل لوگوں کو دوسرا انعام ملا، کیونکہ علاقے میں سب سے زیادہ خوبصورت محلہ نبیل اور احمد کا تھا۔
احمد اور ابا جان نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ نبیل اور اس کے دوستوں نے ٹرافی وصول کی۔ بہت سی تصاویر اور ویڈیوز بنائی گئی۔ سب بہت خوش ہوئے اور احمد کے لیے یہ دن زندگی کا ایک یادگار دن بن گیا۔