صفحہ اولفیچر

حق آج بھی زندہ و پائندہ ہے

شہلا صدیقی

حق کی سر بلندی کے لئے کسی وسائل کا ہونا ہرگز ضروری نہیں۔باطل اپنی پوری طاقت بھی لگا بیٹھے تو وہ چند مخلص گروہ کے ہاتھوں خار کھاجاتا ہے۔ اسی تناظر کو لے کر اگر میں 14 صدی پیچھے جاؤ توتلواروں کی جھنکار، اونٹوں اور گھوڑوں کی تعداد تو نہ ہونے کے برابر نظر آتی ہے ہاں مگر ان 313 سپاہیوں میں جذبہ ایمانی کا خالص عنصر حق کے غلبے کے لئے کافی تھا۔ وہ سر نگوں رب کے حضور جھکتے تو حقیقتا دنیا کی تمام تر لغویات و آسائش اور مصروف کار سے کنارہ کش ہو کر جھکتے۔ یہی وہ گوہر نایاب تھے کہ جب اللہ ان پر مہربان ہوا تو ان کے دلوں پہ نہ صرف سکینت نازل کی بلکہ فوج در گوج ہزار فرشتے بھی تاریخ نے اترتے دیکھے۔

سر تسلیم خم کیے مانتی ہوں کہ یہ امام المجاہدین کا گروہ تھا بھلا ان سے کیسا تقابلی جائزہ مگر جب رب کائنات کی طرف سے حاصل ہونے والی بیش بہا کامرانی سے مزین بتدریج تاریخی صفحات الٹتی ہوں تو ایک مسرت و سکون کی کیفیت پاتی ہوں۔

اللہ نے اپنے حق کو مٹنے ہی کب دیا۔ ذرا سے مخلص گروہ ملے اور اور اللہ نے جھٹ ان سے کئے وعدے کو پورا کر دکھایا۔ جہاں بندے نے عاجز ہوکہ توبہ کی وہاں امید کا روشن دیا ان کے دلوں میں جگمگا دیا۔

اسی کی ایک جھلک تو تاریخ نے پاکستان کی سرزمین کی دکھائی تھی۔مدینہ جیسی ہجرت اور وہی ایک نظریہ اور پھر 65 کی جنگ۔ دشمنوں کی فوج ظفر موج سرزمین پاک پہ داخل ہوتی ہے وہیں اللہ انکے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ باطل نے منہ کی کھائی،کیسی زبردست فتح تھی۔ کیا تھا حق کے پاس؟ وسائل؟ نہیں صرف کلمہ حق کی صدا۔تکبیر کی گونج۔ نوبہ و استغفار کا راستہ اور پھر کامرانی و خوشی۔

پھر اسی تاریخ کو آگے بڑھاؤ تو 71 کا سرد موسم دل دہلا دینے والا۔ اپنوں کی بے بسی و بے کسی،مطلبی،خودسری،جہالت اور نہ جانے کیا کیا تاریخ نے رقم کر ڈالا۔ہم نے عہد کو توڑ ڈالا وہ عہد ’ہم اللہ کی زمین کو حاصل کیا اللہ کے نظام کے لئے‘ دشمنوں نے وار کیا اور ہم نے روکا ہی نہیں۔حق تو اس وقت بھی باطل کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار تھالیکن ہم تیار نہ تھے۔ بنیادی فارمولا جب شاگرد بھول جائے تو جواب کا مثبت آنا بھلاکیسے ممکن ہے؟

لیکن آج بھی دنیا کی نظر اس بکھرے نقشہ وجود پہ پے،یہ کیسا ڈر ہے ناں اس بستی کے رہنے والوں سے کہ مٹا دینے کا عزم کرتا بھی تو یہ کہہ کر یہ ہے دہشت گردوں کی جنت۔۔۔ ارے ہاں کیا خوب بات ہے۔۔ یہ ہمیں بنیاد پرست بھی کہتے ہیں۔۔۔کچھ تو ہے ناں ہم میں۔۔۔۔ حق کو تلاش کر کہ بس اسکا ساتھ دینا ہے۔۔ پھر کامرانی و شادمانی اللہ کا وعدہ ہے۔۔۔ پھر وسائل نہ بھی ہوں تو حق کے ساتھ ہونا ہی کافی ہے۔۔۔۔کیوں کہ تاریخ گواہ ہے جس جس نے حق کو حق مان کر اسکا ساتھ دیا۔

٭……٭……٭

نوٹ: رائٹرز کلب اور اس کی پالیسی کا اس تحریر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ writerscpk@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔

جواب دیں

Back to top button

New Report

Close