
بیٹی‘ بہن ہے کسی کی تو ماں ہے
اسی سے آباد سارہ جہاں ہے
یہ عورت نہ ہوتی تو کچھ بھی نہ ہوتا
محبت نہ ہوتی تو کچھ بھی نہ ہوتا
بیٹی بہن ہے کسی کی یہ ماں ہے
اِسی سے تو آباد سارا جہاں ہے
چمن میں حسین پھول پیارے نہ ہوتے
محبت کے جگ مگ ستارے نہ ہوتے
یوں گھر بار آباد ہمارے نہ ہوتے
چاہت نہ ہوتی تو کچھ نہ ہوتا
خدا نے بخشی اسے ایسی عزت
ہے قدموں میں اولاد اس کے جنت
سراپا وفا ہے سراپا ہے الفت
الفت نہ ہوتی تو کچھ بھی نہ ہوتا
حجاب اس کا شرم و حیا کا ہے مظہر
نگاہ اس کی پاکیزہ کردار اطہر
شرافت کا پیکر حیا اس کا زیور
شرافت نہ ہوتی تو کچھ بھی نہ ہوتا
تھی دور جہالت میں مظلوم عورت
وجود اس کا تھا گویا باعث زلت
کرم ہوگیا آگئے جان رحمت
رحمت نہ ہوتی تو کچھ بھی نہ ہوتا
بہن بیٹیوں کو ہے یہ کام کرنا ہے
حیا ہے کہ کلچر اسے عام کرنا ہے
بلند پرچم دین اسلام کرنا
ہدایت نہ ہوتی تو کچھ بھی نہ ہوتا