
سرینگر کے بابائے حریت، قائد تحریک آزادی جموں و کشمیر سید علی شاہ گیلانی 12 سالہ نظربندی کے دوران 93 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ جس پر پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین کا اظہار افسوس کیا۔
حریت لیڈر سید علی گیلانی کون
سید علی گیلانی مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنماؤں میں سب سے سینئر اور بھارت سے آزادی کی جدوجہد میں سب سے آگے رہے۔ 29 ستمبر 1929ء کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع بندی پورہ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم سوپور سے حاصل کی اور گریجویشن اورینٹل کالج لاہور سے مکمل کیا۔
سید علی گیلانی نے سیاسی زندگی کے آغاز میں تحریک حریت کے نام سے اپنی پارٹی بنائی تاہم بعد ازاں جماعت اسلامی جموں کشمیر کا حصہ بن گئے۔
متعدد بار ریاستی اسمبلی کے رکن بھی رہے لیکن 1989ء میں جب مزاحمتی تحریک کا آغاز ہوا تو انہوں نے اپنی نشست سے استعفیٰ دیدیا۔
1993ء میں میر واعظ عمر فاروق اور دیگر حریت رہنماؤں کے ساتھ مل کر آل پارٹیز حریت کانفرنس کی بنیاد رکھی اور چار سال بعد تنظیم کے چیئرمین منتخب ہو گئے۔
21اکتوبر 2010ء کو سید علی گیلانی نے نئی دلی میں ‘’آزادی واحد راستہ ‘’ کے عنوان سے سیمینار منعقد کروایا تو ان پر غداری کے مقدمے قائم کیے گئے۔
2006ء میں حریت رہنما کے گردوں میں کینسر کی تشخیص ہوئی لیکن پاسپورٹ 1981ء سے بھارتی قبضے میں ہونے کے باعث وہ اپنا علاج کروانے کے لیے باہر نہ جا سکے۔ 2007ء میں شدید عوامی ردعمل پر منموہن سنگھ نے ان کا پاسپورٹ واپس تو کر دیا لیکن بھارتی مداخلت کے باعث امریکا نے علاج کے لیے ان کو ویزہ جاری نہیں کیا، مجبوراً علاج کروانے دبئی چلے گئے۔
سید علی گیلانی آزادی کی جدوجہد کیساتھ ساتھ 14 سال سے کینسر کے خلاف بھی نبرد آزما رہے، 93 برس کی عمر بھی میں ان کا جذبہ جواں تھا۔