
انسان کی تخلیق میں سب پہلے جو چیز رکھی گئی، وہ تھی ایک دوسرے کو سمجھنا۔ ایک انسان کی زبان کو دوسرے کے موافق بنایا گیا تاکہ وہ ایک دوسرے کے مسائل سنیں، سمجھیں اور حل کریں۔ اس کا مقصد تمام معلومات کی فراہمی اس سے متعلقہ فرد کو اسی کی زبان میں فراہم کرنا تھا۔
دنیا میں زبانیں مختلف ہیں مگر انہیں سمجھنے والے اپنے اپنے انداز میں سمجھتے ہیں۔ ایک ادیب کی اپنی زبان ہوتی ہے۔ اس زبان کو سمجھنے والے بھی ویسے ہی ہوتے ہیں۔ یعنی اس کے حلقے کے لوگ اسے بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ ادیب یا لکھاری ہی ہوتا ہے، جو احساسات کو لفظوں کا جامہ پہنا کر بیان کر جاتا ہے۔ جس طرح ایک بولنے والے کا ہنر حلق سے جڑی زبان میں رکھ دیا گیا ہے، جیسے ہی زبان حرکت کرتی ہے، چاہے وہ شیریں ہو یا تلخ۔ بعض اوقات یہ زبان مزاح کے امتزاج سے بھی بھرپور ہوا کرتی ہے۔ اسی طرح قلم کی نوک سے لکھے جانے والے الفاظ بھی ادیب کے اندر کا پتا دیتے ہیں۔ وہ جو لکھتا ہے، اس کا اندر ہوتا ہے۔ وہ کیا ہے؟ یہ لکھنے کے بعد پتا چلتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات وہ بالکل الٹ بھی ہوتا ہے۔
معیاری الفاظ کے چناؤ کو ملحوظ خاطر رکھنے والا قاری، ایک ادیب کے منتخب کیے گئے الفاظ کی ترکیب وترتیب کو دیکھ کے ردّ عمل کا اظہار کیا کرتا ہے۔ من کی دنیا بھی عجب دنیا ہے کیوں کہ الفاظ کا اطلاق بھی پڑھنے والے کے دل پر ہوتا ہے۔ اب یہ کہنے والے کے لب ولہجے کی ادائیگی پر منحصر ہے کہ اپنے الفاط کو سامعین کی معیاری سماعتوں تک پہنچانے کے لیے کس قسم کے انداز ِبیاں یا انداز ِتکلم کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ کیوں کہ ہمارے اردگرد معاشرے میں بولے جانے والے ایسے الفاظ بھی ہیں، جو اپنی حیثیت کھو بیٹھتے ہیں۔ اب یہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس قسم کے الفاظ ہیں، جو غیرمعیاری طور پر ہماری مارکیٹ یا گلیوں، بازاروں میں ذلیل ورسوا ہونے کے ساتھ پست درجہ رکھتے ہیں۔ خیالات کا تسلسل اور روانی ہی تو ہے جو لفظوں کو تعمیری شکل عطا کرتی ہے۔ کسی شاعر کی نظم ہو یا غزل، کسی نثرنگار کا لکھا ہوا مضمون ہی کیوں نہ ہو، اسے ضبط ِتحریر میں لانے سے پہلے خیالات کی بھٹی میں بھسم ہوکر نکلنا پڑتا ہے پھر جا کے کوئی بات بنا کرتی ہے۔ غالب کی زبان میں؛ ؎
عالم تمام حلقہئ دام ِ خیال ہے