صفحہ اولکہانیاں

تم جیو ہزاروں سال

ہادیہ امین

“ما شاء اللہ میری گڑیا، تم جیو ہزاروں سال”
مسکان نے اپنی بیٹی زوہا کی ڈرائینگ دیکھ کر اسکو دعا دی۔
“مگر ممّا،ہزاروں سال تو کوئی زندہ ہی نہیں رہ سکتا،میری مس نے بتایا تھا ہماری bodies  اس طرح کی ہیں ہی نہیں جو اتنا زیادہ عرصہ زندہ رہ سکیں،تو یہ کیسی دعا دی ہے آپ نے مجھے؟”
آج کل کے بچّے پہلے کے بچّوں یا ہمارے بچپن کی طرح سادہ نہیں ہیں،انہیں ہر کیا،کیوں اور کیسے کا جواب چاہیے ہوتا ہے اور وہ بھی وہ جس سے تسلّی ہو سکے،اسی لیے آج کل کی مائوں کو دین اور دنیا کا علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے،خیر مسکان بھی آج کے دور کی ماں تھی،اور وہ ہار ماننے والی بھی نہ تھی،
“ہاں یہ تو صحیح ہے،مگر جو انسان ایک دفعہ  پیدا ہو گیا،اسکے مرنے کا مطلب یہ ہے کہ پھر وہ دوسری دنیا میں شفٹ ہوجاتا ہے،اس کی دوسری زندگی شروع ہو جاتی ہے،جو کبھی ختم نہیں ہوگی”
“مطلب انتقال کے بعد؟”
بھولی سی زوہا نے بھولپن سے سوال کیا۔
“ہاں بیٹا،پھر جہاں ہم جائینگے،وہاں ہم ہمیشہ،ہزاروں سال سے بھی زیادہ زندہ رہینگے،اب یہ ہمیں سیکھنا ہے کہ ہم جنّت میں جائینگے یا دوزخ میں،یہ زندگی تو تھوڑے ٹائم کے لیے ملی ہے نا،اسی سے جنت دوزخ بنانی ہے”
زوہا ماں کا جواب سن کر کسی اور کو ڈرائینگ دکھانے چلی گئی،اسکے جانے کے بعد مسکان سوچنے لگی،کہ میں نے اسکو جواب تو دے دیا،اس کی تسلّی بھی ہوگئی،مگر جو میں نے کہا ہے،صرف علمی بات ہے کیا؟کیا واقعی میرے گزرنے والے دن،میرے کام،میری نیتیں،اسی سوچ کے مطابق ہیں،جو میں نے ابھی اپنی بیٹی کے سامنے رکھی ہے؟جب میرا عمل میرے کہے کے مطابق نہ ہوگا،تو میری بات میں اثر کہاں سے ہوگا؟
کیا واقعی ہم اپنے بچّوں کو جو نصیحتیں کرتے ہیں ان پر خود بھی عمل کرتے ہیں؟بات کڑوی لگی مسکان کو،مگر اپنی ہی زبان سے نکلی ہوئی بات غورو فکر کے کئی راستے کھول گئی۔
Back to top button

New Report

Close