شرم و حیاءمقابلہ جات

شرم و حیا اور جدت پسندی (عائشہ صدیقہ)

دور حاضر میں گلوبلائزیشن کا بہت چرچا ہے۔ جو سانپ بن کر ہم میں بڑی خاموشی اور تیزی سے سرایت کر گیا ہے۔ دنیا کے ساتھ چلنا اور دنیا کے ٹرینڈز کی اندھی تقلید کرنا یا مختلف مذاہب کے لوگوں کا مل کر تہوار ملانا۔ عربوں کے ہولی کھیلنے سے لے کر مسلمانوں کا اپنے عیسائی ”برادران” کو ” میری کرسمس“ کہنا یا برتھ ڈے، فرینڈ شپ ڈے حتی کہ ”ویلینٹائن ڈے“ منانا جدیدیت ہے؟ مجھے کہنے دیجئے کہ اکبر کے دور میں ایجاد کیا جانے والا ”دینِ اکبری“ کا فتنہ جس نے رام اور رحیم کے فرق کو ختم کر کے مومن اور کافر کے عقائد کو ایک دکھانے کی کوشش کی۔ آج کے دور کی گلوبلائزیشن بھی اسی فتنے ہی کی ایک شکل ہے جو ملحدین، مشرکین و کفار اور مسلمانوں کو ایک صف میں کھڑا کرنے پر مصر ہے۔
دنیا بھر میں محض ایک لباس کے خلاف تحریکیں سر گرم ہیں۔ مسلم عورتوں کو ذلیل کیا جا رہا ہے۔ جرمانے عائد ہو رہے ہیں۔ ملکوں کی پالیسیوں میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ میڈیا کو اس کے مطابق احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔ وہ لباس حجاب ہے جسے طاغوت کی طاقتیں پورے زور و شور سے ہمارے جسموں سے نوچ کر پھینکنے کے لیے اپنے تمام تر فحش اسلحے کے ساتھ بر سرِ پیکار ہیں۔
آپ کو پتا بھی نہیں چلا کب آپ کے بچے قبل از وقت بالغ ہونے لگے۔ نوجوان نیٹ فلکس کے عادی ہوگئے۔ انڈین موویز سے سفر کرتے پورنوگرافی کے نشے میں غرق ہوئے۔ چائلڈ ابیوز اور ریپ کے کیس بڑھنے لگے۔ ”کسی قوم کے نوجوانوں کو تباہ کرنا ہو تو ان میں بے حیائی عام کر دو۔“ (صلاح الدین ایوبی)
ہم دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے خود بھی ماڈرن ہو گئے اور اپنے بچوں کو انٹرنیٹ تک لا محدود رسائی دے کر اس اسلحے کی زد میں لا کھڑا کیا جس جنگ کا نا انہیں کوئی شعور ہے نا دفاع کے لیے مستحکم ایمان کی ڈھال!خاتم النبیین رسول کریم ﷺ نے فرمایا : ”جو حیا نا کرے، جو چاہے کرے“ (مشکوٰةالمصابیح)
آج ہم اس حدیث کی عملی تصویر ہیں۔ حیا کا دامن چھوڑ کر دل ایمان سے خالی ہو گئے ہیں۔ عقلیں سلب ہو چکی ہیں۔ شعور مفقود ہے۔ نفس بے لگام اور نظریں ا?وارہ! نا باپ کو اپنی نسل کی آخرت کی فکر ہے نا بیٹے کو باپ کا لحاظ نا ماں کو اولاد کی تربیت کی پریشانی ہے نا بچوں کو ماں کی خبر ! سب اپنے آپ میں مگن، ایک دوسرے سے بیزار، کانٹے بو کر پھولوں کی تمنا کیے ہوئے ہیں۔
پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ ”ہر دین کی ایک خصلت ہوتی ہے اور حیا اسلام کی خصلت ہے۔“
حیا انسان کی فطرت ہے۔ کردار اور اعمال کا حسن ہے۔ انسان چاہے دنیا کے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں کچھ اصول ضرور ان کے ذہن کی کتاب پر ”اخلاقیات کا دائرے“ کے طور پر درج ہوتے ہیں۔ خواہ وہ عملاً اس کی نفی پر بضد ہوں۔ اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ دنیا کا کوئی مذہب زنا، چائلڈ ابیوز یا ریپ کو پسند یا جائز نہیں ٹھہراتا۔ اس کے بجائے شادی کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اوراس کی قانونی حیثیت ہے۔
فحاشی اور بے حیائی کی یہ کانٹے دار جھاڑیاں یکدم زمین سے نمودار نہیں ہوئیں بلکہ صدیوں کی مربوط منصوبہ بندی کے ذریعے جدیدیت کے نام پر ہمارے ذہنوں میں یہ زہر انڈیلا جا رہا ہے، غور کریں ہماری ذہن سازی کیسے کی گئی اور کیسے حیا کے تصور کو مسخ کیا جا رہا ہے ۔ ایک وقت تھا جب ہمارے ہاں نظریں جھکا کر چلنا شرافت کی علامت تھا۔ اب ہم نامحرمات سے آئی کنٹیکٹ کے بغیر بات کرنا اعتماد کی کمی سمجھنے لگے ہیں۔
پہلے والدین بچیوں کو پردے کے لیے سختی سے تنبیہ کرتے تھے اور اب با پردہ عورتیں ہمیں ایلین جیسی مخلوق لگتی ہیں۔ جن کے پاس فرسودہ نظریات ہیں۔ اعتماد نہیں، زمانے کے ساتھ چلنا نہیں آتا وغیرہ وغیرہ۔ جو مرد داڑھی رکھ لے، لباس مکمل پہنے، نظریں جھکا کر چلے، وہ ہمیں با حیا اور شریف دکھنے کے بجائے بیک ورڈ نظر آنے لگا ہے اور ہم بے شرمی سے اسے گالی کی طرح مولوی کے لقب سے نوازتے ہیں یوں اپنے ہی دین کا مزاق بناتے ہیں۔
اسی جدیدیت کی ایک شاخ مزہب کا ذاتی معاملہ ہونا ہے۔ جس کے تحت مسلمان عمل میں بالکل آزاد ہے اور سیاست سے دین کا کوئی لینا دینا نہیں۔ سو ہر شخص جو چاہے کرتا پھرے دین سے متعلق کوئی جواب دہی نہیں۔ عالمی طاغوتی طقتوں نے لفظ مسلمان کو ہماری ہی نظروں میں دہشت گرد کا مترادف بنا دیا ہے۔اسلام کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دنیا کے بدلتے تیوروں نے ہمیں حجاب ، داڑھی اور اسلامی طرزِ حیات سے اتنا خوف زدہ کر دیا ہے کہ ہم جدیدیت کی چادر میں پناہ لینے کے لیے خود پر لبرل کا ٹھپہ لگا کر شناختی کارڈ پر مسلمان لکھوا کر خود کو دھوکہ دے کر مطمئن ہیں کہ ہم صرف اللہ سے ہی ڈرتے ہیں اور جنت کے رستے پر ہیں۔ اس سے بڑا ظلم یہ کہ نتیجتاً ہماری اگلی نسلیں نادانی میں الحاد اور قادیانیت کے فتنوں کا شکار ہو رہی ہیں۔
خدارا! اپنی آنکھیں کھولیے۔ آپ آگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ خود کو اور اپنی نسلوں کو اس گڑھے میں گرنے سے بچائیے! بے راہ روی کے بر عکس حیا جس چیز میں ہو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے۔ اللہ کو حیا دار لوگ پسند ہیں۔ بالخصوص عورت کی حیا کا ذکر قرآن کی سورت القصص میں بہت خوبصورتی سے کیا گیا ہے۔
حیا خاندانی نظام کو مضبوط بناتی ہے اور انسانی وقار میں اضافے کا باعث ہے۔ ایک اچھے معاشرے کی تشکیل صرف اس وقت ممکن ہے جب لوگ حیا اور لحاظ قائم رکھیں۔ حیا میں ہر اس چیز سے پرہیز شامل ہے جو اللہ یا بندگان خدا کو نا پسند ہو یا گراں گزرے۔
آپ تنہائی میں بیٹھے ہیں اور گناہ کے سب سامان میسر ہیں لیکن آپ اللہ کی حیا کرتے ہیں۔ وہ مجھے ہر وقت اور ہر جگہ دیکھ رہا ہے۔یہ سوچ کر گناہ سے رک جاتے ہیں تو آپ حیادار ہیں۔ جس شخص کو تنہائی میں کوئی نا محرم گناہ کی دعوت دے اور وہ اللہ کے خوف سے اس سے دور ہو جائے۔ تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر عظیم ہے۔ سورة یوسف میں عزیز مصر کی بیوی اور یوسف علیہ السلام کا واقعہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
اصل جدت اسلام میں ہے جو ہر دور میں جدید رہے گا اور سلامتی اور خراج تحسین ہے ان لوگوں کے لیے جو اس پ±ر فتن دور میں اپنوں اور غیروں سے پتھر کھانے کے باوجود استقامت سے حق کے رستے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اللہ ہم سب کو راہ ہدایت پر چلنے اور توبة النصوح کی توفیق عطا فرمائے اور تمام فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین!

Back to top button

New Report

Close