شرم و حیا ء اور جدت پسندی (نوید احمد جتوئی)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ محسن انسانیت کنواری پردہ نشین عورت سے بھی کہیں زیادہ حیادار تھے اسی لیے ہر قبیح قول وفعل اور اخلاق سے گری ہوئی ہر طرح کی حرکات و سکنات سے آپ کا دامن عفت و عصمت تاحیات پاک رہا۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ محسن انسانیت نہ فحش کلام تھے،نہ بیہودہ گوئی کرتے تھے اور نہ ہی بازاروں میں شور کیاکرتے تھے،برائی کابدلہ کبھی برائی سے نہ دیتے تھے بلکہ معاف فرما دیتے تھے یہاں تک کہ زوجہ محترمہ ہوتے ہوئے بھی بی بی پاک نے کبھی آپ ﷺ کو برہنہ نہ دیکھا تھا۔ محسن انسانیت کے بچپن کے اوائل عمری میں جب آپ بہت چھوٹی عمر میں تھے اور اپنے چچاﺅں کی گود میں کھیلا کرتے تھے تو ایک بار پاجامہ مبارک تھوڑاسا نیچے کو سرک گیا تو مارے حیا کے بے ہوش گئے۔ تب پانی کے چھینٹوں سے ہوش دلایا گیا۔
بعدازبعثت حضرت جرہد ابن خویلدرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ محسن انسانیت نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ ران (بھی) ستر میں شامل ہے۔“
بلاشبہ حیاءوہ عمدہ اخلاق ہے جو انسان کو ہر برائی سے باز رکھتا ہے ارتکاب معاصی میں حائل ہو کر آدمی کو گناہ سے بچاتا ہے۔ اسلام کا عملًا دارو مدار حیاءپر ہے کیونکہ وہی ایک ایسا قانون شرعی ہے جو تمام افعال کو منظم اور مرتب کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاءکرام نے حیاءدار اخلاق پر زور دیا ہے۔ تمام عقل وفطرت مستقیمہ نے بھی اس کا اقرار کیا ہے اور یہ وہ امر ہے جس میں جن وانس کے تمام شیاطین مل کر بھی تبدیل نہیں کرسکے۔ جس میں حیاءہوتی ہے اس میں نیکی کے تمام اسباب موجود ہوتے ہیں اور جس شخص میں حیاءہی نہ رہے اس کے نیکی کرنے کے تمام اسباب معدوم ہو کر رہ جاتے ہیں کیونکہ حیاءانسان اور گناہ کے درمیان میں حائل ہونے والی چیز ہے۔ اگر حیاءقوی ہے تو گناہ کی قوت ماند پڑ جائے گی اور اگر حیاءکمزور پڑ جائے تو گناہ کی قوت غالب آجاتی ہے۔
حیا ءایمان سے جڑ کر حلال و حرام کی تمیز پیدا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن کاموں سے منع کیا ہے، آن کے کرنے سے روکتی اور جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا، ان کو بجا لانے کی تحریک دیتی ہے۔ جب یہ شعور کی روشنی بنتی ہے تو اس سے اللہ کی وحدانیت کا احساس مضبوط ہوتا ہے۔ ایمان باللہ کو تقویت ملتی ہے، تعلق باللہ میں مضبوطی آتی ہے اور باطن سے حب اللہ کی شعاعیں پھوٹتی ہیں، توکل علی اللہ کی خاصیت اجاگر ہوتی ہے۔
دکھ، خوشی اور غصے کے اظہار کے طریقے انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں میں بھی پائے جاتے ہیں جبکہ شرم و حیا ایسا وصف ہے جو صرف انسان میں پایا جاتا ہے اور یہ جانور اور انسان کے درمیان میں وجہِ امتیاز اور ان دونوں میں فرق کی بنیادی علامت ہے۔ اگر لب و لہجے، حرکات و سکنات اور عادات و اطوار سے شرم و حیا رخصت ہو جائے تو باقی تمام اچھائیوں پر خود بخود پانی پھر جاتا ہے اور دیگر تمام نیک اوصاف کی موجودگی کے باوجود اپنی وَقعت کھو دیتے ہیں۔ جب تک انسان شرم وحیا کے حصار (دائرے) میں رہتا ہے ذلت و رسوائی سے بچا رہتا ہے اور جب اِس قلعے کو ڈھا دیتا ہے تو پھر گھٹیا و بدترین کام بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کرتا چلا جاتا ہے۔
اب میں بات کرنے جا رہا ہوں جدت پسندی کی جس نے حیا ءاور شرم کا لحاظ ختم کردیا۔
آج کے دور میں شرم وحیاءکا نام محض صرف ایک نام تک محدود ہو گیا ہے مسلمانوں نے نے نقل میں اپنے لباس کو چھوڑ کر عریانی فیشن کی طرف دوڑ پڑے۔ لڑکے لڑکیوں کی طرح اور لڑکیاں لڑکوں کی طرح دکھنے کے لیے اپنے لباس کو اتار کر فحاشی کو اپنالیا اور اسکو نام فیشن کا دے دیا۔ آج ہمیں شرمندگی محسوس ہوتی ہے جب ہم اس فیشن کو دیکھتے ہیں جو ہمیں اسلام سے کہیں دور لے گیا ہے۔
یہاں میں آج انڈیا کے اس واقع کی یاد دلا رہا ہوںجو پردے کے نام پر مسلم طالبات کو کالج سے نکال دیا لیکن میں بڑے فخر سے ان طالبات کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے انڈیا ہائیکورٹ میں پردے کے لیے کیس کیا اور ہندو انتہا پسندوں کے سامنے ڈٹ کر اپنے پردےکا مقابلہ کیا جبکہ اس کے برعکس اگر ہم بات کرتے ہیں فیشن کی تو ہمیں ”میرا جسم میری مرضی“ جیسا فیشن دیکھنے کو ملتا ہے یہ وہ فیشن ہے جس کے نام پر صرف فحاشی نظر آتی ہے، فیشن کی آڑ میں ہم نےاپنی ثقافت کو بھلا دیا ہے اور ہم عریانی فحاشی کے پیچھے دوڑ رہے ہیں غیر مذاہب میں شرم وحیاءکی کوئی اہمیت نہیں اور اسلام میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔
گزشتہ اقوام کی تباہی کاایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ گناہ کے کام مل کر اجتماعی طورپرکیاکرتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہر عذاب اگرچہ بڑا عذاب ہے لیکن سب سے سخت ترین عذاب قوم لوط پر آیا جو اجتماعی عذاب بھی تھا اور انفرادی عذاب بھی۔ اس قوم کے جرائم میں ایک جرم یہ بھی تھا کہ وہ شرم و حیا سے عاری ہو چکی تھی اور بے حیائی کے کام بھری محفلوں میں سرعام کیا کرتے تھے۔قوم لوط کے لوگوں کی گفتگو ئیں،ان کی حرکات و سکنات ،اشارات و کنایات اور ان کے محلے اور بازارسب کے سب عریانی و فحاشی اور برائی و بے حیائی کا مرقع تھے ،تب وہ غضب خداوندی کے مستحق ٹھہرے۔ آج کی سیکولر تہذیب نے بھی انسانیت کوحیاکے لبادے سے نا آشنا کر دیا ہے اور انسان کوثقافت کی آڑ میں اپنے خالق و مالک سے دور کر کے تباہی و بربادی کے دہانے پر لاکھڑاکیاہے۔
پس جو بھی اس بے ہودگی و ہوس نفس کی ماری پر کشش اورفریب زدہ سیکولرتہذیب میں داخل ہو گاوہ ’ ’ ان الانسان لفی خسر “ کی عملی تصویر بنتے ہوئے ممکن ہے کہ قوم لوط میں شمار ہوکہ یہ سیکولر فکر خالصتاً ابلیس اور اس کے پیروکاروں کا راستہ ہے جس کا انجام بھڑکتی ہوئی آگ کی وادیاں ہیں اور جو اس نقصان سے بچنا چاہے اس کے لیے کل انبیاءعلیہم السلام کا طریقہ حیات موجود ہے جسے بہ سہولت حیات حیاداری کا نام دیا جاسکتا ہے کہ اس دنیامیں انسانوں سے حیا اور روز محشر اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر کے سامنے پیش ہونے کا خوف حیا ءاور شرم ہے۔