شرم و حیاء اور جدت پسندی (عالیہ زاہد بھٹی)
سپیدہ سحر کے پردے پر موہوم سی لکیر سرمگیں رات کو شفق میں ڈبو کر کائنات میں شرق سے غرب تک پھیلا دیتی ہے وہ اصل میں ”حیائ“ ہے ۔ لفظ شرم و حیا اصل میں سمع وطاعت سے جڑا ہے حیاءصفت فطرت کی جانب سے ودیعت کردہ ہے۔ جسے جنت سے نکالے جانے پر آدم وحوا کے پتوں کو اپنے تن پر لپیٹ لینا ان کی فطرت کی حیا نے سکھایا تھا۔ ہابیل اور قابیل کی لڑائی کے بعد قاتل کا مقتول کو دفنانے کی کوشش بھی حیاءتھی جسے فطرت نے سکھایا تھا۔
برادران یوسف کا یوسف کو کنویں ڈال کر شرمندہ خاطر نظر آنا بھی حیاءتھا، بازار مصر میں یوسف کو خرید کر اپنے گھر لے آنا بھی حیاءتھا، عزیز مصر کی بیوی کے دعوت گناہ پر یوسف کا انکار بھی حیاءتھا، نوح کی بیوی اور بیٹے کی سرکشی کے باوجود نوح کا کشتی والوں کی راہبری کرنا بھی حیاءتھا، موسیٰ کی پیدائش ،فرعون کے گھر آمد اور فرعون کی بیوی کا اس عظیم پیغمبر کی پرورش کرنا بھی حیاءتھا، موسیٰ کا طور پہ جاکر جلوہ انوار الہیٰ میں بیہوش ہو جانا بھی حیاءتھا، موسیٰ کا فرعون کے آگے پیغام ربی دینا بھی حیا ءتھا، مریم کی پاکیزگی اور ابن مریم کا آنا بھی حیاءتھا ، عیسیٰ کا اذن ربی سے مردوں کو زندہ کرنا،بیماروں کو شفاءدینا حیاءتھا،عیسیٰ کا صلیب پر چڑھ جانا بھی حیاءتھا، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ریاضت اور پہلی وحی پر کانپ جانا بھی حیاءتھا۔
بی بی خدیجہ کا اس کپکپاہٹ پر کمبل اوڑھا دینا بھی حیاءتھا ، تپتی ریت پر بلال حبشی کا احد احد پکارنا بھی حیاءتھا، پیاس کی شدت میں بھی اپنی پیاس سے بڑھ کر دوسرے کی پیاس بجھانے کی فکر میں شہید ہو جانا بھی حیاءتھا، طائف کی گلیوں میں زخموں سے چور ہو کر بھی دعا دینا حیاءتھا، نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح شہادت کی خبر پر مہر بہ لب ،راضی بہ رضا رہنا بھی حیاءتھا، شہادت حق کی خاطر حسین ابن علی کے خانوادے کا گردنیں کٹا دینا بھی حیاءتھا، اور آج جاہلیت کے علمبردار ملک بھارت کے انتہا پسندوں کے ہجوم میں اک صنف نازک کا نعرہ تکبیر کی صدا بلند کرنا بھی حیاءتھا، شرم وحیاءدراصل وہ ذمہ داری ہے کہ جو اس کائنات کے بنانے والے نے اس کائنات کے انسانی رگ و ریشے میں ڈال دیا کچھ اس طرح کہ مسلمان کا بچہ ہو یا غیر مسلم کا اس کے جسم پر اجنبی لمس سے رونگٹے کھڑے ہو جانا ہی فطرت میں موجود اس حیائ کی حقانیت کی دلیل ہے ۔
شرم وحیاءکے مقابلے میں لفظ، ” جدت پسندی“ اصل میں لغوی معنی میں بطور”ذہنیت پسندی“ کے استعمال ہوا ہے جدت پسندی اصل میں کسی بھی فرد واحد کی اپنی ذہنی اختراع اور کیفیت کا نام ہے جو ہر دور میں فطرت سے بغاوت سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہو جاتی ہے ۔
حضرت شہاب الدین سہروردی فرماتے ہیں کہ”اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کی تعظیم کے لئے روح کو جھکانا حیاءہے، حضرت اسرافیل اللہ تعالیٰ سے حیاءکی وجہ سے اپنے پروں سے خود کو چھپائے ہوئے ہیں اور اسی قبیل سے حضرت عثمان رضی اللہ کی حیاءہے فرماتے ہیں کہ ”میں اندھیری جگہ غسل کرتا ہوں تو اس وقت میں اللہ تعالیٰ سے حیاءکی وجہ سے سمٹ جاتا ہوں۔“ لوگوں سے شرما کر کسی ایسے کام سے رک جانا جو ان کے نزدیک اچھا نہ ہو مخلوق سے حیاءکہلاتا ہے، ( مروای المفاتیح ،برقم:5072,3173\8 ،بتغیرما)
اسی طرح حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں” اللہ کی نعمتوں کو دیکھنا اور اپنی کوتاہیوں کو دیکھنا بس ان دونوں کی طرف نظر کرنے سے جو حالت پیدا ہوتی ہے اس کا نام حیاء ہے۔“(شعب الایمان،برقم:7348,54,الحیاء 10\180)
شرم وحیاءکی ان ساری تعریفوں کے مقابل جب ہم لفظ جدت پسندی کو لیتے ہیں تو یہ محض چند افراد کے ٹولے کی اپنی حالت پسند کا نام جدت پسندی رکھ دیا گیا بقول شاعر
خرد کا نام جنوں،جنوں کا خرد رکھ دیا
یا دوسرے لفظوں میں
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
آج معاشرے میں جدت پسندی کے نام پر اصل سے بے اصل کی جنگ ہے،
جدت پسندی کے نام پر حق سے نا حق کا مزاج ہے
جدت پسندی کے نام پر بناو¿ سے بگاڑ کا سفر ہے
جدت پسندی کے نام پر اصل سے نقل کا چلن عام ہے
جدت پسندی کے نام پر حیاءاور اخلاقی اقدار کا کھلا قتل عام ہے
جسے آگے بڑھ کر روکنا ہوگا اس طوفان کے آگے بند باندھنے ہوں گے
اس نسل نو کو شرم و حیاءکے حقیقی معنی و مفاہیم سے آگاہ کرنا ہوگا
کہ شرم وحیاءدراصل تمہارے فطری رگ و ریشے میں سمائی ہوئی وہ خوش کن خوش قسمتی ہے جسے ابلیس کی حسد پسند طبع برداشت نہیں کر سکتی اور وہ آدم کی اولاد کو راہ سے بھٹکا کر جدت پسندی کے نام پر رو بہ زوال کر دیتا ہے ۔
اور
”میرا جسم میری مرضی“
” کھالے پی لے جی لے“
اور انہی جیسے ڈھیروں نعرے لگا کر انسان سے اس کا شرف آدمیت چھین لیتا ہے، آج ضرورت ہے ان جذبوں کی کہ جن کے ذریعے گراں خواب چینی سنبھلنے لگیں اور ہمالہ کے چشمے بھی ابلنے لگیں اقبال کا وہ خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے کہ
جوانوں کو سوز جگر بخش دے
میرا عشق میری نظر بخش دے