مختلف چھوٹی بڑی مشکلات اور پریشانیوں سے شروع ہونے والا سلسلہ، جو انسان کو رفتہ رفتہ ناامیدی اور مایوسی میں مبتلا کردے، ڈپریشن کہلاتا ہے۔ ڈپریشن کے شکار افراد تنہائی پسند ہوجاتے ہیں اور تنہا رہنے کے باعث مختلف سوچیں انہیں اس کیفیت سے باہر نہیں آنے دیتیں، نتیجتاً ایسے کئی افراد غلط راہ پر گام زن ہوجاتے ہیں۔ ماہرین ِنفسیات کے مطابق ڈپریشن ایک بیماری ہے، جس کا بروقت علاج کیا جانا ازحد ضروری ہے۔ ابتدائی مراحل میں انسان سستی اور بے زاری کا شکار ہوتا ہے لیکن وقت کے ساتھ یہ عوامل جڑ پکڑ لیتے ہیں اور انسان مکمل طور پر ڈپریشن میں چلا جاتا ہے اور اپنے اردگرد سے بے گانہ ہو جاتا ہے۔
علامات:
وقتی طور پر اداسی اور مایوسی کی کیفیت کا نام ڈپریشن نہیں بلکہ مستقل طور پر تنہائی پسند ہوجانا، بے زاری، منفی سوچ، منفی رویّے، احساس کمتری کا شکار ہوجانا، بے سکونی اور نیند کا نہ آنا، ڈپریشن کی علامات ہیں۔ ڈپریشن کے شکار افراد کی منفی سوچ ہی انہیں ناامیدی اور مایوسی کی جانب دھکیلتی ہے۔ ان میں اعتماد کی کمی ہونے لگتی ہے۔ قوتِ فیصلہ کم زور پڑ جاتی ہے۔ ذہن منفی سوچوں اور احساس کم تری کی آماج گاہ بن جاتا ہے۔ بعض اوقات ہم وقتی طور پر بدلتے رویے کو ڈپریشن سمجھ لیتے ہیں حالاں کہ ماہرین کے مطابق ڈپریشن کا شکار افراد ہفتوں اور مہینوں ان کیفیات کا شکار رہتے ہیں۔
وجوہ:
آج کے مشینی دَورکے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی خواہش نے انسان کو بھی مشین بنا دیا ہے، جو مقررہ اوقات پر اپنے تمام کام انجام دے کر رات کو تھک ہار کر سو جاتا ہے اور اگلے روز پھر اسی مِشن پر روانہ ہوجاتا ہے۔ وہ زندگی کا سکون، اپنوں کا ساتھ، کہیں کھو سا گیا ہے۔ ہم مستقبل کو بہتر بنانے میں اتنے مصروف ہوچکے ہیں کہ نہ صرف اپنے حال سے بے خبر ہیں بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں تک سے بے نیاز ہوچکے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ہم سے جڑے رشتے ہماری توجہ کے محتاج ہیں، ہم بہتر سے بہترین کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ نتیجتاً مختلف امراض کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ اکثریت ڈپریشن کا شکار ہوتی جارہی ہے۔ ہم دوسروں سے مقابلے میں اس قدر محو ہیں کہ اپنی مشکلات اور پریشانیاں دوسروں کو بتانے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ اندر ہی اندر ہماری ٹینشن ہمیں ختم کر رہی ہوتی ہے۔
کسی کو روزگار کی پریشانی ہے تو کوئی رشتوں کو لے کر پریشان نظر آرہا ہے۔ کوئی امتحانات کی وجہ سے پریشان ہے تو کوئی گھریلو ناچاقیوں کی بِنا پر ڈپریشن کا شکار ہے۔ کل کی فکر میں ہم اپنا آج برباد کر رہے ہیں اور افسوس اس بات کا ہے کہ ہمیں اس کی خبر تک نہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے بچے توجہ نہ ملنے کے باعث تنہائی اور ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ گھر سے توجہ نہ ملنے کے باعث وہ غلط صحبت میں اٹھنے بیٹھنے لگتے ہیں، جس کا نقصان بعد میں تمام اہل خانہ کو بھگتنا پڑتا ہے۔ کسی نہ کسی طرح ہم اپنے ہی ہاتھوں اپنا نقصان کر رہے ہیں۔
ہم کسی ریس کے گھوڑے کی طرح ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ میں لگے ہیں۔ آج اکثریت اپنے پاس نعمتیں، مال واسباب نہ ہونے پر نہیں بلکہ کسی دوسرے کے پاس اس کے موجود ہونے پر ڈپریشن کا شکار ہے۔ ہم نے مزید کی حرص میں آج کا سکون بھی تباہ کرلیا ہے۔ ہم شکر کرنے کے بجائے حسد کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج زیادہ سے زیادہ کے حصول کے لیے خود کو مشین بنانے پر آمادہ ہیں۔ جب ہم قناعت نہیں کریں گے، جو ہے اس میں خوش نہیں رہیں گے، کل کی فکر میں اپنا آج بھی خراب کریں گے تو ہم ڈپریشن ہی کا شکار ہوں گے۔
علاج:
ڈپریشن دراصل بے سکونی کا نام ہے، جب جسم اور دماغ کو مسلسل منفی سوچ اور ناامیدی کی کیفیت میں پُرسکون نیند میسّر نہیں آئے گی تو دماغ فریش نہیں ہوگا اور جب دماغ فریش نہیں ہوگا تو جسم بھی تھکاوٹ محسوس کرے گا، نتیجتاً چڑچڑاپن طبیعت پر غالب آئے گا۔ ڈپریشن کے شکار افراد کو چاہیے کہ جلد سے جلد معالج سے رابطہ کر کے مکمل علاج کروائیں اور رب تبارک وتعالیٰ کا ہر حال میں شُکر ادا کرنے کی عادت اپنائیں۔ شُکر ادا کرنے سے نہ صرف نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ انسان منفی سوچوں سے بھی چھٹکارا پا لیتا ہے۔
دیکھا گیا ہے کہ ڈپریشن کے شکار افراد بے سکونی ختم کرنے کے لیے نشہ آور ادویات کا استعمال کرتے ہیں، جن سے شاید وہ وقتی طور پر ہوش وخرد سے بے گانہ ہوکر سکون حاصل کر بھی لیتے ہوں لیکن پھر وہ بری طرح اس کے عادی ہو کر مزید کئی طرح کی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔
اگر ہم واقعی سکون کی تلاش میں ہیں اور ڈپریشن سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرنا ہوگا یعنی قرآن بتا رہا ہے کہ ”اور دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ہے“۔ ہم ذکر اللہ اور شُکر کو تھام لیں تو اس بے سکونی اور ڈپریشن سے بھی نجات حاصل کرلیں گے۔

