مضمون اور کالم یا آرٹیکل میں کیا فرق ہے۔؟ یہ سوال اکثر ہمارے لکھنے والوں کے دماغ میں گردش کرتا ہے۔ ان دونوں میں زیادہ فرق تو نہیں مگر فرق ضرور ہے۔ عموماً ان دونوں اصناف میں جو فرق بیان کیا جاتا ہے اس حوالے سے میں یہاں مختلف آراء بیان کی جائیں گی۔
مضمون نگاری
مضمون ایک باقاعدہ صنف ہے جس پر لکھا گیا سدا بہار ہوتا ہے۔ یعنی آپ جس موضوع پر قلم اٹھا رہے ہیں وہ ایسا ہو کہ جب بھی اس کو بیان کیا جائے تو پرانا نہ لگے بلکہ ہمیشہ حالات کے عین مطابق ہو۔
جیسے’’والدین کا احترام‘‘ ایک ایسا موضوع ہے جو آج بھی ہے، کل بھی ہوگا، 1 سال بعد اور 10سال بعد بھی ہوگا۔ والدین پر کسی بھی وقت لکھا جاسکتا ہے اور آج کا لکھا کل یا 10 سال بعد بھی ویسا ہی ہوگا جیسے اسی وقت لکھا گیا ہو۔ ایسے ہی پاکستان کی قدر، معاشرے کی اصلاح، انسان کی زندگی اور روز مرہ کے معمولات جیسے کئی موضوعات ہیں جو سدا بہار رہتے ہیں۔
آرٹیکل یا کالم نگاری
دوسری جانب آرٹیکل یا کالم کرنٹ (موجودہ) حالات کو بیان کرتا ہے۔ اس کی عمر مختصر ہوتی ہے۔ مثلاً سانحہ ساہیوال، ٹرین حادثہ، کتب میلا، پھولوں کی نمائش، سیاسی دھینگا مشتی، حکومتی ایجنڈے، الیکشن وغیرہ جیسے ٹاپک موضوع رہیں گے۔ یہ سب1 یا 2 دن، یا ایک ہفتے تک رہے پھر اس پر لکھا جانا بند ہوجاتا ہے۔ کسی بھی ایسے محدود نوعیت کے موضوع پر کوئی ایک مہینے بعد لکھے گا تو وہ عجیب محسوس ہوگا لیکن اس کو کالم کہا جاسکتا ہے۔
کچھ لوگ اس فرق کو یوں بھی بیان کرتے ہیں کہ مضمون تفصیلی ہوتا ہے اور کالم یا آرٹیکل مختصر ہوتا ہے۔ یعنی اس میں کرنٹ ایشو یعنی حالاتِ حاضرہ کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ جب کہ مضمون میں اس کے بعد، اس کے پہلے اور اطراف کے حالات کو بھی ذکر کردیا جاتا ہے۔
مضمون کیسے لکھیں؟
مضمون لکھنے کے لیے سب سے پہلے عنوان کا چناؤ کریں۔ عنوان کے چناؤ کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے پاس اس حوالے سےبیش بہا معلومات ہوں اور اگر نہیں ہیں تو ان معلومات کو جمع کر کے بیش بہا بنائیں۔
فرض کریں ایک عنوان آپ نے چنا مگر اس پر آپ کے پاس معلومات کا فقدان ہے یا پھر نہایت معمولی معلومات ہے۔ اس کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ میں لاہور میں رہتا یا رہتی ہوں اور کراچی پر لکھنا چاہ رہا/رہی ہوں۔ اب جب لکھنے بیٹھوں تو کیا ہوگا۔ میرے پاس سنی سنائی معلومات ہیں، مجھے کسی نے بتا یا تھا لیاری کراچی کا اہم ترین علاقہ ہے۔ میں نے سنا تھا مگر اب کچھ خاص یاد نہیں مگر پھر بھی میں نے لکھ دیا کہ لیاری کراچی کا اہم ترین علاقہ ہے۔ کسی نے نہاری بھی لکھ دیا۔ تو آپ کا یہ مضمون بجائے معلومات دینے کے مذاق کی وجہ بن جائے گا۔ اسی طرح کراچی میں چوک نہیں ہوتے چورنگیاں ہوتیں ہیں، پنجاب والا اس کو چوک لکھ دے گا تو اس کا اپنا ہی مذاق بنے گا۔
اگر معلومات نہیں تو اس کے لیے پہلے معلومات اکھٹی کریں۔ جب آپ ذاتی طور پر مطمئن ہوجائیں کہ سیر حاصل معلومات جمع کی ہے پھر اس کا مطالعہ کریں۔ پھر اس کو لکھنے بیٹھیں مگر کاپی پیسٹ ہرگز نہ کریں۔
مطالعے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ لینے ایک لفظ جاتے ہیں اور حاصل کرکے ذخیرہ آتے ہیں۔ جو آپ پڑھیں گے اس معلومات سے آپ کو فائدہ ہوگا اور پھر وہی بات اپنے الفاظ میں ترتیب دے کر جب آپ دوسروں تک پہنچائیں گے تو انہیں بھی فائدہ ہوگا۔ اس لیے پہلے پڑھ کر اور پھر اپنے دماغ سے سوچ کر لکھنا شروع کریں۔ اگر کاپی پیسٹ کریں گے تو اس کے کئی دیگر نقصانات کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہوگا۔
مثلاً کراچی کے ایک رائٹر نے کاپی پیسٹ کیا۔۔۔ لکھا حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ریلی نیپا چورنگی سے نکلی اور مال روڈ پر ختم ہوئی۔ اب نیپا چورنگی تو کراچی میں ہے جبکہ مال روڈ لاہور میں ہے۔ چونکہ اس نے کاپی کیا تھا جلدی میں شروع والا تو ہٹا دیا بعد والا نہ ہٹا سکا، دوسروں کو پتا تو چل ہی گیا مگر ساتھ میں کتنی بے عزتی بھی ہوگئی۔
ہر حال میں کاپی پیسٹ سے بچیں ۔ پڑھنے اور مطالعہ کرنے کا مطلب کاپی پیسٹ نہیں ہوتا بلکہ پڑھ کر اپنے الفاظ میں اس کو دماغ میں محفوظ کرنا اور پھر اس پر اپنے الفاظ میں لکھنا ہوتا ہے۔
اب مشق کرتے ہیں:
جس کے لیے ہم نے عنوان ’’تعلیم کے فوائد‘‘ کا انتخاب کر لیا۔
کوشش کر کے چالیس صفحات پڑھے اور معلومات کافی جمع کر لیں۔ معلومات کچھ مطالعہ سے اور کچھ وہ بھی جو اپنے مشاہدے سے بچپن سے اب تک حاصل کی تھی۔ تعلیم کو 4 حصوں میں تقسیم کریں۔ ابتدائی تعلیم، مڈل تعلیم، اعلیٰ تعلیم۔ چوتھی تعلیم ہے معاشرے اور ماحول کی تعلیم۔
ان پر ایک ایک پیرا گراف لکھنا ہے۔ جب لکھ لیں، اس کو جمع کریں۔
اب مندرجہ ذیل سوالات کو ذہن میں لائیں اور جوابات ڈھونڈیں۔
ابتدائی تعلیم میں کون کیاکرتا ہے، کیا کرنا چاہیے؟
مڈل میں کون کیا کرتا ہے، کیا کرنا چاہیے؟
اعلیٰ میں کون کیا کرتا ہے کیا کرنا چاہیے۔؟
سب کی ذمے داریاں کیا ہیں اور کیا ہونی چاہئیں۔؟
آخر میں ہمارا معاشرہ کیا سکھاتا ہے۔؟ اس تلخ حقیقت کا سامنا کیوں اور کیسے کرنا ہے؟ آئندہ اسی معاشرے کی فلاح کے لیے آپ کا اپنا کردار کیا ہونا چاہیے۔؟
تعلیم سے شعور تک کا سفر کیوں، کیسے اور کیا کے تحت واضح کریں۔
یہ سوالات اپنے عنوان سے نکالیں، ان پر سوچیں اور 1 یا 2 لائنوں کا جواب لکھیں۔ پھر تمام جوابات کو جوڑ کر لکھ لیں، یہ لیں جناب آپ کا مضمون تیار ہوگیا۔
اب اس مکمل مضمون کو خود سے دوبارہ پڑھیں۔ غلطیاں نکل رہی ہیں؟ یقیناً۔۔۔تو کوئی بات نہیں، ان کو درست کرلیں۔ اور تحریر کو ایک بار پھر پڑھیں۔ یعنی کم از کم تین بار پڑھ کر جب دل مطمئن ہوجائے تو دیر کس بات کی ہے اب ایڈیٹر کو ارسال کردیں۔

