Site icon Writers Club Pakistan

عورت حیا و حجاب کا پیکر

تحریر: صباء احمد

پچھلے دنوں میڈل ایسٹ کے ملک میں عبایے کے ساتھ کیٹ واک ہوئی خوبصورت ہینڈ بیگ عبایا پہنے خواتین پروقار اور خوبصورت لگ رہی تھیں گھریلو اور ورکنگ ویمن دونوں کے لیے سب سے اچھی بات اس کیٹ واک میں صرف باحجاب خواتین تھی کوئی مرد نہیں تھا. تو پر رونق تقریب لگی…

عورت جس کے معنی ہی چھپی یا ڈھکی ہوئی تو یہ لفظ حیا کے زمرے میں آکر بنتا ہے شرم یا جھجھک کراہت یا ناپسندیدہ عمل تامل اور بے چینی پیدا ہو تو حیا ہے……
شرم و حیا ایک سادہ سالفظ جو انسان دل میں کسی برے یا فحش کام یاخیال اور خلاف فطرت کام کے لیے رکاوٹ بنے برا کام کرنا درکنار اس کا محض خیال ہی دل کے اندر احتجاج پیدا کرے. مگر اس کا دینی مفہوم بہت گہرا اور بااثر ہے… پانچ
ارکان اسلام میں توحید اور ایمان باللہ کے بعد نماز ہے. اور حدیث ہے” کہ نماز ے حیائ سے روکتی بے” اور ایک اور حدیث میں ہے. ”
کہ مسلمان مردوں اور عورتوں سے کہو کے اپنی نگاہیں نیچی رکھیں. اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں. ”
حضور صہ نے فرمایا ”
حیا ایمان کا پھل ہے “(صحیع بخاری مسلم)
عورتوں کی زندگی میں اخلاقی خوبی کی بڑی اہمیت ہے مگر حیا مرد عورت دونوں کا وصف ہے. ایک لڑکے کے الفاظ ہیں کے میں بس اسٹاپ پر کھڑا تھا ایک خوبصورت لڑکی بوتیک کے لباس میں ملبوس ہاتھ میں فائلز وہ یقینا’دفتر سے واپس آ رہی تھی. اسٹاپ پر آئ اسے دیکھ کر میں خود کو نہ سنبھال سکا لا شعوری طور میں اس کا پیچھا کرتے بس پر سوار ہوا مسلسل میری. نظریں اس پر تھی جب اس کی منزل آئ وہ اتری تو بس اسٹاپ اس کی ماں اس کی منتظر تھی اس کے ہمراہ ہوگئ . اور ایک پرانے سے بوسیدہ گھر دروازے میں داخل ہوگئ. لڑکیاں کبھی مجبوری میں گھروں سےتکلتی ہے . پھر مجھے خیال آیا کے میری امی بھی تو میری بہن کو یونیورسٹی سی واپسی پر خود لینےجاتی ہیں اور میں بھی متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں . آج میں کسی کا پیچھا کر رہا ہوں کوئ میری بہن کا بھی پیچھا کرسکتا ہے شرمندگی ندامت کے اس احساس نے میرے جسم وجان کو پارہ پارہ کردیا. اور میں فورا”پلٹا ظہر کی نماز میں میں رو رو کر معافی مانگی….( سورۃ النور 31)” اوراپنی نگاہیں بچا کر رکھو “عورتوں کے لیے حکم ہے اے نبی
” مومن عورتوں سے کہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے کہ وہ خود ظاہر ہوجائے اور اپنےسینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچلڈالے رہیں وہ اپنے بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے (مکمل فہرست محرم رشتوں کی) وہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئ نہ چلا کریں کہ اپنی جو زہنت انھوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہو جائے. ”
(سورۃ النور 31:34)
ابھی میں اسرائیل کی درندگی سفاکیت نے غزہ کا حال دیکھیں کر دیا ہے. کیسے شہید کر رہے ہیں بچے سب سے زیادہ مرد اور عورت مگر ان کی حیا وحجاب قرآن سے محبت اور ایمان کی مضبوطی نے اہل مغرب کو حیرا ن کر دیا.کتنے لوگ مسلمان ہوئے ہیں حدیث ہے.”
کہ حیا اور ایمان ساتھ ساتھ ہیں. ”

شہید مروہ شیرینی جسی جرمن کی عدالت گولی مار کر شہید کیا گیا صرف اس کے حجاب کی پاداش میں اللہ کے حکم کی تعمیل اہل مغرب مشرقی عورت کے حجاب سے خائف ہیں. (سورۃ النساء 34)
“پس جو صالح عورتیں ہوتی ہیں وہ اطاعت گزار ہوتی ہیں.
“ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہتیجی حفصہرضہ اللہ عنہا بنت عبد الرحمن ملنے آئیں انہوں نے باریک سی اوڑھنی اوڑھے ہوئ تھی.
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی اوڑھنی پھاڑ دی انہیں واپس جاتے ہوئے ایک موٹی چادر اوڑھا دی.”
“حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہے کہ وہ عورتیں جو لباس پہنے ہوئے بھی عریاں ہیں. وہ خود بھی حق سے ہٹی ہوئ ہیں دوسروں کو بھی حق سے ہٹاتی ہیں وہ جنت میں داخل نہیں ہو. گی اور اس کی خوشبو بھی نہیں پائیں گی. حالانکہ جنت کی خوشبو پانچ سو برس کی مسافت سے آتی ہے. “(موطا)
اگرچہ عورت کی زندگی میں اخلاقی خوبی کی بڑی اہمیت ہے اور اسلام نے مرد اور عورت دو. وں کے ایمان کا جز حیا بنایا ہے.
مگر عورت کی زندگی میں اس کی بہت زیادہ ہے یہ وصف اس کے فطری مزاج کے قریب ہے. اور معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے. یہی مشرقیت ہے.
ہر عورت اسے بہتر طور پر خود محسوس کرسکتی ہے آج کا سوشل میڈیا مغربی انجیوز مشرقی عورت کو آزادی و برابری کے نعرے سے متعارف کراکر چادر چار دیواری سے مغرب کی عورت کی طرح محروم کر دینا چاہتی ہے. جبکہ حضور صہ نے کہا کہ ” یہ (عورت “) نازک آبگینےہیں” عورت خود بہتر محسوس کر سکتی ہے. عورت گھر کی ملکہ ہے…..
معاشروں کے عورج وزوال کے ادوار تاریخ کو بدلتے ہیں.
جب کسی کسی معاشرے نے اسے فطرت کے خلاف چلا کر اس کا استحصال کیا وہ معاشرہ زورال کا شکار ہوا. خواہ دنیا نے اسے مہزب و ترقی یافتہ معاشرہ کہا جیسے مغرب عیسائ رومی مصری اور یہودی .

اسلامی معاشرے میں شرم و حیا کا مقصد نیکی اور پھیلائی کو پھیلانا اور برائ اور بے حیائی پاک رکھنا ہے. یہ شیطان کا ابتدائ حربہ ہے.

حیا کی وسعت اور تقاضے پرانے وقتوں کی کہانیوں اور کہاوتوں سے سنی کے قدیم زمانے میں عورت کے سر سے دوپٹا اتر جاتا تو سورج بھی پردہ کرلیتا. اور بوڑھی عورتیں کنگھی کے نتیجے میں اترنے والے بالوں کی حفاظت کرتی حیا کی حدود ظاہر ہے شریعت مقرر کرتی ہے.
نماز حج وعمرے کے علاوہ مسلم عورت کے بال نظر نہیں آنے چاہیے.
.
اس مسلم عورت کو اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے کم از کم ان شرعی حدود کی پابندی کرنا لازم ہے. جو ستر، حجاب، غض و بصر اور دیگر معاملات میں بیان ہوئے.
ظاہر وباطن کی حیا مل کر ہی انسان کو پیکر انسانیت میں ڈالتی ہے. اسی لیے توکہا جاتا ہے حیا مرد کی زینت اور عورت کا زیور ہے . حیا کے مقصد کو سمجھ کر اس کا اپنے زندگیوں میں اطلاق کریں.

Exit mobile version