Site icon Writers Club Pakistan

عورت حیا وحجاب کا پیکر

تحریر: اسماء معظم، کراچی
اسلام کی نظر میں عورت تعمیر ملت کے لئے درکار ایک اہم اینٹ ہے، خاندان کے حقوق کےلئے ایک بنیاد ہے اور امت کی ترقی میں نمایاں کردار کی حامل ہے۔ اسلام نے اس آبگینے کی حفاظت کا بھی بخوبی انتظام کیا ہے۔ حیا کو ایمان کا لازمی جزو قرار دے کر اللہ کے نبی ص نے فرمایا کہ الحیا شعبہ من الایمان (بخاری)،” حیا ایمان کا حصہ ہے۔“حیا اور حجاب لازمی جزو ہیں۔ حیا ایک صفت ہے اور حجاب اس کا ردعمل ہے، حیا کے بارے میں ابودائود کتاب الجہاد میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ ’’ایک خاتون ام خلاد کا ایک لڑکا ایک جنگ میں شہید ہوگیا تھا وہ اس کے متعلق دریافت کرنے کے لئے نبی کریم ص کے پاس آئیں مگر اس حال میں بھی چہرے پر نقاب پڑی ہوئی تھی۔ بعض صحابہ نے حیرت کے ساتھ کہا کہ تمہارے چہرے پر نقاب ہے؟ یعنی بیٹےکی شہادت کی خبر سنکر تو ایک ماں کو تن بدن کا ہوش نہیں رہتا اور تم اس حالت میں بھی با پردہ آئی ہو۔ جواب میں کہنے لگیں،”میں نے بیٹا تو ضرور کھویا ہے مگر اپنی حیا نہیں کھوئی۔“
حیا کے ضمن میں پہلی چیز نظر یا نگاہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا: ”نگاہ ابلیس کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ جو شخص خدا کے ڈر سےاس کو چھوڑ دے گا میں اس کے بدلے اسے ایسا ایمان دوں گا جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں پائے گا۔“
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہے عورت اس معاشرے کی بقا اور تحفظ کی ضامن ہے۔ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جس میں ھمارے لئے اسلام کی رہنمائی اور ہدایات موجود نہ ہوں ہمارا یقین ہے کہ پوری انسانیت کی بھلائی اور فلاح اسلام کے ان زریں اصولوں پر عمل کر نے ہی میں ہے۔ اسلام کا نظام عفت و عصمت نہ صرف عورت بلکہ پورے معاشرے کی بقا اور تحفظ کا ضامن ہے۔ اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو غض بصر اور حجاب کا جو واضح حکم دیا ہے اسکی پاسداری کے بغیر معاشرے کو محفوظ نہیں بنایا جاسکتا۔پردہ یا حجاب اسلام کے عفت وعصمت کا ایک جزو ہے جس کی بنیاد ایمان ا ور روح حیا ہے۔
ہر سال کا 4ستمبر عالمی یوم حجاب پاکستانی عورت کے لئے اس عزم کا اعادہ ہے کہ وہ اپنے وقار کے تحفظ کے لئے با شعور ہے۔ اپنی نسوانییت کی قیمت لگانا اپنی توہین سمجھتی ہے۔ لباس اور تہذیب کے معاملے میں بے حد حساس ہے۔ یوم حجاب معاشرے میں عورت کی تقدیس اور حرمت کی علامت ہے اور اس کی حیا
کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے متحرک کردار کا عزم ہے۔
حیا اسلامی زندگی کا وہ باب ہے جس میں داخل ہوئے بغیر نہ خدا کی رضا کا حصول ممکن ہے نہ حضورص کی شفاعت کی امید کی جا سکتی ہے نہ ہی دنیا کی ز ندگی میں اطمینان اور حفاظت ممکن ہے۔
Exit mobile version