Site icon Writers Club Pakistan

عورت کی آزادی یا تباہی

تحریر: مدیحہ مدثر، کراچی

ایک عجیب سی بحث ہے جو ہر کچھ دن بعد زور پکڑ لیتی ہے اور سب اپنی اپنی عقل کے مطابق اس پر تبصرا کرنے لگ جاتے ہیں اب چاہیے آپ کے پاس معلومات ہوں یا نہیں لیکن بولنا ضروری سمجھا جاتا ہے اور ان کو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کے غلط ڈائے دینے سے کسی معاشرے کو کتنے بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔
ابھی پھر ایک بحث نظر سے گزری جو کوئی نئی نہیں اس بحث کو اکثر اٹھایا جاتا ہے کے گھر داری یا کچن عورت کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور وہ اپنی پوری زندگی اس کچن میں اپنے شوہر، بچوں اور سسرال والوں کے لئے کھانے پکاتی اور فرمائشیں پوری کرتی گزار دیتی ہے ۔
جبکہ حقیقت کی نظر سے دیکھیں تو ایسا کچھ بھی نہیں چند ایک خواتین ہیں جو کسی جبری ظلم کا شکار ہیں ان کے ساتھ تو ہمدردی بھی ہے اور قانونی عمل بھی ہونا چاہیے لیکن یہ بحث صرف ان کے لئے نہیں ہوتی بلکہ اس میں تمام خواتین کو شامل کیا جاتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کا ایک نظام بنایا ہے جہاں ہر ایک اپنا کام سر انجام دیتا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو سب کو ایک برابر پیسہ عقل اور وسائل فراہم کردیتے اور مرد و عورت کی دو جنس بھی نا بناتیں لیکن ظاہر ہے اس دنیا کا نظام پھر نہیں چل سکتا تھا آپ ایک بات تصور کریں کے سب ہی کمپنی کے مالک ہوں تو جو ورکرز انتہائی محنت طلب کام کرکے پوری کمپنی چلارہے ہوتے ہیں پھر وہ سارے کام کیا خود کمپنی کا مالک کریں گا؟ اور جو گٹر صاف کرنے والے جھاڑو لگانے والے اور اس طرح کے بے حد کام ہیں کیا ہر فرد اپنے لئے الگ الگ کرسکتا ہے ؟ اور ایسی صورتحال میں کیا لوگ مل کر رہ سکتے ہیں ؟ ظاہر ہے نہیں ایک انسان سارے کام کیسے کرسکتا ہے اور اکیلے سب سے کٹ کر زندگی گزارنا بھی مشکل کام ہے تو پھر مرد اور عورت کو مدمقابل کیوں کھڑا کیا جاتا ہے؟ مرد کو خاندان کا قوام بنایا ہے اور عورت کی ذمہ داری ہی اسکا گھر اور بچیں ہیں یہ الگ بات ہے کے وہ اپنی خوشی یا ضرورت کے تحت نوکری بھی کرسکتی ہے لیکن مجھے ایک بات یہ نہیں سمجھ آتی کے کیا ملازمت کے دوران دوسروں کے حکم نہیں ماننے پڑتے وہاں کچھ رقم کے لئے غیروں کی غلامی بھی کرتی ہے اور اس کا گھر، خاندان اور بچے بھی تباہ ہوتے ہیں جبکہ گھر میں وہ خود مالکن ہوتی ہے اپنے شوہر یا ساس سسر کی فرمائش کچن میں کھانا بھی بناتی ہے تو ساتھ میں اپنے لءے بھی من چاہا پکاتی کھاتی ہے اور اس کی تمام ضروریات اس کا شوہر پوری کرتا ہے اس کے بعد بھی پیسے مانگ لیتی ہے اور اپنی فرمائشیں بھی شوہر سے پوری کروالیتی ہے لیکن ساتھ ہی اسکا گھر خاندان بھی آباد رہتا ہے اور بچوں کی اچھی تربیت بھی کرسکتی ہے۔
لیکن پھر بھی خواتین کے حقوق کے نام پر ان کو تباہی کا راستہ دکھایا جاتا ہے اور اس کو ترقی کا نام دے دیا جاتا ہے جبکہ اس تباہی بھرے راستے میں صرف خواتین ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے پوری قومیں تباہ ہوجاتی ہیں۔

madihamudassir@gmail.com

Exit mobile version