اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نقصان اٹھانے والے ادارے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو 31 جولائی 2025 تک مکمل طور پر بند کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت ادارے کے تمام 11,421 ملازمین کو سنہری مصالحتی اسکیم (گولڈن ہینڈ شیک) کے تحت فارغ کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے، جس پر ابتدائی تخمینے کے مطابق 29 ارب روپے سے زائد لاگت آئے گی۔ تاہم یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ یہ پیکیج تمام ملازمین کو دیا جائے گا یا صرف 5,217 مستقل ملازمین تک محدود رکھا جائے گا۔
یہ معاملہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کے اجلاس میں زیر غور آیا، جس کا مقصد یو ایس سی کی بندش اور ممکنہ نجکاری کے عمل کو شفاف انداز میں مکمل کرنا ہے۔ اجلاس میں ملازمین کے لیے رضاکارانہ علیحدگی اسکیم (VSS)، اس کی مالی لاگت، قانونی و انتظامی پہلوؤں، اور اس کے نفاذ کے ممکنہ طریقہ کار پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔
یو ایس سی کے مالی حالات نہایت خراب ہو چکے ہیں۔ وزارت خزانہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق صرف رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران ادارے کو 6.1 ارب روپے کا آپریٹنگ خسارہ ہوا۔ دسمبر 2024 تک مجموعی خسارہ 15.9 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا جبکہ ادارے کے اثاثے محض 1.8 ارب روپے اور واجبات 50.7 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یو ایس سی کا ماڈل سبسڈی پر انحصار کرتا ہے، جو کہ نہ صرف غیر پائیدار ہے بلکہ مسلسل حکومتی مالی وسائل پر بوجھ بھی بن چکا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق 20 سال یا اس سے زائد سروس رکھنے والے مستقل ملازمین کو ہر مکمل سال کے بدلے دو بنیادی تنخواہیں دی جائیں گی، جبکہ 20 سال سے کم سروس والے ملازمین کو یا تو تین بنیادی تنخواہیں یا بقیہ سروس مہینوں کی 125 فیصد بنیادی تنخواہ دی جائے گی، جو بھی زیادہ ہو۔ اس کے علاوہ، مستقل ملازمین کو ٹرمینل واجبات اور ہاؤس رینٹ کی مد میں بھی ادائیگیاں کی جائیں گی۔
کنٹریکٹ ملازمین کے لیے ہر مکمل سال کی سروس کے بدلے دو تنخواہوں کی ادائیگی کی تجویز ہے، جس پر 3.5 ارب روپے، جبکہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کے لیے 2.9 ارب روپے کی لاگت متوقع ہے۔
اجلاس میں یہ بات بھی زیر بحث آئی کہ ادارے کے اثاثے، جن میں 21 جائیدادیں شامل ہیں، ممکنہ طور پر فروخت کیے جا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی یو ایس سی کو وزارت خزانہ سے واجب الادا 50 ارب روپے کی سبسڈی کی عدم ادائیگی بھی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے، جو ادارے کی نقدی کی صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ نجکاری کمیشن سے مشاورت کے بعد ادارے کی نجکاری یا اثاثہ جات کی فروخت کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔ وزیر خزانہ کی ہدایت پر اس مقصد کے لیے ایک ذیلی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے، جس کی سربراہی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کریں گے۔ اس میں وزارت خزانہ اور وزارت صنعت و پیداوار کے نمائندے شامل ہوں گے جو VSS کی قانونی، انتظامی اور مالیاتی پہلوؤں کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کریں گے۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق ادارے کی سیلز میں گزشتہ سال کی نسبت 50 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی ہے، جو اس کی مارکیٹ میں مسابقت کی صلاحیت پر سوالیہ نشان ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب تک ادارے میں ساختی اصلاحات، سپلائی چین کی ڈیجیٹلائزیشن، سبسڈی کے براہِ راست منتقلی کا نظام اور تھوک ماڈل جیسے اقدامات نہیں کیے جاتے، یہ ادارہ خود کفیل نہیں بن سکتا اور مسلسل قومی خزانے پر بوجھ بنا رہے گا۔

